افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد پیچھے رہ جانے والے جدید فوجی سازوسامان کا دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھوں میں جانا اور پاکستان میں سکیورٹی خدشات کا باعث بننا ایک انتہائی تشویشناک صورت حال ہے۔ اس موضوع پر عالمی اداروں، بالخصوص اقوام متحدہ اور سگار کی رپورٹس نے اس حقیقت کو بے نقاب کیا ہے کہ کس طرح یہ مہلک ہتھیار کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر گروہوں تک پہنچے۔
امریکی انخلا اور سامان
سال 2021 میں امریکی افواج کے انخلا کے وقت افغانستان میں تقریباً 7.12 ارب ڈالر مالیت کا فوجی سازوسامان موجود تھا جو بعد ازاں طالبان کے قبضے میں چلا گیا۔ اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن کی جولائی 2023 کی رپورٹ کے مطابق اس سازوسامان میں ایک لاکھ 67 ہزار 550 رائفلیں، 41 ہزار 500 مشین گنز، 265 مارٹر اور 40 ہزار سے زائد فوجی گاڑیاں شامل تھیں جن میں تقریباً 12 ہزار ہموی گاڑیاں بھی موجود تھیں۔
دہشت گردوں تک جدید ہتھیاروں کی رسائی
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ (ایس/2024/92) اور اپریل 2025 کی سگار رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ٹی ٹی پی سمیت مختلف دہشت گرد گروہوں نے سابق افغان سکیورٹی فورسز کے لیے فراہم کردہ جدید ہتھیاروں تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ ان ہتھیاروں میں ایم 24 اسنائپر رائفلیں، ایم 4 کاربائنز اور ایم 16 اے 4 رائفلیں شامل ہیں، جن میں سے کئی جدید آپٹیکل اور تھرمل آلات سے بھی لیس ہیں۔
پاکستان میں برآمدگی
پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران بڑی تعداد میں یہ امریکی ساختہ ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 2025 تک سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں سے 293 امریکی ساختہ ہتھیار اور آپٹیکل آلات برآمد کیے جن میں 208 ایم 16 رائفلیں، 53 ایم 4 رائفلیں، 7 مشین گنز، 4 اسنائپر رائفلیں اور 21 دیگر آپٹیکل آلات شامل ہیں۔
مزید برآں، واشنگٹن پوسٹ کی 2025 کی ایک تحقیق میں بھی اس بات کی تصدیق کی گئی کہ پاکستان میں ضبط کیے گئے کم از کم 63 ہتھیاروں کے سیریل نمبرز کا تعلق ان ہتھیاروں سے تھا جو 2021 سے پہلے امریکا نے افغان فورسز کو فراہم کیے تھے۔
بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز
نائٹ ویژن ڈیوائسز، تھرمل آپٹکس، لیزر سائٹس اور مواصلاتی آلات کی دستیابی نے دہشت گردوں کی صلاحیتوں کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔ ان جدید آلات کی وجہ سے دہشت گردوں کے لیے رات کے وقت نگرانی، نقل و حرکت اور اہداف کو نشانہ بنانا آسان ہو گیا ہے، جس سے سکیورٹی فورسز کے لیے انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں مزید پیچیدہ اور کٹھن ہو گئی ہیں۔
حملوں میں اضافہ
افغانستان میں اس وقت 20 سے زائد بین الاقوامی اور علاقائی دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں جبکہ ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی تعداد 6 ہزار سے 6 ہزار 500 کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ ان گروہوں کی موجودگی، تربیتی مراکز اور سرحد پار حملوں کے باعث پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا۔
پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی تعداد 2021 میں 89 سے بڑھ کر 2025 میں 699 تک پہنچ گئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں ایک ہزار 378 افراد جاں بحق اور 2 ہزار 672 زخمی ہوئے، جبکہ 2026 کے دوران بھی ایک ہزار 327 ہلاکتیں اور 2 ہزار 484 زخمیوں کے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔
لائحہ عمل
افغانستان میں چھوڑے گئے فوجی سازوسامان کی غیر قانونی اسمگلنگ اور دہشت گردوں کے زیرِ استعمال آنے کا یہ معاملہ خطے کے امن کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ پاکستان کی سلامتی کے پیش نظر سرحدی نگرانی کو مزید موثر بنانے، ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو توڑنے، دہشت گردوں کی مالی اور لاجسٹک معاونت ختم کرنے اور موثر علاقائی تعاون کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔





