"> گرد و غبار کے طوفانوں سے نمٹنے کے لیے ازبکستان اور چین کا ابتدائی انتباہ کا نظام متعارف کروانے کی تیاری - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

گرد و غبار کے طوفانوں سے نمٹنے کے لیے ازبکستان اور چین کا ابتدائی انتباہ کا نظام متعارف کروانے کی تیاری

ازبکستان نے ‘گرین یونیورسٹی’ میں چینی اکیڈمی آف سائنسز کے اشتراک سے صحرا زدگی کے خاتمے اور صحرائی معیشت کی ترقی کے لیے قائم کردہ ‘سینٹرل ایشین ریجنل ریسرچ سینٹر’ کے لیے چین کے تکنیکی تعاون کو بھرپور سراہا، جو زمین کی زرخیزی کی بحالی اور تحقیق کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔
ازبکستان اور چین

ازبک وفد نے ملاقات کے دوران چین کے موسمیاتی سیٹلائٹ سسٹمز سے استفادہ کرنے، ماحولیاتی مانیٹرنگ سینٹرز کے طریقہ کار کو سمجھنے، ہوا اور پانی کے معیار کی جانچ کے لیے مشترکہ لیبارٹری کے قیام اور ماحولیات پر ایک بین الاقوامی فورم کے انعقاد کی تجاویز بھی پیش کیں۔

May 15, 2026

تاشقند: ازبکستان اور چین نے ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک مل کر گرد و غبار اور ریت کے طوفانوں سے قبل از وقت آگاہی دینے والا ‘ارلی وارننگ سسٹم’ تیار کریں گے۔ ازبکستان کی قومی کمیٹی برائے ماحولیات اور ماحولیاتی تبدیلی کے مطابق، یہ اہم فیصلہ ایک علاقائی ماحولیاتی کانفرنس کے موقع پر ماحولیاتی امور کے لیے ازبک صدر کے مشیر عزیز عبدالحکیموف اور چین کے وزیرِ ماحولیات ہوانگ رن کیو کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون اب محض گفت و شنید تک محدود نہیں رہا بلکہ عملی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ازبکستان نے ‘گرین یونیورسٹی’ میں چینی اکیڈمی آف سائنسز کے اشتراک سے صحرا زدگی کے خاتمے اور صحرائی معیشت کی ترقی کے لیے قائم کردہ ‘سینٹرل ایشین ریجنل ریسرچ سینٹر’ کے لیے چین کے تکنیکی تعاون کو بھرپور سراہا، جو زمین کی زرخیزی کی بحالی اور تحقیق کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔

چینی وزیرِ ماحولیات ہوانگ رن کیو کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کا اشتراکِ عمل پہلے ہی ٹھوس نتائج دے رہا ہے، جس کی واضح مثال چینی سرمایہ کاروں کی جانب سے ازبکستان میں کچرے سے بجلی پیدا کرنے والے 11 پلانٹس کی جاری تعمیر ہے۔ ازبک وفد نے ملاقات کے دوران چین کے موسمیاتی سیٹلائٹ سسٹمز سے استفادہ کرنے، ماحولیاتی مانیٹرنگ سینٹرز کے طریقہ کار کو سمجھنے، ہوا اور پانی کے معیار کی جانچ کے لیے مشترکہ لیبارٹری کے قیام اور ماحولیات پر ایک بین الاقوامی فورم کے انعقاد کی تجاویز بھی پیش کیں۔

چین نے ان تمام تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان پر فوری عملی کام شروع کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس معاہدے کے تحت چین نہ صرف گرد و غبار کے طوفانوں سے نمٹنے کا اپنا کامیاب تجربہ اور ٹیکنالوجی ازبکستان کو منتقل کرے گا، بلکہ اپنے ماہرین اور سائنسدانوں کو بھی تربیت کے لیے تاشقند بھیجے گا، جبکہ ازبک ماہرین کو جدید تربیت کے لیے چین کا دورہ کرایا جائے گا تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا پائیدار مقابلہ کیا جا سکے۔

دیکھئیے:پاکستان اور آذربائیجان کا تجارتی اور توانائی سمیت اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے کا عزم

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *