وزیراعظم نے اپنے بیان میں ایران سے بھی جذبہ خیرسگالی کے تحت آبنائے ہرمز کو دو ہفتوں کیلئے کھولنے کی اپیل کی تھی، جبکہ تمام فریقین پر زور دیا تھا کہ وہ عارضی جنگ بندی پر آمادہ ہوں تاکہ مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔

April 8, 2026

امریکی صدر سے درخواست کی کہ سفارتکاری کو مؤثر بنانے کیلئے ڈیڈ لائن میں کم از کم دو ہفتوں کی مہلت دی جائے تاکہ جاری مذاکرات کو نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔

April 8, 2026

ایران کی جانب سے مذاکرات سے انکار پاکستان سمیت دیگر ممالک کی جاری ثالثی کوششوں کیلئے بڑا دھچکا ہے، جبکہ خطے میں امن کی کوششیں پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔

April 7, 2026

حکام کے مطابق پاکستان فلسطین کے مسئلے کے منصفانہ اور دیرپا حل کیلئے اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے اور ہر سطح پر فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھے گا۔

April 7, 2026

جیسے ہی دونوں فریق مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے قریب پہنچے، اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ایران نے سعودی عرب کے شہر الجبیل میں آئل تنصیبات کو نشانہ بنایا، اور اس تمام صورتحال نے امن عمل کو شدید نقصان پہنچایا۔

April 7, 2026

یہ مسودہ بحرین کی جانب سے پیش کیا گیا تھا اور اسے خلیجی ممالک اور مغربی طاقتوں کی حمایت حاصل تھی، تاہم روس اور چین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس طرح کی قرارداد خطے میں مزید کشیدگی اور ممکنہ فوجی کارروائیوں کا جواز بن سکتی ہے۔

April 7, 2026

وائٹ ہاؤس: ٹرمپ شہباز شریف کی اپیل سے آگاہ، ردعمل جلد متوقع؛ ایران بھی غور میں مصروف ہے

وزیراعظم نے اپنے بیان میں ایران سے بھی جذبہ خیرسگالی کے تحت آبنائے ہرمز کو دو ہفتوں کیلئے کھولنے کی اپیل کی تھی، جبکہ تمام فریقین پر زور دیا تھا کہ وہ عارضی جنگ بندی پر آمادہ ہوں تاکہ مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔
ٹرمپ اپیل سے آگاہ ہین

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے امریکی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ صدر ٹرمپ پاکستانی وزیراعظم کی درخواست سے باخبر ہیں اور اس پر غور کیا جا رہا ہے۔

April 8, 2026

واشنگٹن/اسلام آباد: وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے کی گئی اپیل سے آگاہ ہیں اور اس پر جلد ردعمل دیا جائے گا، جبکہ ایران نے بھی اس تجویز کا جائزہ شروع کر دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے امریکی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ صدر ٹرمپ پاکستانی وزیراعظم کی درخواست سے باخبر ہیں اور اس پر غور کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب سینئر ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران بھی وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے، جس سے سفارتی پیش رفت کے امکانات ظاہر ہو رہے ہیں۔

واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر سے ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کی درخواست کی تھی تاکہ جاری سفارتی کوششوں کو کامیاب بنایا جا سکے۔

وزیراعظم نے اپنے بیان میں ایران سے بھی جذبہ خیرسگالی کے تحت آبنائے ہرمز کو دو ہفتوں کیلئے کھولنے کی اپیل کی تھی، جبکہ تمام فریقین پر زور دیا تھا کہ وہ عارضی جنگ بندی پر آمادہ ہوں تاکہ مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی یہ تجویز خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے، جس پر امریکا اور ایران کے ردعمل کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

دیکھئیے:ایران کے انکار کے بعد وزیراعظم کی ٹرمپ سے ڈیڈ لائن میں دو ہفتے توسیع کی درخواست، ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ

متعلقہ مضامین

امریکی صدر سے درخواست کی کہ سفارتکاری کو مؤثر بنانے کیلئے ڈیڈ لائن میں کم از کم دو ہفتوں کی مہلت دی جائے تاکہ جاری مذاکرات کو نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔

April 8, 2026

ایران کی جانب سے مذاکرات سے انکار پاکستان سمیت دیگر ممالک کی جاری ثالثی کوششوں کیلئے بڑا دھچکا ہے، جبکہ خطے میں امن کی کوششیں پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔

April 7, 2026

حکام کے مطابق پاکستان فلسطین کے مسئلے کے منصفانہ اور دیرپا حل کیلئے اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے اور ہر سطح پر فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھے گا۔

April 7, 2026

جیسے ہی دونوں فریق مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے قریب پہنچے، اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ایران نے سعودی عرب کے شہر الجبیل میں آئل تنصیبات کو نشانہ بنایا، اور اس تمام صورتحال نے امن عمل کو شدید نقصان پہنچایا۔

April 7, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *