چین کے لیے ترکستان اسلامک پارٹی خاص تشویش کا باعث ہے، جو شامی جنگ کا تجربہ رکھنے والا ایغور عسکری نیٹ ورک ہے اور جسے بیجنگ سنکیانگ کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھتا ہے، حالانکہ چین کی افغانستان کے ساتھ سرحد محض 76 کلومیٹر ہے۔

February 10, 2026

بلوچستان میں بسوں سے مسافروں کو اتار کر شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد قتل کے واقعات نے ملک بھر میں شدید تشویش پیدا کر دی، متاثرہ خاندانوں اور عوام نے دہشت گردوں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کرنے کا مطالبہ کردیا

February 10, 2026

فوج میں صوبائی نمائندگی کے حوالے سے میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے محمود اچکزئی کے مؤقف کو مسترد کر دیا

February 10, 2026

کورٹ آف آربیٹریشن (پی سی اے) نے بھارت کو بگلیہار اور کشینگنہ منصوبوں کا عملی ڈیٹا فراہم کرنے کا حکم دیا، مگر 9 فروری 2026 کی ڈیڈ لائن کے باوجود نئی دہلی خاموش رہا، جو انڈس واٹرز ٹریٹی کی تعمیل میں غیر ذمہ دارانہ رویے اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کو ظاہر کرتا ہے۔

February 10, 2026

افغانستان کی سرحدی دخل اندازی اور دہشت گردی کے واقعات نے خطے میں خطرات بڑھا دیے ہیں، تاجکستان کو جدید ہتھیار فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جبکہ طالبان حکومت دہشت گرد گروپوں کے لیے محفوظ ٹھکانہ بن چکی ہے

February 10, 2026

وہ افراد جو بار بار “لاپتہ” قرار دیے جاتے رہے، حقیقت میں گمشدہ نہیں بلکہ بی ایل اے اور بی ایل ایف کی مسلح کارروائیوں میں سرگرم چھپے ہوئے دہشت گرد ہیں

February 10, 2026

طالبان وسطی ایشیا میں انتہاپسندی کو روکنے میں ناکام، بلکہ اس کے پھیلاؤ میں معاون ثابت ہو رہے ہیں

چین کے لیے ترکستان اسلامک پارٹی خاص تشویش کا باعث ہے، جو شامی جنگ کا تجربہ رکھنے والا ایغور عسکری نیٹ ورک ہے اور جسے بیجنگ سنکیانگ کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھتا ہے، حالانکہ چین کی افغانستان کے ساتھ سرحد محض 76 کلومیٹر ہے۔
طالبان وسطی ایشیا میں انتہاپسندی کو روکنے میں ناکام، بلکہ اس کے پھیلاؤ میں معاون ثابت ہو رہے ہیں

یہ ابھرتا ہوا علاقائی بحران مغرب کے لیے بھی اہم ہے۔ اسے نظرانداز کرنا انتہا پسند نیٹ ورکس کو دوبارہ منظم ہونے، جغرافیائی سیاسی شراکت داریوں کو نقصان پہنچانے، انسانی بحران اور مہاجرین کے نئے سلسلے، عالمی معاشی مفادات میں خلل اور انسدادِ دہشت گردی کی حاصل کردہ کامیابیوں کے زیاں کا باعث بن سکتا ہے۔

February 10, 2026

افغانستان میں طالبان نہ صرف انتہاپسندی کو قابو میں رکھنے میں ناکام نظر آتے ہیں بلکہ عملی طور پر وسطی ایشیا میں شدت پسندی کے پھیلاؤ میں مددگار بھی بن چکے ہیں۔ 19 جنوری 2026 کو کابل میں ایک چینی ریسٹورنٹ پر داعش سے منسلک خودکش حملے میں سات افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایک چینی شہری بھی شامل تھا۔ اگرچہ اس واقعے کو عالمی سطح پر محدود توجہ ملی، تاہم اس نے افغانستان میں سرگرم عسکریت پسند گروہوں کے مسلسل خطرے کو نمایاں کر دیا۔

یہ خطرہ اب افغانستان کی سرحدوں تک محدود نہیں رہا۔ پڑوسی ممالک اس حقیقت کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ طالبان کی جانب سے برداشت کیے جانے یا مؤثر طور پر قابو نہ کیے جانے والے گروہوں کی سرحد پار کارروائیوں کے باعث پاکستان، تاجکستان اور چینی مفادات کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ بظاہر استحکام کا تاثر درحقیقت ایک بڑھتے ہوئے علاقائی سکیورٹی بحران میں تبدیل ہو چکا ہے۔

جمہوری دور میں وزارتِ تعلیم کے ساتھ رجسٹرڈ مدارس کی تعداد تقریباً 13 ہزار تھی اور طلبہ کی تعداد 15 لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ آج یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 23 ہزار مدارس تک پہنچ چکی ہے جبکہ طلبہ کی تعداد دگنی ہو چکی ہے۔ یہ اعداد و شمار طالبان کے دور میں نظریاتی تعلیم کے غیر معمولی پھیلاؤ کی عکاسی کرتے ہیں۔

اس کے باوجود مغربی دارالحکومت طالبان حکومت کو زیادہ تر ایک اخلاقی مسئلے کے طور پر دیکھتے ہیں، نہ کہ ایک براہِ راست سکیورٹی خطرے کے طور پر۔ مغرب اب بھی “انسانی ہمدردی” کے نام پر طالبان کو ہفتہ وار رقوم فراہم کر رہا ہے اور ان کے ساتھ عملی نوعیت کا رابطہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اگرچہ یورپ اور شمالی امریکا طالبان کے خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ سلوک پر تنقید کرتے ہیں، مگر افغانستان کو اب وسیع پیمانے پر مغرب کے لیے دہشت گردی کا براہِ راست خطرہ تصور نہیں کیا جاتا۔

اگست 2021 میں طالبان کی واپسی کے بعد یورپ یا امریکا میں کوئی بڑا حملہ براہِ راست افغان سرزمین سے منسلک ثابت نہیں ہو سکا۔ اسی بنیاد پر کئی مغربی پالیسی ساز یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ طالبان سرحد پار جہادی سرگرمیوں کو روکنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ طالبان واقعی ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتے بھی ہیں یا اس کا ارادہ ہی نہیں رکھتے۔

جنوبی اور وسطی ایشیا میں صورتحال یکسر مختلف ہے۔ ان خطوں میں افغانستان سے جڑی دہشت گرد سرگرمیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ علاقائی حکومتیں طالبان پر الزام عائد کرتی ہیں کہ وہ پاکستان، تاجکستان اور چینی مفادات کو نشانہ بنانے والے گروہوں کو برداشت کرتے ہیں، بلکہ بعض صورتوں میں تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں۔

پاکستان اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ افغان سرزمین مبینہ طور پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے، جس نے 2023 کے بعد پاکستان میں سینکڑوں حملے کیے۔ پاکستانی حکام کے مطابق ٹی ٹی پی کی قیادت، تربیتی مراکز اور لاجسٹک نیٹ ورکس مشرقی افغانستان میں کھلے عام کام کر رہے ہیں۔ صرف 2025 میں پاکستان نے افغان سرزمین سے متعدد بڑے دراندازی کے واقعات اور 80 سے زائد سرحدی جھڑپیں رپورٹ کیں، جو 2670 کلومیٹر طویل سرحد کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔

خیبرپختونخوا، جہاں ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں سب سے زیادہ ہیں، وہاں 2025 میں 2331 افراد ہلاک ہوئے، جو 2024 کے مقابلے میں 44 فیصد اضافہ ہے۔ اس کے ردعمل میں پاکستان نے اکتوبر 2025 میں افغانستان کے ساتھ تمام سرحدی گزرگاہیں بند کر دیں اور کابل، خوست، جلال آباد اور پکتیکا میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔

شمالی افغانستان میں دیگر انتہا پسند گروہ تاجکستان میں سرحد پار حملے کر رہے ہیں، جس کی سرحد افغانستان کے ساتھ 1357 کلومیٹر طویل ہے۔ دسمبر 2025 میں تاجک حکام نے شمس الدین شوہین ضلع کے قریب تین مسلح شدت پسندوں کی دراندازی کی اطلاع دی، جس میں فائرنگ کے تبادلے میں دو تاجک سرحدی اہلکار ہلاک ہوئے۔ نومبر 2025 میں افغانستان سے داغا گیا ایک ڈرون تاجکستان کے خطلون ریجن میں چینی کارکنوں کے کیمپ پر گرا، جس میں تین چینی شہری ہلاک ہوئے۔ اس کے چند دن بعد دارواز ضلع میں چین روڈ اینڈ برج کارپوریشن کے ملازمین پر فائرنگ کی گئی، جس میں دو چینی کارکن مارے گئے۔

افغانستان خود بھی غیر محفوظ ہے۔ 19 جنوری کے کابل حملے میں سات افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایک چینی شہری بھی شامل تھا۔ چین، جو عام طور پر افغانستان کے معاملے پر محتاط رویہ رکھتا ہے، اب زیادہ سخت مؤقف اختیار کر چکا ہے۔ جنوری 2026 کے اوائل میں چین اور پاکستان نے مشترکہ بیان میں طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان میں موجود گروہوں کو ہمسایہ ممالک پر حملوں سے روکنے کے لیے “ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات” کریں۔

چین کے لیے ترکستان اسلامک پارٹی خاص تشویش کا باعث ہے، جو شامی جنگ کا تجربہ رکھنے والا ایغور عسکری نیٹ ورک ہے اور جسے بیجنگ سنکیانگ کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھتا ہے، حالانکہ چین کی افغانستان کے ساتھ سرحد محض 76 کلومیٹر ہے۔

طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے سرحد پار حملوں پر مذہبی پابندی عائد کر رکھی ہے، جبکہ TIP کو بھی چین کے خلاف کارروائی سے روکا گیا ہے۔ تاہم ہمسایہ ممالک کے مطابق یہ یقین دہانیاں مؤثر انسدادِ دہشت گردی کے بجائے محض انتخابی عملدرآمد کا مظہر ہیں۔ چین کا مؤقف ہے کہ شدت پسند گروہوں کو مکمل طور پر ختم کیے بغیر محض ضبط کا دعویٰ خطرے کو برقرار رکھتا ہے۔

چین کے خدشات کو سنجیدگی سے لینا ناگزیر ہے۔ افغانستان میں بلا روک ٹوک سرگرم عسکریت پسند نہ صرف خطے کو غیر مستحکم کر رہے ہیں بلکہ ایسے حملوں کی منصوبہ بندی یا ترغیب دے سکتے ہیں جو مستقبل میں مغربی ممالک تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

امریکا کے سابق وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کے مطابق:
“آنے والی دہائیوں میں امریکا کی سلامتی کے لیے سب سے مہلک خطرات ان ریاستوں سے جنم لیں گے جو خود کو مؤثر طور پر حکمرانی یا اپنے علاقوں کو محفوظ رکھنے میں ناکام ہوں گی۔”

مغرب کے لیے افغانستان شاید ایک اخلاقی مسئلہ بن چکا ہو، مگر اس کے پڑوسیوں کے لیے یہ ایک بڑھتا ہوا سکیورٹی ایمرجنسی ہے۔ دور سے دیکھا جانے والا استحکام، قریب سے کہیں زیادہ خونی اور غیر مستحکم دکھائی دیتا ہے۔

یہ ابھرتا ہوا علاقائی بحران مغرب کے لیے بھی اہم ہے۔ اسے نظرانداز کرنا انتہا پسند نیٹ ورکس کو دوبارہ منظم ہونے، جغرافیائی سیاسی شراکت داریوں کو نقصان پہنچانے، انسانی بحران اور مہاجرین کے نئے سلسلے، عالمی معاشی مفادات میں خلل اور انسدادِ دہشت گردی کی حاصل کردہ کامیابیوں کے زیاں کا باعث بن سکتا ہے۔ اس بحران کے اثرات افغانستان کی سرحدوں سے کہیں آگے تک پھیلتے ہیں اور فوری عالمی توجہ اور عملی اقدام کے متقاضی ہیں۔

نوٹ: یہ آرٹیکل سب سے پہلے دی نیشنل انٹرسٹ میں انگریزی زبان میں شائع ہوا۔ اس کے لکھاری زلمی نشاط ہیں۔ کاپی رائٹ حقوق ادارہ محفوظ رکھتا ہے۔

متعلقہ مضامین

بلوچستان میں بسوں سے مسافروں کو اتار کر شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد قتل کے واقعات نے ملک بھر میں شدید تشویش پیدا کر دی، متاثرہ خاندانوں اور عوام نے دہشت گردوں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کرنے کا مطالبہ کردیا

February 10, 2026

فوج میں صوبائی نمائندگی کے حوالے سے میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے محمود اچکزئی کے مؤقف کو مسترد کر دیا

February 10, 2026

کورٹ آف آربیٹریشن (پی سی اے) نے بھارت کو بگلیہار اور کشینگنہ منصوبوں کا عملی ڈیٹا فراہم کرنے کا حکم دیا، مگر 9 فروری 2026 کی ڈیڈ لائن کے باوجود نئی دہلی خاموش رہا، جو انڈس واٹرز ٹریٹی کی تعمیل میں غیر ذمہ دارانہ رویے اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کو ظاہر کرتا ہے۔

February 10, 2026

افغانستان کی سرحدی دخل اندازی اور دہشت گردی کے واقعات نے خطے میں خطرات بڑھا دیے ہیں، تاجکستان کو جدید ہتھیار فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جبکہ طالبان حکومت دہشت گرد گروپوں کے لیے محفوظ ٹھکانہ بن چکی ہے

February 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *