بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا حالیہ دورۂ اسرائیل محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ بدلتے ہوئے علاقائی توازنِ قوت کا واضح اشارہ ہے۔ تل ابیب میں ان کا سرخ قالین استقبال اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ گرمجوشی سے ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب غزہ کی جنگ اور عالمی سطح پر اسرائیل کو درپیش قانونی و اخلاقی دباؤ اپنی جگہ موجود ہے۔ اس پس منظر میں یہ دورہ ایک علامتی اور عملی، دونوں حوالوں سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
“ہیکساگون” اتحاد: نئی صف بندی کی جھلک؟
نیتن یاہو کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ “ہیکساگون آف الائنسز” کا تصور خطے میں نئی صف بندی کی کوشش معلوم ہوتا ہے۔ اگرچہ اس اتحاد کی تفصیلات ابھی واضح نہیں، لیکن بھارت کو اس کے مرکزی کردار کے طور پر پیش کرنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
ایسے وقت میں جب ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان اسرائیل کے سخت ناقد ہیں اور پاکستان و سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ ہو چکا ہے، تل ابیب کی نظر میں ایک نیا توازن قائم کرنے کی خواہش فطری دکھائی دیتی ہے۔
یہ سوال اہم ہے کہ کیا اس مجوزہ اتحاد کا ہدف ایران نواز قوتیں ہیں یا وہ سنی اکثریتی ریاستیں بھی جو اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کرتی رہی ہیں؟ اور اگر ایسا ہے تو پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
دفاعی تعاون: طاقت کا نیا معادلہ
بھارت پہلے ہی اسرائیلی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ اطلاعات کے مطابق جدید دفاعی نظام، بشمول لیزر ہتھیاروں اور میزائل دفاعی ٹیکنالوجی، تعاون کے نئے مرحلے میں شامل ہو سکتے ہیں۔
اگر اسرائیل بھارت کو جدید ترین دفاعی نظام منتقل کرتا ہے تو جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن متاثر ہو سکتا ہے۔ مئی 2025 کی چار روزہ فضائی جھڑپوں کے تناظر میں یہ پہلو پاکستان کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
یہ بھی قابلِ غور ہے کہ دفاعی تعاون اب یکطرفہ نہیں رہا۔ اسرائیل کی غزہ جنگ کے دوران بھارتی دفاعی صنعت کی جانب سے فراہم کردہ مواد اس تعلق کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔
انٹیلی جنس اور بیانیہ جنگ
بھارتی خفیہ ایجنسی را اور اسرائیلی موساد کے روابط دہائیوں پر محیط ہیں۔ اگر انٹیلی جنس شیئرنگ اور سائبر سکیورٹی تعاون مزید مضبوط ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف دفاعی میدان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بیانیہ اور سفارتی محاذ پر بھی ظاہر ہوں گے۔
بھارت اور اسرائیل دونوں اپنی سلامتی پالیسی کو “انتہاپسندی کے خلاف جنگ” کے بیانیے سے جوڑتے ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان کے خلاف الزامات اور عالمی فورمز پر سفارتی دباؤ میں اضافہ خارج از امکان نہیں۔
خلیجی توازن: پاکستان کے لیے چیلنج
پاکستان کی معیشت بڑی حد تک خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، کے ساتھ تعلقات پر انحصار کرتی ہے۔ حالیہ دفاعی معاہدہ اسلام آباد اور ریاض کے تعلقات کی مضبوطی کا اظہار ہے، تاہم متحدہ عرب امارات اور بھارت کے بڑھتے ہوئے تعلقات ایک پیچیدہ سفارتی توازن پیدا کر رہے ہیں۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ جیو اکنامکس کو اپنی خارجہ پالیسی کا مرکز بنائے، وسطی ایشیا، ترکیے، ایران اور روس کے ساتھ روابط کو وسعت دے اور خطے میں رابطہ سازی کو فروغ دے۔
ایران۔امریکہ کشیدگی اور پاکستان کا کردار
ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی، اور اسرائیل کی سخت پالیسی، خطے کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ پاکستان نے اب تک سفارتی حل کی حمایت کی ہے۔
اگر خطہ وسیع تر محاذ آرائی کی طرف جاتا ہے تو پاکستان کو محتاط اور متوازن حکمت عملی اپنانا ہوگی تاکہ وہ کسی بڑے بلاک سیاست کا حصہ بننے کے بجائے ثالثی اور استحکام کا کردار ادا کر سکے۔
نتیجہ: سفارتی تدبر کی ضرورت
بھارت اور اسرائیل کی بڑھتی قربت محض دوطرفہ تعلق نہیں بلکہ ایک وسیع تر اسٹریٹجک صف بندی کا حصہ ہے۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج ردِعمل نہیں بلکہ پیش بندی ہے۔
اسلام آباد کو چاہیے کہ وہ دفاعی تیاری کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام، علاقائی روابط اور سفارتی حکمت عملی کو مضبوط کرے۔ طاقت کا توازن صرف اسلحے سے نہیں بلکہ معیشت، سفارت کاری اور بیانیے کی برتری سے بھی قائم رہتا ہے۔
موجودہ حالات میں دانشمندانہ پالیسی ہی پاکستان کو ایک غیر یقینی خطے میں باوقار اور محفوظ مقام دلوا سکتی ہے۔