ملک بھر میں آج 86واں یومِ پاکستان روایتی جوش و جذبے اور قومی وقار کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ 23 مارچ 1940ء کی تاریخی قراردادِ لاہور کی یاد میں منعقدہ یہ دن جہاں ماضی کی عظیم جدوجہد کی یاد دلاتا ہے، وہیں موجودہ چیلنجز کے پیشِ نظر ‘اتحاد، تنظیم اور ایمان’ کے عہد کی تجدید کا موقع بھی فراہم کر رہا ہے۔
گارڈز کی تبدیلی اور توپوں کی سلامی
دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں 31 اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔ لاہور میں مصورِ پاکستان علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کے مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی، جہاں پاک فضائیہ کے چاق و چوبند دستے نے گارڈز کے فرائض سنبھال لیے۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی ایئر وائس مارشل محمد شاہد افضال تھے، جنہوں نے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔
مسلح افواج کا پیغام
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ایڈمرل نوید اشرف اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے قوم کو یومِ پاکستان پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ 23 مارچ 1940ء تاریخ کا فیصلہ کن دن ہے جس نے برصغیر کے مسلمانوں کے خواب کو سمت عطا کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق مسلح افواج نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک کو درپیش دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ جاری رہے گی اور افواجِ پاکستان ہر قسم کی جارحیت کے خلاف ہمہ وقت تیار ہیں۔
صدر اور وزیراعظم کے پیغامات
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کا جوہری طاقت تک کا سفر استقامت اور آہنی عزم کی داستان ہے۔ انہوں نے ‘آپریشن غضبِ للحق’ اور ‘بنیانِ المرصوص’ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج نے دشمن کو دندان شکن جواب دے کر ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں اتحاد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی عزم کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے یومِ پاکستان ہمیں یکجہتی کا درس دیتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، ملکی صورتحال اور حکومتی سطح پر جاری کفایت شعاری مہم کے پیشِ نظر رواں سال تقریبات کو سادہ رکھا گیا ہے، تاہم قوم کا جذبہ بلند ہے اور ملک بھر میں پرچم کشائی کی تقریبات کا سلسلہ جاری ہے۔