بحرین نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو حساس جغرافیائی ڈیٹا اور اسٹریٹیجک معلومات فراہم کرنے کے الزام میں بھارتی ٹیلی کام انجینیئر نتین موہن کو گرفتار کر لیا ہے

March 10, 2026

پاکستان نے سری لنکا کے 2022 کے معاشی بحران سے سبق حاصل کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کے بجائے مالی استحکام اور زرمبادلہ کے ذخائر کو تحفظ دینے کی پالیسی اپنائی ہے

March 10, 2026

طالبان کے وزیر سرحدات ملا نور اللہ نوری کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیشن نے حالیہ پاک افغان جنگ پر رپورٹ مکمل کرلی ہے، جس میں طالبان کے بھاری جانی و مالی نقصانات، جنگجوؤں کی کمی اور جبری بھرتیوں کی تجویز کا انکشاف کیا گیا ہے

March 10, 2026

پاکستان نے امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی رپورٹ میں ‘خصوصی تشویش والے ممالک’ کی نامزدگی کو غیر متوازن اور سیاسی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے

March 10, 2026

سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتحال پر بحث؛ مندوب نصیر احمد فائق نے طالبان دور میں انسانی حقوق کی پامالی پر تشویش کا اظہار کیا

March 10, 2026

پنجشیر کے علاقے ٹانخو میں طالبان فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر نوجوانوں کی گرفتاریوں، جسمانی تشدد اور مقامی بزرگوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے تاکہ مقامی قیادت کو ختم کیا جا سکے

March 10, 2026

پاک-ترک تعلقات: ایک تقسیم شدہ میڈیا لینڈ اسکیپ میں اسٹریٹجیک کنکشن کی تشکیل

بھارتی میڈیا اپنے تعصبات کے تحت پاکستان اور ترکی کے اسٹریٹجیک تعلقات کو جنوبی ایشیائی جیو پولیٹکس میں ایک نظریاتی خطرے کے طور پر پیش کرتا ہے، جس سے علاقائی تناؤ کو ہوا ملتی ہے۔
پاک-ترک تعلقات

پاک-ترک تعلقات: ایک تقسیم شدہ میڈیا لینڈ اسکیپ میں اسٹریٹجیک کنکشن کی تشکیل

June 2, 2025

پاک-ترک تعلقات کو بھارتی میڈیا کی جانب سے مسخ کر کے پیش کیا جاتا ہے، جس سے تعصب کو فروغ ملتا ہے اور علاقائی جغرافیائی سیاست کی غلط تصویر ابھرتی ہے۔ حال ہی میں “انڈیا ٹوڈے” کی ایگزیکٹو ایڈیٹر گیتا موہن نے ایک ٹویٹ میں پاکستان-ترکی تعلقات کو “جغرافیائی سیاسی بم” قرار دیا، اور ان تعلقات کو اسلام آباد اور انقرہ کے درمیان نظریاتی اتحاد کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے کشمیر میں ترک ڈرونز کی پرواز، پاکستان کی مبینہ مغلیہ یادیں، اور صدر اردوان کے عثمانی خوابوں کو اس خطرے کی علامات کے طور پر بیان کیا۔ تاہم یہ تاثر حقیقت سے کوسوں دور ہے، کیونکہ یہ ان پاک-ترک تعلقات کے اسٹریٹجک محرکات کو نظر انداز کرتا ہے اور عوامی بیانیے میں بلاوجہ خوف پیدا کرتا ہے۔

میڈیا کی سنسنی خیزی اور قوم پرستانہ بیانیہ

بھارتی میڈیا خصوصاً وہ حلقے جو اکثر “گوڈی میڈیا” کے طور پر جانے جاتے ہیں، قوم پرستی کو صحافتی غیر جانبداری پر ترجیح دیتے ہیں۔ یہ رجحان نہ صرف عوامی شعور کو گمراہ کرتا ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں باہمی بداعتمادی کو بھی فروغ دیتا ہے۔ مزید برآں بھارتی میڈیا اکثر پاکستان کے چین اور ترکی کے ساتھ تعلقات کو نظریاتی عینک سے دیکھتا ہے جس سے ان عملی کوششوں کی اہمیت کم ہو جاتی ہے جو علاقائی استحکام اور اقتصادی ربط کے لیے کی جا رہی ہیں۔

حالیہ بھارت-پاکستان کشیدگی کے دوران یہ واضح ہوا کہ میڈیا بیانیے کس طرح موجودہ دشمنیوں کو مزید بھڑکا سکتے ہیں۔ جب سفارتی تعاون کو وجودی خطرہ قرار دیا جائے تو نتیجتاً مکالمے کے دروازے بند ہو جاتے ہیں اور محاذ آرائی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

پاک-ترک گتعلقات میں اسٹریجیٹک مفادات، نہ کہ مذہبی جذبات

موہن کے دعوؤں کے برخلاف پک-ترک تعلقات تاریخی خوابوں یا مذہبی ایجنڈوں پر نہیں بلکہ باہمی اسٹریٹجک مفادات پر مبنی ہیں۔ ان میں دفاعی تعاون، علاقائی امن قائم کرنا، اور تجارت کو فروغ دینا شامل ہے۔ یہ شراکت داری علاقائی طاقت کے توازن کے لیے کی جا رہی ہے، نہ کہ کسی سلطنت کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے۔ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں کثیر الجہتی سفارتکاری کو فروغ دے رہا ہے تاکہ خطے میں استحکام اور معاشی انحصار کو ممکن بنایا جا سکے۔

اگر ان سفارتی کوششوں کو محض ایک نظریاتی مہم قرار دیا جائے تو اس سے بھارتی میڈیا ممکنہ شراکت داروں کو بدظن کر سکتا ہے اور خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

جب صحافت پروپیگنڈہ بن جائے

جب صحافی ریاستی بیانیے کو بغیر تنقیدی جائزے کے دہراتے ہیں تو وہ خود صحافت کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ موہن کی “#Statecraft” سیریز اس تناظر میں غیر جانبدار صحافت سے زیادہ ایک خاص مہم محسوس ہوتی ہے جو پاکستان کے خلاف ترتیب دی گئی ہو۔ ان کی منتخب کردہ تنقید بھارتی اینکرز جیسے ارنب گوسوامی اور گورو آریہ کے انداز سے مشابہت رکھتی ہے، جن پر غلط معلومات پھیلانے اور انتہا پسند قوم پرستی کو فروغ دینے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

موہن کا بیانیہ جنوبی ایشیائی جغرافیائی سیاست کی پیچیدگیوں کو نظر انداز کرتا ہے۔ یہ ابھرتی ہوئی شراکت داریوں کو سادہ “دوست بمقابلہ دشمن” کے فریم میں قید کرتا ہے جو خطے میں امن اور باہمی افہام و تفہیم کے عمل کو نقصان پہنچاتا ہے۔

ذمہ دارانہ مکالمے کی ضرورت

اگر بھارت واقعی مستقبل میں کشیدگی سے بچنا چاہتا ہے تو اس کے میڈیا کو جنگ پر مبنی بیانیوں کو ترک کر کے ذمہ دار، متوازن رپورٹنگ کو اپنانا ہوگا۔ امن صرف دفاعی حکمتِ عملی سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ باہمی احترام، کھلے مکالمے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی سنجیدہ کوششوں سے ممکن ہوتا ہے۔

متعصب رپورٹنگ اور نظریاتی خوف پھیلانا اگرچہ وقتی سیاسی فائدہ دے سکتے ہیں لیکن یہ خطے کے طویل المدتی امن اور تعاون کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ خوف کی جگہ فہم، اور نعرہ بازی کی جگہ دلیل کو دی جائے۔ صرف اسی صورت میں جنوبی ایشیا پائیدار امن اور حقیقی علاقائی استحکام کی جانب بڑھ سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

بحرین نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو حساس جغرافیائی ڈیٹا اور اسٹریٹیجک معلومات فراہم کرنے کے الزام میں بھارتی ٹیلی کام انجینیئر نتین موہن کو گرفتار کر لیا ہے

March 10, 2026

پاکستان نے سری لنکا کے 2022 کے معاشی بحران سے سبق حاصل کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کے بجائے مالی استحکام اور زرمبادلہ کے ذخائر کو تحفظ دینے کی پالیسی اپنائی ہے

March 10, 2026

طالبان کے وزیر سرحدات ملا نور اللہ نوری کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیشن نے حالیہ پاک افغان جنگ پر رپورٹ مکمل کرلی ہے، جس میں طالبان کے بھاری جانی و مالی نقصانات، جنگجوؤں کی کمی اور جبری بھرتیوں کی تجویز کا انکشاف کیا گیا ہے

March 10, 2026

پاکستان نے امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی رپورٹ میں ‘خصوصی تشویش والے ممالک’ کی نامزدگی کو غیر متوازن اور سیاسی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے

March 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *