ایرانی سکیورٹی فورسز نے تہران میں جاری ہنگاموں کے دوران اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے منسلک ایک مبینہ کارندے کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق گرفتار شخص مظاہرین کے درمیان عام شہری کے بھیس میں سرگرم تھا اور خفیہ طور پر تخریبی کارروائیوں میں ملوث تھا۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش اور اعترافی بیانات کے دوران ملزم نے موساد کی جانب سے بھرتی، تربیت اور رابطے کے طریقۂ کار سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔ ملزم کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے انسٹاگرام اور ٹیلی گرام پر سرگرمیوں اور لائکس کی بنیاد پر افراد کی نشاندہی کی جاتی تھی، جنہیں بعد ازاں موساد سے وابستہ عناصر رابطہ کر کے مختلف نوعیت کی کارروائیوں کے لیے تیار کرتے تھے۔
ملزم نے بتایا کہ اسے ابتدا ہی سے یہ ہدایات دی گئی تھیں کہ کون سی سرگرمیاں کرنی ہیں اور کن سے اجتناب کرنا ہے، جبکہ یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ مطلوبہ کارروائیوں کے لیے مکمل معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس کے مطابق ابتدائی طور پر اسے رہائشی علاقوں میں جانے کا کہا گیا، تاہم بعد میں فوری طور پر اپنی سرگرمیاں بازاروں اور عوامی مقامات تک محدود رکھنے کی ہدایت دی گئی۔
گرفتار شخص نے اعتراف کیا کہ وقت کے ساتھ اس کی ذمہ داریاں تبدیل ہوتی رہیں اور تمام مشن مالی ادائیگیوں سے مشروط تھے۔ اس نے یہ بھی انکشاف کیا کہ تمام تر ہدایات، تربیت اور رابطہ ایک ہی موبائل فون کے ذریعے کیا جاتا رہا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاری ملک میں بدامنی پھیلانے کے لیے بیرونی مداخلت کے ثبوتوں میں ایک اہم کڑی ہے، جبکہ تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ نیٹ ورک سے جڑے دیگر عناصر کا بھی سراغ لگایا جا سکے۔