"> ایران: معاشی بحران سے سیاسی عدم استحکام تک - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ایران: معاشی بحران سے سیاسی عدم استحکام تک

ایران کا موجودہ بحران صرف ایک ملک کا داخلی مسئلہ نہیں بلکہ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ معاشی ناکامی اور سیاسی جمود مل کر کسی بھی نظام کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر حکومت نے عوامی خدشات کو سنجیدگی سے نہ لیا تو یہ احتجاج مستقبل میں مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں، جو نہ صرف حکومتی اتھارٹی بلکہ ملک کے مجموعی استحکام کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوں گے۔
ایران: معاشی بحران سے سیاسی عدم استحکام تک

تاریخ گواہ ہے کہ سخت گیر رویہ وقتی طور پر احتجاج کو دبانے میں تو کامیاب ہو سکتا ہے، مگر یہ عوامی اعتماد کو مزید کمزور کر دیتا ہے۔

January 3, 2026

ایران ایک بار پھر شدید داخلی دباؤ کی زد میں ہے، جہاں بڑھتی ہوئی مہنگائی، کرنسی کی تیزی سے گرتی ہوئی قدر اور معاشی بدحالی نے عوام کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کر دیا ہے۔ حالیہ مظاہرے محض معاشی شکایات تک محدود نہیں رہے بلکہ اب وہ سیاسی عدم اطمینان اور حکومتی اتھارٹی کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف ایران کے اندرونی استحکام کے لیے خطرہ ہے بلکہ خطے کی سیاست پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔


ایرانی ریال کی غیر معمولی گراوٹ نے عوام کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اشیائے خوردونوش، ایندھن اور بنیادی ضروریات کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ متوسط اور نچلا طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہے، جبکہ تاجر اور صنعتکار بھی غیر یقینی معاشی حالات کے باعث سخت پریشانی کا شکار ہیں۔ 28 دسمبر کو تہران میں تاجروں کی ہڑتال نے اس غصے کو ایک منظم شکل دی، جس کے بعد طلبہ اور دیگر سماجی طبقات کی شمولیت نے مظاہروں کو ملک گیر تحریک میں بدل دیا۔


ابتدا میں یہ احتجاج معاشی مسائل کے گرد گھومتے دکھائی دیے، مگر جلد ہی ان میں سیاسی نعرے اور مطالبات شامل ہو گئے۔ یہ تبدیلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عوامی غصہ محض مہنگائی یا بے روزگاری تک محدود نہیں بلکہ وہ حکومتی پالیسیوں، شفافیت کی کمی اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، جب معاشی بحران طویل ہو جائے اور ریاست عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہے تو اس کے اثرات لازماً سیاسی نظام پر پڑتے ہیں، اور ایران اس وقت اسی مرحلے سے گزر رہا ہے۔


ماہرین ان مظاہروں کو 2022 کی “خواتین، زندگی اور آزادی” تحریک کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ وہ تحریک سماجی اور شہری حقوق کے گرد مرکوز تھی، مگر موجودہ احتجاج معاشی بدحالی کے ذریعے سیاسی بے چینی کو اجاگر کر رہے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایرانی معاشرے میں مختلف نوعیت کے مسائل ایک دوسرے سے جُڑ چکے ہیں اور کسی ایک مسئلے کو نظر انداز کرنا مجموعی عدم استحکام کو جنم دے سکتا ہے۔


حکومت کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اس بحران کا جواب طاقت کے استعمال سے دیتی ہے یا اصلاحات اور مکالمے کے ذریعے۔ تاریخ گواہ ہے کہ سخت گیر رویہ وقتی طور پر احتجاج کو دبانے میں تو کامیاب ہو سکتا ہے، مگر یہ عوامی اعتماد کو مزید کمزور کر دیتا ہے۔ ایران کو اس وقت ایسی معاشی اصلاحات کی ضرورت ہے جو مہنگائی کو کنٹرول کریں، کرنسی کو سہارا دیں اور روزگار کے مواقع پیدا کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی سطح پر شفافیت اور عوامی شمولیت بھی ناگزیر ہے۔


آخرکار، ایران کا موجودہ بحران صرف ایک ملک کا داخلی مسئلہ نہیں بلکہ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ معاشی ناکامی اور سیاسی جمود مل کر کسی بھی نظام کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر حکومت نے عوامی خدشات کو سنجیدگی سے نہ لیا تو یہ احتجاج مستقبل میں مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں، جو نہ صرف حکومتی اتھارٹی بلکہ ملک کے مجموعی استحکام کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوں گے۔ ایران کے لیے اب فیصلہ کن وقت آ چکا ہے کہ وہ تصادم کا راستہ اختیار کرتا ہے یا اصلاح اور مفاہمت کی جانب قدم بڑھاتا ہے۔

دیکھیں: پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی: شفاف اور شہری مرکوز نظام کی جانب تاریخی اقدامات

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *