سیاسی مبصرین اور حکومتی ذرائع نے پی ٹی آئی کی تنظیمی ساخت اور کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کبھی بھی ایک منظم سیاسی جماعت نہیں رہی، بلکہ ہمیشہ سے چند مفاد پرست عناصر کا ایک ایسا گروہ رہا ہے جہاں صرف ایک شخص کی اجارہ داری قائم ہے۔
خیبر پختونخوا کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ صوبے میں گزشتہ 13 برسوں سے پی ٹی آئی کی حکومت ہے، لیکن اس طویل عرصے کے باوجود وہاں گورننس، سکیورٹی اور عام آدمی کے حالات انتہائی بُرے ہیں۔ صوبائی حکومت عوامی مسائل پر توجہ دینے اور حالات سدھارنے کی بجائے روزانہ کی بنیاد پر نئے سیاسی ڈرامے رچانے میں مصروف ہے، کیونکہ شور شرابے اور الزام تراشی کے سوا ان کے پاس اب کچھ نہیں بچا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی نے اپنے دورِ اقتدار میں تمام فیصلے قومی مفاد کے بجائے ذاتی فائدے کے لیے کیے، جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ انتخابات میں عوام نے ان کے بیانیے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ موجودہ سیاسی انتشار اور الزام بازی کا مقصد صرف اپنے ذاتی سیاسی مفادات کا تحفظ اور ایک “قومی مجرم” کو قانون کی گرفت سے بچانا ہے، تاہم مظلومیت کارڈ سے اب حقیقت نہیں چھپائی جا سکتی۔ واضح کیا گیا ہے کہ قانون کو دھوکہ دے کر احتساب کے عمل سے فرار اب ممکن نہیں رہا۔
دیکھیے: عمران خان کی صحت، قانونی حقوق اور احتجاجی سیاست پر سیاسی محاذ آرائی تیز