"> قومی مجرم کو بچانے کے لیے انتشار کی سیاست: پی ٹی آئی کا اصل چہرہ عیاں
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

پی ٹی آئی منظم جماعت نہیں بلکہ مفاد پرستوں کا ٹولہ ہے، سیاسی حلقوں کی کڑی تنقید

پی ٹی آئی کی 13 سالہ صوبائی حکومت اور وفاقی دورِ اقتدار پر تنقید کرتے ہوئے اسے ایک منظم جماعت کے بجائے مفاد پرستوں کا ٹولہ قرار دے دیا گیا ہے جو اب احتساب سے بچنے کے لیے انتشار کا سہارا لے رہی ہے
پی ٹی آئی کی 13 سالہ صوبائی حکومت اور وفاقی دورِ اقتدار پر تنقید کرتے ہوئے اسے ایک منظم جماعت کے بجائے مفاد پرستوں کا ٹولہ قرار دے دیا گیا ہے جو اب احتساب سے بچنے کے لیے انتشار کا سہارا لے رہی ہے

خیبر پختونخوا میں گورننس کی ناکامی اور پی ٹی آئی کی اندرونی اجارہ داری۔ اب اس جماعت کی سیاسی مفادات کے لیے انتشار پھیلانے کی کوششیں اب عوام کے سامنے عیاں ہو چکی ہیں

February 19, 2026

سیاسی مبصرین اور حکومتی ذرائع نے پی ٹی آئی کی تنظیمی ساخت اور کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کبھی بھی ایک منظم سیاسی جماعت نہیں رہی، بلکہ ہمیشہ سے چند مفاد پرست عناصر کا ایک ایسا گروہ رہا ہے جہاں صرف ایک شخص کی اجارہ داری قائم ہے۔

خیبر پختونخوا کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ صوبے میں گزشتہ 13 برسوں سے پی ٹی آئی کی حکومت ہے، لیکن اس طویل عرصے کے باوجود وہاں گورننس، سکیورٹی اور عام آدمی کے حالات انتہائی بُرے ہیں۔ صوبائی حکومت عوامی مسائل پر توجہ دینے اور حالات سدھارنے کی بجائے روزانہ کی بنیاد پر نئے سیاسی ڈرامے رچانے میں مصروف ہے، کیونکہ شور شرابے اور الزام تراشی کے سوا ان کے پاس اب کچھ نہیں بچا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی نے اپنے دورِ اقتدار میں تمام فیصلے قومی مفاد کے بجائے ذاتی فائدے کے لیے کیے، جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ انتخابات میں عوام نے ان کے بیانیے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ موجودہ سیاسی انتشار اور الزام بازی کا مقصد صرف اپنے ذاتی سیاسی مفادات کا تحفظ اور ایک “قومی مجرم” کو قانون کی گرفت سے بچانا ہے، تاہم مظلومیت کارڈ سے اب حقیقت نہیں چھپائی جا سکتی۔ واضح کیا گیا ہے کہ قانون کو دھوکہ دے کر احتساب کے عمل سے فرار اب ممکن نہیں رہا۔

دیکھیے: عمران خان کی صحت، قانونی حقوق اور احتجاجی سیاست پر سیاسی محاذ آرائی تیز

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *