افغانستان میں امن و استحکام کے مسلسل دعوؤں کے باوجود ملک کی سکیورٹی صورتحال تشویشناک رجحانات کی عکاسی کر رہی ہے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران سات مختلف صوبوں میں کی گئی مسلح کارروائیاں طالبان کے ‘مکمل کنٹرول’ کے بیانیے کو شدید چیلنج کرتی نظر آتی ہیں۔ یہ محض ایک دو واقعات نہیں، بلکہ ایک مربوط مزاحمتی تحریک کے آثار ہیں جو افغانستان کی جغرافیائی و سیاسی پیچیدگیوں میں اپنی موجودگی کا اعلان کر رہی ہے۔
طالبان کے دعوؤں اور زمینی حقائق کے مابین پھیلتی ہوئی اس خلیج نے نہ صرف عوامی اعتماد کو متاثر کیا ہے، بلکہ بین الاقوامی مبصرین کے لیے بھی افغانستان میں طالبان حکمرانی کی اصل نوعیت کو سمجھنے کا اہم پہلو فراہم کیا ہے۔ ان کارروائیوں کی نوعیت، وسعت اور اثرات کا جائزہ افغانستان کے موجودہ سیکیورٹی ڈھانچے کی کمزوریوں اور مستقبل کے ممکنہ چیلنجوں کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔
کارروائیوں میں 48 ہلاکتیں
افغانستان میں مسلح گروہوں کی کاروائیوں کے نتیجے میں کم از کم اڑتالیس طالبان جنگجو ہلاک اور پچیس زخمی ہوئے، جبکہ متعدد سرکاری گاڑیاں بھی تباہ ہو ئی ہیں۔ اس مختصر دورانیے میں دو خودکش حملے بھی ہوئے، جنہوں نے نہ صرف جانی نقصان میں اضافہ کیا بلکہ طالبان کی سکیورٹی کمزوریوں کو بھی آشکار کیا۔
کارروائیوں کا پھیلاؤ
مزاحمتی گروہوں کی کاروائیوں کا دائرہ خاصا وسیع رہا، جو صوبائی بڑے اور تجارتی شہروں سے لے کر دور دراز دیہی علاقوں تک پھیلا ہوا تھا۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ طالبان حکومت اپنے زیر انتظام علاقوں میں تحفظ و امن کی فراہمی میں ناکام رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق قندوز، پنجشیر، فریاب، بدخشان، بغلان، ہرات اور کابل میں کی گئی کارروائیاں اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ مزاحمتی گروہ ملک کے مختلف حصوں میں سرگرمِ عمل ہیں اور حکومتی بیانیے کے برعکس طالبان کا اختیار محدود سے محدود تر ہوتا جا رہا ہے۔
مزاحمتی گروہوں کی نئی حکمت عملی
مزاحمتی گروہ بالخصوص نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) اور افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) نے اپنی کارروائیوں میں نئی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے بڑے فوجی اڈوں پر براہ راست حملوں کے بجائے چھوٹی، زیادہ متحرک ٹیموں کے ذریعے خفیہ حملے کیے، کارروائی کے فوراً بعد پسپائی اختیار کر لی۔ مزاحمتی گروہوں کے اس نئے طریقۂ کار نے افغان طالبان کی انٹیلی جنس اور سکیورٹی فورسز خو ضاصا پریشان کیا اور اسکے ساتھ ساتھ طالبان حکومت میں موجود خامیوں کو بھی آشکارا کیا۔
طالبان حکومت کا ردعمل اور اقدامات
جبکہ دوسری جانب طالبان حکومت کا مؤقف ہے کہ مذکورہ تمام تر واقعات “الگ تھلگ دہشت گردانہ حملے” تھے اور ان کی سکیورٹی فورسز صورتحال پر پوری طرح قابض ہیں۔ تاہم مقامی ذرائع اور مصدقہ تحقیقات کے مطابق متاثرہ علاقوں میں اضافی فوجی دستے تعینات کیے گئے ہیں، نگرانی چوکیوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا اور رات کے اوقات میں پابندیاں عائد کی گئیں تاکہ فوری خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے لیکن ان تمام تر اقدامات کے باوجود مزاحمتی کارروائیوں میں کمی نہ آسکی۔
بین الاقوامی سطح پر تشویش
بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے افغانستان میں بڑھتے ہوئے تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تحقیقات کے مطابق عام شہری، بالخصوص خواتین اور بچے، ان کارروائیوں میں سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جس سے انسانی بحران مزید گہرا ہو رہا ہے۔
سکیورٹی ماہرین کے مطابق طالبان حکومت کی مرکزی قیادت کا صوبائی سطح پر اختیار محدود ہے، سیاسی شمولیت کا فقدان ہے، اور معاشی بحران عوامی بے چینی کو ہوا دے رہا ہے۔ اگر موجودہ صورت حال برقرار رہی، تو ملک میں طویل المدتی عدم استحکام کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ مزاحمتی گروہوں کی سرگرمیاں ملک کے مستقبل کے سیاسی اور سیکیورٹی ڈھانچے پر دوررس اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
دیکھیں: افغان مہاجرین کو روزگار کے شدید مسائل کا سامنا: اقوامِ متحدہ