امریکی ہتھیاروں اور وسائل کی طالبان تک منتقلی نے خطے میں سکیورٹی خدشات پیدا کر دیے

امریکی ہتھیاروں اور وسائل کی طالبان تک منتقلی نے خطے میں سکیورٹی خدشات پیدا کر دیے

رپورٹ کے مطابق طالبان کی افغانستان پر گرفت نے امریکی سامان کی نگرانی ممکن نہ رہنے دی، جس کی وجہ سے یہ ہتھیار اور سازوسامان طالبان کے کنٹرول میں چلے گئے۔ امریکی محکمہ دفاع نے بھی تصدیق کی کہ تقریباً 7.1 ارب ڈالر مالیت کا سازوسامان جس میں ہزاروں گاڑیاں، لاکھوں چھوٹے ہتھیار، نائٹ وژن آلات اور 160 سے زائد طیارے شامل ہیں، طالبان کے قبضے میں چلا گیا۔

ٹریفک آرڈیننس 2025 اور پہیہ جام ہڑتال؛ حکومت کی غیر ذمہ داری یا عوام کی سزا؟

ٹریفک آرڈیننس 2025 اور پہیہ جام ہڑتال؛ حکومت کی غیر ذمہ داری یا عوام کی سزا؟

پہیہ جام ہڑتال نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ پاکستان کو ٹرانسپورٹ پالیسی کے حوالے سے مستقل، دیرپا اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت پر مبنی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اگر اس بار بھی دونوں فریق انا کے محاذ سے پیچھے نہ ہٹے تو نقصان صرف عوام کا ہوگا اور ایک بار پھر ریاستی کمزوری اور انتظامی بدنظمی پوری شدت سے سامنے آئے گی۔

پاک افغان کشیدگی پر ایران کا اظہار تشویش؛ سرحدی عدم استحکام قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار

پاک افغان کشیدگی پر ایران کا اظہار تشویش؛ سرحدی عدم استحکام قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ بھی ہم آہنگی کر رہا ہے تاکہ دستیاب علاقائی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے امن کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔ ان کے مطابق خطے کے متعدد ممالک بھی افغانستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر فکر مند ہیں اور کسی مشترکہ حل کی تلاش جاری ہے۔

امریکہ نے آج صبح طالبان کو 45 ملین ڈالرز کی نقد ادائیگی کی؛ امراللہ صالح کا دعویٰ

امریکہ نے آج صبح طالبان کو 45 ملین ڈالرز کی نقد ادائیگی کی؛ امراللہ صالح کا دعویٰ

یہ معاملہ اس لیے بھی حساس ہے کہ امریکہ میں گزشتہ برس ایک بل پیش کیا گیا تھا جس کا مقصد امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں کو طالبان تک پہنچنے سے روکنا تھا۔ اگرچہ یہ بل ایوانِ نمائندگان سے منظور ہوا تھا، مگر تاحال مکمل قانون نہیں بن سکا۔

القاعدہ برصغیر کی نئی پروپیگنڈا ویڈیو، طالبان کی اقتدار میں واپسی کا کریڈٹ لینے کی کوشش

القاعدہ برصغیر کی نئی پروپیگنڈا ویڈیو، طالبان کی اقتدار میں واپسی کا کریڈٹ لینے کی کوشش

حکام اور ماہرین کے مطابق یہ ویڈیو بین الاقوامی سطح پر ایک بار پھر طالبان اور عالمی جہادی نیٹ ورکس کے گہرے روابط پر سوالات اُٹھا سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی برادری طالبان سے دہشت گرد گروہوں سے لاتعلقی کے عملی ثبوت کا تقاضا کر رہی ہے۔