ثلاثہ کی جنگ: دو پہلو طشت از بام

امریکیوں و اسرائیلیوں نے جنگ کی منصوبہ بندی کرتے وقت اس پہلو پر شاید اتنا نہیں سوچا ہوگا کہ چائنا اس حد تک گہرائی میں اتر سکتا ہے۔ بہرحال امریکہ و اسرائیل کو اب نئے سرے سے اپنی عسکری منصوبہ بندی کرنا ہوگی
اعزاز سید کا متنازع ٹویٹ: دفاعی اقدامات کو ‘غلطی’ قرار دینے پر عوامی حلقوں کی جانب شدید ردعمل

دہشت گردی کے خلاف ریاست کے مضبوط ردعمل کو ‘غلطی’ کہنا حقائق کے برعکس ہے۔ جب سرحد پار ٹھکانوں پر ضرب لگی تو حملے کم ہوئے مگر سوشل میڈیا پر دہشت گردوں کے ہمدردوں کی تکلیف بڑھ گئی
افغان شہریوں کی مہمان نوازی 78 سالہ تاریخ کی سنگین غلطی ہے؛ وزیرِ دفاع خواجہ آصف

وفاقی وزیر خواجہ آصف نے افغان طالبان کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے تین نسلوں تک افغانوں کی میزبانی کی لیکن یہ مہمان نوازی اب تاریخ کی سب سے بڑی غلطی محسوس ہوتی ہے
کراچی میں سی ٹی ڈی کی کامیاب کاروائی، بی ایل اے کے اہم کمانڈر سمیت 4 دہشت گرد ہلاک

کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں سی ٹی ڈی نے بی ایل اے کے خطرناک کمانڈر سہیل بلوچ عرف گُرک کو 3 ساتھیوں سمیت ہلاک کر دیا، جو ڈی سی پنجگور کے قتل اور 50 سے زائد افراد کے خون میں ملوث تھا
علیمہ خان کی مبینہ افغان حملے کی مذمت پر سوشل میڈیا صارفین برہم

صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ آیا افغانستان میں طالبان حکومت سے متعلق پروپیگنڈا بے نقاب ہو چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق علیمہ خان نے اس سوال کو نامناسب قرار دیا اور بغیر جواب دیے پریس کانفرنس ختم کر دی
یوم پاکستان پریڈ منسوخ، 23 مارچ سادگی سے منانے کا فیصلہ

یومِ پاکستان کے نظریات سے وابستگی کے ساتھ ساتھ وسیع تر کفایت شعاری پالیسی پر بھی عمل جاری رکھا جائے گا
کنگنا رناوت کی نورا فتحی کے گانے پر تنقید، گانے کو فحاشی کی انتہا قرار دے دیا

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے مواد کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں اس گانے کی مذمت ہو رہی ہے لیکن متعلقہ افراد کو اس پر شرمندگی محسوس نہیں ہو رہی
بھارت: کشتی میں افطار کرنے پر 14 نوجوان گرفتار

شکایت میں الزام لگایا گیا کہ افطار کے دوران چکن بریانی کھائی گئی اور مبینہ طور پر بچا ہوا کھانا دریا میں پھینکا گیا، جس سے مذہبی جذبات مجروح ہوئے
ٹاپ انٹیلیجنس چیف علی لاریجانی اپنے بیٹے سمیت شہید؛ ایران کے سرکاری میڈیا نے تصدیق کر دی

نجف میں پیدا ہونے والے لاریجانی نے پاسدارانِ انقلاب میں شمولیت کے بعد ایران کی داخلی سیاست، پارلیمنٹ اور خارجہ پالیسی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ طویل عرصے تک ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے اور جوہری پروگرام کے چیف مذاکرات کار کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔