بیجنگ سربراہی ملاقات: عالمی طاقتوں کے نئے توازن کی تشکیل یا عارضی سفارتی مفاہمت؟

بیجنگ سربراہی ملاقات نے ایک ایسے دور کا آغاز کیا ہے جسے ہم "تعمیری مسابقت" کا دور کہہ سکتے ہیں۔ اگر صدر ٹرمپ کی چوبیس ستمبر کی دعوت پر صدر شی واشنگٹن کا دورہ کرتے ہیں، تو یہ ان معاہدات پر مہرِ تصدیق ہوگی۔ تاہم، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ عالمی سیاست کی بساط پر تائیوان، انسانی حقوق اور سمندری حدود جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں۔

بیجنگ سربراہی ملاقات نے ایک ایسے دور کا آغاز کیا ہے جسے ہم “تعمیری مسابقت” کا دور کہہ سکتے ہیں۔ اگر صدر ٹرمپ کی چوبیس ستمبر کی دعوت پر صدر شی واشنگٹن کا دورہ کرتے ہیں، تو یہ ان معاہدات پر مہرِ تصدیق ہوگی۔ تاہم، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ عالمی سیاست کی بساط پر تائیوان، انسانی حقوق اور سمندری حدود جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں۔

افغان طالبان اور بھارت کا گٹھ جوڑ بے نقاب: 46 ملین ڈالر کے معاہدے اور خطے کی سلامتی پر اس کے اثرات

کابل اور دہلی کے درمیان 46 ملین ڈالر کا حالیہ معاہدہ محض تجارتی نہیں بلکہ ایک تزویراتی چال ہے، جس کا مقصد پاکستان کی مغربی سرحد پر دباؤ بڑھانا اور افغان سرزمین کو پراکسی وار کے لیے استعمال کرنا ہے۔

کابل اور دہلی کے درمیان 46 ملین ڈالر کا حالیہ معاہدہ محض تجارتی نہیں بلکہ ایک تزویراتی چال ہے، جس کا مقصد پاکستان کی مغربی سرحد پر دباؤ بڑھانا اور افغان سرزمین کو پراکسی وار کے لیے استعمال کرنا ہے۔

بی بی سی کی یکطرفہ رپورٹنگ: کابل میں شہری آبادی کے درمیان اسلحہ ڈپو اور دہشت گرد ٹھکانوں کی موجودگی کو نظر انداز کرنے کا انکشاف

بی بی سی اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹس میں کابل کے امید مرکز پر حملے کے پس منظر میں طالبان کی جانب سے شہری علاقوں کی عسکریت کاری اور انسانی ڈھال کے استعمال کے اہم حقائق کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

بی بی سی اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹس میں کابل کے امید مرکز پر حملے کے پس منظر میں طالبان کی جانب سے شہری علاقوں کی عسکریت کاری اور انسانی ڈھال کے استعمال کے اہم حقائق کو نظر انداز کیا گیا ہے۔