پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر فلسطین کے حوالے سے اپنے دیرینہ، غیر متزلزل اور اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ خطے میں امن کا واحد راستہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔ پاکستان نے عالمی فورمز پر زور دیا ہے کہ فلسطینی عوام کے حقوق کا تحفظ بین الاقوامی برادری کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔
القدس الشریف کا مطالبہ
پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبے میں اس بات پر سخت زور دیا گیا ہے کہ فلسطینی ریاست کی بنیاد 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر ہونی چاہیے۔ ترجمان کے مطابق، ‘القدس الشریف’ (یروشلم) کو اس مجوزہ خود مختار ریاست کا دارالحکومت قرار دینا ناگزیر ہے، کیونکہ اس کے بغیر کوئی بھی حل منصفانہ اور پائیدار تصور نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان کا یہ موقف بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے مسلمہ اصولوں کی مکمل ترجمانی کرتا ہے۔
ذمہ دارانہ سفارت کاری
موجودہ علاقائی کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ کی نازک صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی متوازن سفارت کاری کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف تحمل اور امن کی تلقین کی ہے بلکہ مظلوم فلسطینیوں کے حقوق کے لیے ایک موثر اور توانا آواز بن کر ابھرا ہے۔ سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اس فعال کردار نے اسے عالمی فورمز پر ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر مستحکم کیا ہے جو پائیدار امن کے حصول کے لیے ہر ممکن کوششیں کر رہی ہے۔
منصفانہ حل کے لیے عالمی برادری کو پیغام
پاکستان نے عالمی برادری کو پیغام دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کا خواب اس وقت تک شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک فلسطینیوں کو ان کا جائز حقِ خودارادیت نہیں مل جاتا۔ ماہرین کے مطابق، پاکستان کی یہ سفارتی جدوجہد نہ صرف امتِ مسلمہ کے جذبات کی ترجمان ہے بلکہ عالمی سطح پر انصاف اور توازن برقرار رکھنے کے لیے بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔