اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں انسانی اور معاشی بحران مزید سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے۔ بدھ کے روز جاری ہونے والی افغانستان سوشیو اکنامک ریویو رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک کی تقریباً تین چوتھائی آبادی اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں تقریباً 28 ملین افغان شہری غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے تھے، اور اس صورتحال میں تارکینِ وطن کی بڑے پیمانے پر واپسی، مسلسل خشک سالی اور عالمی امداد میں کٹوتی نے مزید اضافہ کر دیا ہے۔
معاشی ترقی اور فی کس آمدنی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان نے مسلسل دوسرے سال معمولی معاشی ترقی تو ریکارڈ کی ہے، لیکن مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو 2024 کے 2.3 فیصد کے مقابلے میں کم ہو کر 2025 میں صرف 1.9 فیصد رہ گئی ہے۔ اس کے برعکس آبادی میں اضافے کی شرح 6.5 فیصد تک جا پہنچی ہے، جس کے نتیجے میں فی کس حقیقی جی ڈی پی میں 2.1 فیصد کی بڑی کمی واقع ہوئی ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ معیشت کی سست روی اور آبادی کے دباؤ نے عام آدمی کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔
روزگار کے مسائل
دوہزار تئیس سے اب تک تقریباً 50 لاکھ افغان باشندے اپنے ملک واپس لوٹ چکے ہیں، جن میں سے صرف 2025 کے دوران 2.9 ملین افراد کی واپسی ہوئی۔ ان واپس آنے والے افراد میں سے 92 فیصد بنیادی ضروریات تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جن صوبوں میں واپس آنے والوں کی تعداد زیادہ ہے، وہاں صرف 3 فیصد افراد کے پاس باقاعدہ ملازمت ہے، جبکہ 78 فیصد لوگ دیہاڑی داری پر گزارہ کرنے پر مجبور ہیں۔
خواتین پر پابندیاں
افغانستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات کا بھی سامنا ہے، جہاں گزشتہ برس 64 فیصد علاقہ خشک سالی کی زد میں رہا۔ پینے کے صاف پانی تک رسائی 2024 کے 59 فیصد سے گر کر 2025 میں صرف 44 فیصد رہ گئی ہے۔ مزید برآں، طالبان حکام کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیوں نے معیشت اور لیبر فورس کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق خواتین کی تعلیم اور روزگار پر پابندی کے حوالے سے جاری کردہ تقریباً 100 ڈگریز (فرامین) تاحال نافذ العمل ہیں، جو اقتصادی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
صحت کا بحران
رپورٹ میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ ایک طرف ضروریات بڑھ رہی ہیں اور دوسری طرف بین الاقوامی امداد میں 16.5 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ فنڈز کی قلت کے باعث ملک بھر میں 440 سے زائد کلینکس بند ہو چکے ہیں یا ان کی خدمات محدود ہو گئی ہیں۔ اس کے نتیجے میں طبی سہولیات تک رسائی نہ رکھنے والے افراد کا تناسب 16 فیصد سے بڑھ کر 23 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کو صرف قلیل مدتی ریلیف کی نہیں بلکہ روزگار اور مقامی مارکیٹوں میں طویل مدتی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ لوگ اپنے مستقبل پر قابو پا سکیں۔