ڈی جی آئی ایس پی آر نے شفاء تعمیر ملت یونیورسٹی میں طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے قومی سلامتی اور انفارمیشن وارفیئر پر روشنی ڈالی اور سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کی ضرورت پر زور دیا۔

May 14, 2026

یو این ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 28 ملین افراد غربت کا شکار ہیں اور 75 فیصد آبادی بنیادی ضروریات سے محروم ہو چکی ہے، جس کی بڑی وجوہات امداد میں کمی اور خشک سالی ہیں۔

May 14, 2026

کابل اور دہلی کے درمیان 46 ملین ڈالر کا حالیہ معاہدہ محض تجارتی نہیں بلکہ ایک تزویراتی چال ہے، جس کا مقصد پاکستان کی مغربی سرحد پر دباؤ بڑھانا اور افغان سرزمین کو پراکسی وار کے لیے استعمال کرنا ہے۔

May 14, 2026

انڈیا اور طالبان حکومت کے درمیان 46 ملین ڈالر کے لیبارٹری معاہدے پر سابق افغان وزیر سید سادات نادری اور پاکستانی تجزیہ نگاروں نے اسے اسٹریٹجک مفادات اور خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

May 14, 2026

سابق انڈین آرمی چیف منوج نروانے نے پاکستان سے مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے عوام کے مسائل ایک جیسے ہیں اور عوامی سطح پر دوستی ہی تعلقات کی بہتری کا راستہ ہے۔

May 14, 2026

بی بی سی اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹس میں کابل کے امید مرکز پر حملے کے پس منظر میں طالبان کی جانب سے شہری علاقوں کی عسکریت کاری اور انسانی ڈھال کے استعمال کے اہم حقائق کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

May 14, 2026

بی بی سی کی یکطرفہ رپورٹنگ: کابل میں شہری آبادی کے درمیان اسلحہ ڈپو اور دہشت گرد ٹھکانوں کی موجودگی کو نظر انداز کرنے کا انکشاف

بی بی سی اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹس میں کابل کے امید مرکز پر حملے کے پس منظر میں طالبان کی جانب سے شہری علاقوں کی عسکریت کاری اور انسانی ڈھال کے استعمال کے اہم حقائق کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
بی بی سی اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹس میں کابل کے امید مرکز پر حملے کے پس منظر میں طالبان کی جانب سے شہری علاقوں کی عسکریت کاری اور انسانی ڈھال کے استعمال کے اہم حقائق کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں متاثرہ خاندانوں کے بیانات اور اجتماعی قبروں کا ذکر کرتے ہوئے اسے افغانستان کا مہلک ترین حملہ قرار دیا گیا ہے، تاہم حقائق کے مطابق طالبان کی عسکری موجودگی اور شہری علاقوں میں اسلحہ ذخائر کے تناظر کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

May 14, 2026

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے شمال مغرب میں واقع امید ڈرگ ری ہیبیلیٹیشن ہسپتال پر ہونے والے حملے کے حوالے سے بین الاقوامی میڈیا، خصوصاً بی بی سی اور اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن کی رپورٹس میں انسانی ہلاکتوں کے پہلو کو نمایاں کیا جا رہا ہے، تاہم دفاعی ماہرین اور زمینی حقائق اس واقعے کے پیچھے چھپے طالبان کے انسانی ڈھال کے خطرناک بیانیے اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

بی بی سی کی رپورٹ اور زمینی حقائق

رپورٹ میں متاثرہ خاندانوں کے جذباتی بیانات اور اجتماعی قبروں کا تذکرہ کرتے ہوئے اسے افغانستان کی تاریخ کا مہلک ترین حملہ قرار دیا گیا ہے۔ لیکن اس بیانیے میں اس وسیع تر آپریشنل تناظر کو دانستہ طور پر نظر انداز کیا گیا ہے کہ طالبان نے گنجان آباد شہری علاقوں اور طبی مراکز کے قریب اپنا عسکری انفراسٹرکچر، غیر ملکی دہشت گرد اور اسلحہ کے بڑے ذخائر چھپا رکھے ہیں۔

عسکریت کاری کے ناقابلِ تردید ثبوت

سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح کی قیادت میں کام کرنے والے ادارے ‘افغانستان گرین ٹرینڈ’ نے انکشاف کیا ہے کہ مئی 2026 کے اوائل میں طالبان نے کابل کی آٹے کی مارکیٹ اور گنجان آباد علاقوں میں اسلحہ سے لدے 23 کنٹینرز منتقل کیے تھے۔ مزید برآں، امید مرکز کے محض 200 میٹر کے فاصلے پر ڈرونز اور گولہ بارود کے ذخائر کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں۔ جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والی ویڈیوز میں ثانوی دھماکوں اور طویل عرصے تک لگی رہنے والی آگ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہاں خالص شہری تنصیب کے بجائے دھماکا خیز مواد موجود تھا۔

بین الاقوامی قوانین کی پامالی

جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 18 اور 19 کے تحت کوئی بھی طبی مرکز صرف اسی صورت میں محفوظ تصور کیا جاتا ہے جب وہ صرف انسانی مقاصد کے لیے استعمال ہو۔ اگر کسی مرکز کو دشمن کے خلاف نقصان دہ سرگرمیوں، اسلحہ کی ذخیرہ اندوزی یا عسکری رابطہ کاری کے لیے استعمال کیا جائے، تو بین الاقوامی قانون کے تحت اس کا ‘محفوظ درجہ’ ختم ہو جاتا ہے۔ روم اسٹیچوٹ کے آرٹیکل 8 کے مطابق، عسکری لاجسٹکس میں شامل مقامات شہری لیبل کے باوجود قانونی عسکری ہدف بن جاتے ہیں۔

انسانی ڈھال اور پرپیگنڈا

پاکستان کا موقف ہمیشہ سے واضح رہا ہے کہ اس کی کارروائیاں صرف تصدیق شدہ دہشت گرد انفراسٹرکچر اور سرحد پار حملوں میں ملوث نیٹ ورکس کے خلاف ہیں۔ طالبان حکومت ایک طرف القاعدہ، ٹی ٹی پی اور داعش خراسان جیسی 20 سے زائد تنظیموں کو پناہ فراہم کر رہی ہے اور دوسری طرف عسکری اثاثوں کو بچانے کے لیے شہریوں کو بطور ‘انسانی ڈھال’ استعمال کر رہی ہے، جو ایڈیشنل پروٹوکول اوّل کے آرٹیکل 51(7) کی صریح خلاف ورزی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ طالبان کا پرaپیگنڈا نیٹ ورک جذباتی ہلاکتوں کی رپورٹس پھیلا کر کابل میں موجود دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں اور اسلحہ ڈپوؤں سے عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ شہری نقصانات کی تمام تر ذمہ داری ان عناصر پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے شہری اور عسکری مقامات کے فرق کو جان بوجھ کر ختم کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

ڈی جی آئی ایس پی آر نے شفاء تعمیر ملت یونیورسٹی میں طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے قومی سلامتی اور انفارمیشن وارفیئر پر روشنی ڈالی اور سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کی ضرورت پر زور دیا۔

May 14, 2026

یو این ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 28 ملین افراد غربت کا شکار ہیں اور 75 فیصد آبادی بنیادی ضروریات سے محروم ہو چکی ہے، جس کی بڑی وجوہات امداد میں کمی اور خشک سالی ہیں۔

May 14, 2026

کابل اور دہلی کے درمیان 46 ملین ڈالر کا حالیہ معاہدہ محض تجارتی نہیں بلکہ ایک تزویراتی چال ہے، جس کا مقصد پاکستان کی مغربی سرحد پر دباؤ بڑھانا اور افغان سرزمین کو پراکسی وار کے لیے استعمال کرنا ہے۔

May 14, 2026

انڈیا اور طالبان حکومت کے درمیان 46 ملین ڈالر کے لیبارٹری معاہدے پر سابق افغان وزیر سید سادات نادری اور پاکستانی تجزیہ نگاروں نے اسے اسٹریٹجک مفادات اور خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

May 14, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *