افغانستان کے دارالحکومت کابل کے شمال مغرب میں واقع امید ڈرگ ری ہیبیلیٹیشن ہسپتال پر ہونے والے حملے کے حوالے سے بین الاقوامی میڈیا، خصوصاً بی بی سی اور اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن کی رپورٹس میں انسانی ہلاکتوں کے پہلو کو نمایاں کیا جا رہا ہے، تاہم دفاعی ماہرین اور زمینی حقائق اس واقعے کے پیچھے چھپے طالبان کے انسانی ڈھال کے خطرناک بیانیے اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
بی بی سی کی رپورٹ اور زمینی حقائق
رپورٹ میں متاثرہ خاندانوں کے جذباتی بیانات اور اجتماعی قبروں کا تذکرہ کرتے ہوئے اسے افغانستان کی تاریخ کا مہلک ترین حملہ قرار دیا گیا ہے۔ لیکن اس بیانیے میں اس وسیع تر آپریشنل تناظر کو دانستہ طور پر نظر انداز کیا گیا ہے کہ طالبان نے گنجان آباد شہری علاقوں اور طبی مراکز کے قریب اپنا عسکری انفراسٹرکچر، غیر ملکی دہشت گرد اور اسلحہ کے بڑے ذخائر چھپا رکھے ہیں۔
عسکریت کاری کے ناقابلِ تردید ثبوت
سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح کی قیادت میں کام کرنے والے ادارے ‘افغانستان گرین ٹرینڈ’ نے انکشاف کیا ہے کہ مئی 2026 کے اوائل میں طالبان نے کابل کی آٹے کی مارکیٹ اور گنجان آباد علاقوں میں اسلحہ سے لدے 23 کنٹینرز منتقل کیے تھے۔ مزید برآں، امید مرکز کے محض 200 میٹر کے فاصلے پر ڈرونز اور گولہ بارود کے ذخائر کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں۔ جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والی ویڈیوز میں ثانوی دھماکوں اور طویل عرصے تک لگی رہنے والی آگ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہاں خالص شہری تنصیب کے بجائے دھماکا خیز مواد موجود تھا۔
بین الاقوامی قوانین کی پامالی
جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 18 اور 19 کے تحت کوئی بھی طبی مرکز صرف اسی صورت میں محفوظ تصور کیا جاتا ہے جب وہ صرف انسانی مقاصد کے لیے استعمال ہو۔ اگر کسی مرکز کو دشمن کے خلاف نقصان دہ سرگرمیوں، اسلحہ کی ذخیرہ اندوزی یا عسکری رابطہ کاری کے لیے استعمال کیا جائے، تو بین الاقوامی قانون کے تحت اس کا ‘محفوظ درجہ’ ختم ہو جاتا ہے۔ روم اسٹیچوٹ کے آرٹیکل 8 کے مطابق، عسکری لاجسٹکس میں شامل مقامات شہری لیبل کے باوجود قانونی عسکری ہدف بن جاتے ہیں۔
انسانی ڈھال اور پرپیگنڈا
پاکستان کا موقف ہمیشہ سے واضح رہا ہے کہ اس کی کارروائیاں صرف تصدیق شدہ دہشت گرد انفراسٹرکچر اور سرحد پار حملوں میں ملوث نیٹ ورکس کے خلاف ہیں۔ طالبان حکومت ایک طرف القاعدہ، ٹی ٹی پی اور داعش خراسان جیسی 20 سے زائد تنظیموں کو پناہ فراہم کر رہی ہے اور دوسری طرف عسکری اثاثوں کو بچانے کے لیے شہریوں کو بطور ‘انسانی ڈھال’ استعمال کر رہی ہے، جو ایڈیشنل پروٹوکول اوّل کے آرٹیکل 51(7) کی صریح خلاف ورزی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ طالبان کا پرaپیگنڈا نیٹ ورک جذباتی ہلاکتوں کی رپورٹس پھیلا کر کابل میں موجود دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں اور اسلحہ ڈپوؤں سے عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ شہری نقصانات کی تمام تر ذمہ داری ان عناصر پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے شہری اور عسکری مقامات کے فرق کو جان بوجھ کر ختم کیا ہے۔