لندن میں پی پی ڈی این کانفرنس تنازع کا شکار، پاکستان مخالف ایجنڈے اور فنڈنگ پر سنگین سوالات

لندن اسکول آف اکنامکس میں 6 جون کو ہونے والی پاکستان پالیسی کانفرنس کے منتظمین، 40 ملین ڈالر کی پراسرار فنڈنگ اور یکطرفہ پینل کی تشکیل پر سفارتی حلقوں میں شدید سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت کا کریک ڈاؤن، دینی مدارس این آئی اے کے نشانے پر

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تحقیقاتی ادارے نے سرینگر اور شوپیاں میں مسلم تعلیمی اداروں، جامعہ البنات اور جماعتِ اسلامی کے سابق سربراہ کی رہائش گاہ پر چھاپے مار کر خواتین کو ہراساں کیا۔
مغربی پراپیگنڈا مسترد: پاکستان کا سفارتی کردار ہی عالمی جنگ کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ

امریکی مؤرخ اسٹیفن کوٹکن کا ایران۔ پاکستان جوہری دعویٰ من گھڑت اور تضادات کا شکار ہے؛ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے فعال سفارتی اور معتبر مصالحتی کردار نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑی عالمی جنگ سے محفوظ رکھا ہے۔
عالمی تنہائی برقرار: طالبان کے ممکنہ دورۂ برسلز کے خلاف 82 بین الاقوامی تنظیموں کا احتجاج

افغان طالبان کی امتیازی پالیسیوں کے خلاف 82 عالمی تنظیموں نے جون میں طالبان وفد کے ممکنہ دورۂ برسلز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یورپی یونین سے سفارتی تعلقات قائم نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تیس مئی کے مذاکرات: عوامی خدمت یا سیاسی مفاد کا فیصلہ کن امتحان

تیس مئی کے مذاکرات جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لیے امتحان ہیں کہ وہ ہڑتالوں اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے نعروں سے پاک عملی نتائج اور عوامی ریلیف کو ترجیح دے۔
لندن کانفرنس میں جسٹس منصور علی شاہ کی شرکت پر سوالات؛ پاکستان کا مثبت تشخص کیوں نظرانداز؟

لندن کانفرنس میں جسٹس منصور علی شاہ کی شرکت اور قومی کامیابیوں کے بجائے متنازع امور کو ترجیح دینے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جہاں ملک کا مثبت عالمی تشخص یکسر نظرانداز کیا گیا۔