لندن اسکول آف اکنامکس کے ساؤتھ ایشیا سینٹر اور نو تشکیل شدہ ادارے پاکستان پالیسی اینڈ ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے اشتراک سے 6 جون 2026 کو لندن میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ پاکستان پالیسی اینڈ ڈیولپمنٹ کانفرنس 2026 کے عنوان سے ہونے والے اس ایونٹ میں پاکستان کے سیاسی، آئینی اور گورننس ڈھانچے سمیت عدلیہ اور ریاست کے باہمی تعلقات پر مباحثے شامل کیے گئے ہیں۔ تاہم، سفارتی اور سیاسی مبصرین کی جانب سے اس کانفرنس کے وقت، منتظمین کے سیاسی پس منظر اور اس کے پسِ پردہ مقاصد پر کئی سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
پی ٹی آئی لابنگ
سیاسی حلقوں میں پہلا اور بنیادی سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ یہ کانفرنس اب کیوں منعقد کی جا رہی ہے؟ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کی سفارتی پوزیشن، علاقائی اہمیت اور بین الاقوامی روابط میں واضح بہتری اور معاشی بحالی دکھائی دے رہی ہے، بیرونِ ملک پاکستان کے اندرونی سیاسی اور عدالتی امور کو اچھالنے کا کیا جواز ہے؟ مبصرین کے مطابق یہ اقدام بیرونِ ملک سرگرم پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) چیپٹر اور بعض غیر ملکی لابیز کی مشترکہ کوششوں کا حصہ ہے، جو عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے مسلسل سرگرم ہیں۔
دو ماہ پرانی تنظیم اور فنڈنگ
رپورٹس کے مطابق کانفرنس کے بنیادی منتظمین مصطفیٰ یار ہراج اور احمد زیرک رانا کو پی ٹی آئی کے سرگرم کارکن قرار دیا جا رہا ہے، جو طویل عرصے سے بیرونِ ملک پاکستان کے خلاف منفی بیانیہ تشکیل دینے میں ملوث رہے ہیں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ یہ نوجوان، جو ابھی اپنے ابتدائی پیشہ ورانہ مرحلے میں ہیں، انہوں نے محض دو ماہ قبل پی پی ڈی این کے نام سے یہ نیا پلیٹ فارم قائم کیا اور اتنی جلدی لندن اسکول آف اکنامکس جیسے معتبر ترین عالمی فورم تک رسائی حاصل کر لی۔ ماہرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا صرف دو ماہ میں کوئی بھی تنظیم پسِ پردہ عوامل اور بیرونی سرپرستی کے بغیر اتنا اثر و رسوخ حاصل کر سکتی ہے؟
سب سے بڑا سوال اس نیٹ ورک کی فنڈنگ اور ادارہ جاتی سرپرستی پر اٹھایا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اس نوآموز تنظیم کو 40 ملین ڈالر (چار کروڑ ڈالر) کی خطیر رقم پر مبنی اینڈومنٹ حاصل ہے۔ اتنی بڑی رقم ان نوجوانوں نے کہاں سے اور کس کے ایما پر حاصل کی؟ اس تنظیم کی مالی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے پاکستان سے لندن جانے والے تمام مہمان مقررین کے لیے مہنگے ترین بزنس کلاس ٹکٹس اور لندن کے لگژری ہوٹلوں میں قیام کا پُرآسائش انتظام کر رکھا ہے۔
اثر و رسوخ کا استعمال اور ماضی کا ریکارڈ
پی پی ڈی این کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مصطفیٰ ہراج پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ وہ اپنے سیاسی روابط کو پاکستان کے ریاستی بیانیے کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے 2023 میں اپنے چچا اور وفاقی وزیر محمد رضا حیات ہراج کے سیاسی اثر و رسوخ کا مبینہ استعمال کرتے ہوئے لاہور اسکول آف اکنامکس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور سابق صدر عارف علوی کی زوم سیشنز کے ذریعے شرکت کرائی تھی، اور اب وہی اثر و رسوخ برطانیہ میں پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔
متنازع جج کی شمولیت
کانفرنس کے پینل تھری (عدلیہ، آئین اور ریاست) کے حوالے سے بھی شدید تحفظات سامنے آئے ہیں۔ اس پینل میں جسٹس منصور علی شاہ کو مدعو کیا گیا ہے، جن پر مخصوص مقدمات میں محض قانونی موشگافیوں کے ذریعے فیصلے دینے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ ان کے ساتھ اس پینل میں اسد رحیم کو بھی شامل کیا گیا ہے جو ان کے معاون رہے ہیں۔ مزید برآں، اس پورے پینل کی صدارت ایک بھارتی نژاد شخص کے سپرد کی گئی ہے، جس نے منتظمین کی غیر جانبداری کو مکمل طور پر مشکوک بنا دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پورا پینل یکطرفہ ہے اور ایک مخصوص سیاسی نقطۂ نظر کی عکاسی کر رہا ہے۔
پاکستان کی ساکھ
سیاسی و سفارتی ماہرین کے مطابق، ایسے نازک وقت میں جب ریاستِ پاکستان داخلی استحکام، معاشی بحالی اور اپنے مثبت بین الاقوامی تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے کوشاں ہے، برطانیہ جیسے اہم پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے ایسی یکطرفہ سرگرمیاں سراسر پاکستان کی ساکھ کو عالمی سطح پر متاثر کرنے اور ملک میں دوبارہ بے یقینی پھیلانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔