لندن اسکول آف اکنامکس میں منعقدہ ‘پاکستان پالیسی اینڈ ڈیولپمنٹ کانفرنس 2026 میں سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) سید منصور علی شاہ کی شرکت اور ان کے مبینہ کردار پر ملک کے اندرونی عوامی و سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ عوامی حلقوں کی جانب سے یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کی معاشی اور سفارتی پیش رفت کو اجاگر کرنے کے بجائے ایسے موضوعات کو کیوں مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے جو ملک کے منفی تاثر کو تقویت دینے کا سبب بن سکتے ہیں۔
قومی بیانیے اور سفارتی کامیابیاں
ناقدین کے مطابق ایسے وقت میں جب پاکستان حالیہ عرصے کے دوران سفارتی، معاشی اور علاقائی سطح پر مسلسل مثبت پیش رفت اور معاشی بحالی کے دعوے کر رہا ہے، بین الاقوامی سطح کے علمی مباحثوں میں ان قومی کامیابیوں کو یکسر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ عوامی سطح پر یہ مطالبہ سامنے آ رہا ہے کہ فورم کے مقررین، بشمول جسٹس (ر) منصور علی شاہ، کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ انہوں نے عالمی برادری کے سامنے پاکستان کا ایک متوازن اور مثبت بیانیہ پیش کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے اور ملک کی حالیہ سفارتی کامیابیوں کو بحث کا حصہ کیوں نہیں بنایا گیا۔
تنقید برائے تنقید
دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ علمی فورمز پر تعمیری تنقید اور آئینی و قانونی موضوعات پر گفتگو بلاشبہ اہمیت رکھتی ہے، لیکن اس کی آڑ میں پاکستان کے عالمی تشخص کو نقصان پہنچانے والے پروپیگنڈے کا حصہ بننے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک منعقد ہونے والے ایسے پروگراموں میں ملکی اداروں اور پالیسیوں پر یکطرفہ تنقید کے بجائے معاشی اصلاحات اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو بھی یکساں جگہ ملنی چاہیے تاکہ دنیا کے سامنے ملک کی حقیقی اور مثبت تصویر سامنے آ سکے۔