"> لندن کانفرنس میں جسٹس (ر) منصور علی شاہ کا کردار اور عوامی حلقوں کے سوالات
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

لندن کانفرنس میں جسٹس منصور علی شاہ کی شرکت پر سوالات؛ پاکستان کا مثبت تشخص کیوں نظرانداز؟

لندن کانفرنس میں جسٹس منصور علی شاہ کی شرکت اور قومی کامیابیوں کے بجائے متنازع امور کو ترجیح دینے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جہاں ملک کا مثبت عالمی تشخص یکسر نظرانداز کیا گیا۔
لندن کانفرنس میں جسٹس منصور علی شاہ کی شرکت اور قومی کامیابیوں کے بجائے متنازع امور کو ترجیح دینے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جہاں ملک کا مثبت عالمی تشخص یکسر نظرانداز کیا گیا۔

لندن اسکول آف اکنامکس کی پاکستان کانفرنس 2026 میں جسٹس (ر) منصور علی شاہ کی شرکت پر اٹھنے والے سوالات۔ پاکستان کے مثبت عالمی تشخص اور معاشی بحالی کو نظرانداز کر کے متنازع بیانیے کو فروغ دینے پر عوامی حلقوں کا ردعمل۔

May 31, 2026

لندن اسکول آف اکنامکس میں منعقدہ ‘پاکستان پالیسی اینڈ ڈیولپمنٹ کانفرنس 2026 میں سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) سید منصور علی شاہ کی شرکت اور ان کے مبینہ کردار پر ملک کے اندرونی عوامی و سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ عوامی حلقوں کی جانب سے یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کی معاشی اور سفارتی پیش رفت کو اجاگر کرنے کے بجائے ایسے موضوعات کو کیوں مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے جو ملک کے منفی تاثر کو تقویت دینے کا سبب بن سکتے ہیں۔

قومی بیانیے اور سفارتی کامیابیاں

ناقدین کے مطابق ایسے وقت میں جب پاکستان حالیہ عرصے کے دوران سفارتی، معاشی اور علاقائی سطح پر مسلسل مثبت پیش رفت اور معاشی بحالی کے دعوے کر رہا ہے، بین الاقوامی سطح کے علمی مباحثوں میں ان قومی کامیابیوں کو یکسر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ عوامی سطح پر یہ مطالبہ سامنے آ رہا ہے کہ فورم کے مقررین، بشمول جسٹس (ر) منصور علی شاہ، کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ انہوں نے عالمی برادری کے سامنے پاکستان کا ایک متوازن اور مثبت بیانیہ پیش کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے اور ملک کی حالیہ سفارتی کامیابیوں کو بحث کا حصہ کیوں نہیں بنایا گیا۔

تنقید برائے تنقید

دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ علمی فورمز پر تعمیری تنقید اور آئینی و قانونی موضوعات پر گفتگو بلاشبہ اہمیت رکھتی ہے، لیکن اس کی آڑ میں پاکستان کے عالمی تشخص کو نقصان پہنچانے والے پروپیگنڈے کا حصہ بننے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک منعقد ہونے والے ایسے پروگراموں میں ملکی اداروں اور پالیسیوں پر یکطرفہ تنقید کے بجائے معاشی اصلاحات اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو بھی یکساں جگہ ملنی چاہیے تاکہ دنیا کے سامنے ملک کی حقیقی اور مثبت تصویر سامنے آ سکے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *