پاکستان میں 5 جی اسپیکٹرم کی نیلامی مکمل ہو گئی ہے،جس کے نتیجے میں حکومت کو 507 ملین ڈالر حاصل ہوئے ہیں اور ملک میں تیز رفتار انٹرنیٹ سروسز کے آغاز کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
ٹیلی کام آپریٹرز سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ابتدائی طور پر اسلام آباد اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں 5 جی سروس شروع کریں گے جسے بعد ازاں ملک کے دیگر علاقوں تک توسیع دی جائے گی۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مطابق نیلامی کے دوران مجموعی طور پر 480 میگا ہرٹز اسپیکٹرم فروخت کیا گیا جبکہ حکومت کا ہدف تقریباً 597 میگا ہرٹز تھا۔ نیلامی میں جاز، زونگ اور یوفون نے حصہ لیا اور اگلی نسل کی موبائل سروسز کیلئے فریکوئنسی حاصل کی۔
پی ٹی اے کے مطابق 700 میگا ہرٹز بینڈ میں دو لاٹس، 2300 میگا ہرٹز بینڈ کے تمام پانچ لاٹس، 2600 میگا ہرٹز بینڈ کے تمام 19 لاٹس جبکہ 3500 میگا ہرٹز بینڈ کے 28 میں سے 22 لاٹس فروخت ہوئے۔
نیلامی میں جاز سب سے بڑا خریدار بن کر سامنے آیا جس نے مجموعی طور پر 190 میگا ہرٹز اسپیکٹرم حاصل کیا۔ یوفون نے 180 میگا ہرٹز جبکہ زونگ نے 110 میگا ہرٹز اسپیکٹرم حاصل کیا۔
تقریب میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی شرکت کی اور کہا کہ 5 جی ٹیکنالوجی پاکستان کی معیشت اور ڈیجیٹل ترقی کیلئے اہم کردار ادا کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ٹیلی کام شعبے کو مضبوط بنانے کیلئے پالیسی اقدامات جاری رکھے گی۔
پی ٹی اے کے چیئرمین نے اس موقع کو پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا اور کہا کہ ٹیلی کام کمپنیوں کی فعال شرکت کے باعث نیلامی مسابقتی ماحول میں مکمل ہوئی۔
وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے بھی نیلامی کو پاکستان کی ٹیلی کمیونیکیشن تاریخ کا اہم مرحلہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیلامی کا پورا عمل شفاف انداز میں مکمل کیا گیا اور تمام بولی کے مراحل کو پی ٹی اے کے کنٹرول روم سے براہ راست نشر کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر نیلامی کی تمام تفصیلات عوام کے سامنے رکھی گئیں تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
حکام کے مطابق نئے اسپیکٹرم کے اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی بہتر ہونے کی توقع ہے جبکہ پاکستان اب ان ممالک کی فہرست میں شامل ہونے جا رہا ہے جہاں اگلی نسل کی موبائل سروسز متعارف کرائی جا رہی ہیں۔
تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری کنٹرول والے انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کی وجہ سے رفتار کے مسائل فوری طور پر مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکتے۔
انڈسٹری حکام کے مطابق ابتدائی مرحلے میں 5 جی سے بڑے کاروباری ادارے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں گے جبکہ عام صارفین کو فوری طور پر نمایاں بہتری محسوس ہونے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔
دیکھئیے:پاکستان کا جوہری ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمال پر پختہ عزم؛ وزیراعظم کی ڈی جی آئی اے ای اے سے ملاقات