وزیراعظم شہباز شریف نے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے صدر دفتر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ادارے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل ماریانو گروسّی سے اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پاکستان کی جانب سے جوہری ٹیکنالوجی کے محفوظ، ذمہ دارانہ اور پُرامن مقاصد کے لیے استعمال کے پختہ عزم کو دوبارہ دہرایا گیا۔
دورانِ ملاقات وزیراعظم اور ڈائریکٹر جنرل نے پُرامن ترقی اور عالمی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ عزم کو تقویت دینے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ گفتگو میں اس امر پرغور کیا گیا کہ جوہری ٹیکنالوجی کو صحت، انسانی زندگیوں کی بقا اور بہتر طبی نتائج کے حصول کے لیے بروئے کار لایا جائے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اعتماد اور مقصد پر مبنی عالمی تعاون زندگیوں کو محفوظ بنانے اور انسانی معاشرے کی بہتری میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
اس موقع پر ڈی جی آئی اے ای اے رافائل ماریانو گروسّی نے پاکستان کے ساتھ مضبوط شراکت داری کو سراہتے ہوئے ایک اہم سنگِ میل کا اعلان کیا۔ انہوں نے پاکستان کے انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ آنکولوجی کو باضابطہ طور پر آئی اے ای اے کا تعاون کار مرکز نامزد کیا۔ اس اقدام کا مقصد کینسر کی دیکھ بھال، ریڈیو فارماسیوٹیکلز کی تیاری اور نیوکلیئر میڈیسن کی خدمات تک رسائی کو مزید وسعت دینا ہے۔
Honored to welcome Pakistan’s Prime Minister Shehbaz Sharif to the @IAEAorg today.
— Rafael Mariano Grossi (@rafaelmgrossi) February 16, 2026
His visit underscored Pakistan’s commitment to the safe and responsible use of nuclear technology for peaceful purposes.
Proud to designate 🇵🇰’s Institute of Nuclear Medicine and Oncology (INMOL)… pic.twitter.com/z7jutDxZVv
سفارتی ماہرین کے مطابق یہ دورہ اور پاکستان کے طبی ادارے کی عالمی نامزدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان جوہری ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال میں عالمی معیار پر پورا اترتا ہے۔ اس شراکت داری سے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے بھر میں کینسر جیسے موذی مرض کے خلاف جنگ میں مدد ملے گی اور مستقبل میں ایک صحت مند معاشرے کی تعمیر کے خواب کو تعبیر ملے گی۔
دیکھیے: پاک بنگلہ باہمی تجارت 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کی صلاحیت موجود ہے، ہائی کمشنر