ایران پر حالیہ حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی مذہبی و سیاسی جماعتوں اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے سفارتی اور اخلاقی سطح پر ایران کی حمایت کی ہے اور اقوام متحدہ میں بھی ایران کے خلاف حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔

March 1, 2026

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے پیغام میں کہا کہ “یہ عظیم جرم کا جواب دیا جائے گا” اور ایران اپنی پوری طاقت اور عزم کے ساتھ ذمہ داران کو پچھتاوے پر مجبور کرے گا۔ ان کے مطابق خامنہ ای نے 37 برس حکمت و بصیرت سے قیادت کی اور ان کی ہلاکت کے بعد ملک ایک مشکل دور سے گزرے گا۔

March 1, 2026

اگر مشرقِ وسطیٰ کی آگ پھیلی تو اس کے شعلے ہماری سرحدوں تک بھی آ سکتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کو نہ صرف غیر جانبداری اختیار کرنی ہوگی بلکہ واضح، جراتمندانہ سفارتی موقف بھی اپنانا ہوگا۔ خاموش تماشائی بننے کا وقت نہیں، بصیرت اور پیش بندی کا وقت ہے۔ کیونکہ عالمی سیاست میں کمزور کی غیر جانبداری بھی اکثر محفوظ نہیں رہتی۔

March 1, 2026

مزید برآں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای اور ان کی اہلیہ بھی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

March 1, 2026

دونوں جانب سے جانی نقصان کی مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیکڑوں طالبان رجیم کے عسکری اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں، جبکہ افغان طالبان نے بھی پاکستانی فوج کی جانب سے شہری علاقوں پر فضائی حملوں اور چوکیوں پر حملوں کا الزام لگایا ہے۔

March 1, 2026

رائٹرز نے اسرائیلی حکام کی جانب سے اس دعوے کو رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای بھی اب اس دنیا میں نہیں رہے اور ان کی لاش بھی مل گئی ہے۔ ایرانی حکام نے اس خبر پر کہا ہے کہ وہ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اعلیٰ قیادت کے حوالے سے کسی خبر کی تصدیق کر سکیں۔

March 1, 2026

کراچی میں احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے، امریکی قونصلیٹ کے قریب جھڑپیں؛ حکام کی عوام سے پرامن رہنے کی اپیل

ایران پر حالیہ حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی مذہبی و سیاسی جماعتوں اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے سفارتی اور اخلاقی سطح پر ایران کی حمایت کی ہے اور اقوام متحدہ میں بھی ایران کے خلاف حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔
کراچی میں احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے، امریکی قونصلیٹ کے قریب جھڑپیں، 8 ہلاکتوں کی اطلاعات؛ حکام کی عوام سے پرامن رہنے کی اپیل

تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات پاکستان سمیت دیگر ممالک میں بھی دیکھے جا رہے ہیں، ایسے میں قومی اتحاد اور استحکام کو برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت قرار دیا جا رہا ہے۔

March 1, 2026

ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی خبروں کے بعد پاکستان کے شہر کراچی میں شدید احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ مظاہرین کی بڑی تعداد امریکی قونصلیٹ کے قریب جمع ہوئی جہاں حالات کشیدہ ہو گئے۔

قونصلیٹ کے قریب توڑ پھوڑ اور فائرنگ

عینی شاہدین کے مطابق مشتعل مظاہرین نے امریکی قونصلیٹ کے اطراف رکاوٹیں توڑنے کی کوشش کی اور عمارت کے احاطے میں داخل ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ بعض مظاہرین نے قونصلیٹ میں آگ لگانے کی کوشش کی، جس پر سیکیورٹی فورسز نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے کارروائی کی۔

ابتدائی رپورٹس کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ اسلام آباد میں احتجاج کی کال دے دی گئی یے۔

سلطان آباد ٹریفک سیکشن کو آگ لگا دی گئی

ریسکیو ذرائع کے مطابق قونصلیٹ کے قریب سلطان آباد ٹریفک سیکشن کو بھی آگ لگا دی گئی، جس کے بعد فائر بریگیڈ کی گاڑیاں طلب کی گئیں اور آگ بجھانے کا عمل شروع کیا گیا۔ پولیس اور رینجرز کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔

حکام کی اپیل: تحمل اور پرامن احتجاج

ایران پر حالیہ حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی مذہبی و سیاسی جماعتوں اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے سفارتی اور اخلاقی سطح پر ایران کی حمایت کی ہے اور اقوام متحدہ میں بھی ایران کے خلاف حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اگر ملک کے اندر احتجاج شدت اختیار کرتا ہے یا قانون کو ہاتھ میں لیا جاتا ہے تو اس سے دشمن عناصر کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ احتجاج کو پرامن رکھا جائے اور کسی بھی قسم کی بدامنی سے گریز کیا جائے۔

سیکیورٹی ہائی الرٹ

کراچی میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے جبکہ حساس تنصیبات کے اطراف نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کو قابو میں لانے کی کوشش جاری ہے اور مزید تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات پاکستان سمیت دیگر ممالک میں بھی دیکھے جا رہے ہیں، ایسے میں قومی اتحاد اور استحکام کو برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے پیغام میں کہا کہ “یہ عظیم جرم کا جواب دیا جائے گا” اور ایران اپنی پوری طاقت اور عزم کے ساتھ ذمہ داران کو پچھتاوے پر مجبور کرے گا۔ ان کے مطابق خامنہ ای نے 37 برس حکمت و بصیرت سے قیادت کی اور ان کی ہلاکت کے بعد ملک ایک مشکل دور سے گزرے گا۔

March 1, 2026

اگر مشرقِ وسطیٰ کی آگ پھیلی تو اس کے شعلے ہماری سرحدوں تک بھی آ سکتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کو نہ صرف غیر جانبداری اختیار کرنی ہوگی بلکہ واضح، جراتمندانہ سفارتی موقف بھی اپنانا ہوگا۔ خاموش تماشائی بننے کا وقت نہیں، بصیرت اور پیش بندی کا وقت ہے۔ کیونکہ عالمی سیاست میں کمزور کی غیر جانبداری بھی اکثر محفوظ نہیں رہتی۔

March 1, 2026

مزید برآں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای اور ان کی اہلیہ بھی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

March 1, 2026

دونوں جانب سے جانی نقصان کی مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیکڑوں طالبان رجیم کے عسکری اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں، جبکہ افغان طالبان نے بھی پاکستانی فوج کی جانب سے شہری علاقوں پر فضائی حملوں اور چوکیوں پر حملوں کا الزام لگایا ہے۔

March 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *