ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی خبروں کے بعد پاکستان کے شہر کراچی میں شدید احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ مظاہرین کی بڑی تعداد امریکی قونصلیٹ کے قریب جمع ہوئی جہاں حالات کشیدہ ہو گئے۔
قونصلیٹ کے قریب توڑ پھوڑ اور فائرنگ
عینی شاہدین کے مطابق مشتعل مظاہرین نے امریکی قونصلیٹ کے اطراف رکاوٹیں توڑنے کی کوشش کی اور عمارت کے احاطے میں داخل ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ بعض مظاہرین نے قونصلیٹ میں آگ لگانے کی کوشش کی، جس پر سیکیورٹی فورسز نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے کارروائی کی۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ اسلام آباد میں احتجاج کی کال دے دی گئی یے۔
سلطان آباد ٹریفک سیکشن کو آگ لگا دی گئی
ریسکیو ذرائع کے مطابق قونصلیٹ کے قریب سلطان آباد ٹریفک سیکشن کو بھی آگ لگا دی گئی، جس کے بعد فائر بریگیڈ کی گاڑیاں طلب کی گئیں اور آگ بجھانے کا عمل شروع کیا گیا۔ پولیس اور رینجرز کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔
حکام کی اپیل: تحمل اور پرامن احتجاج
ایران پر حالیہ حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی مذہبی و سیاسی جماعتوں اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے سفارتی اور اخلاقی سطح پر ایران کی حمایت کی ہے اور اقوام متحدہ میں بھی ایران کے خلاف حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اگر ملک کے اندر احتجاج شدت اختیار کرتا ہے یا قانون کو ہاتھ میں لیا جاتا ہے تو اس سے دشمن عناصر کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ احتجاج کو پرامن رکھا جائے اور کسی بھی قسم کی بدامنی سے گریز کیا جائے۔
سیکیورٹی ہائی الرٹ
کراچی میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے جبکہ حساس تنصیبات کے اطراف نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کو قابو میں لانے کی کوشش جاری ہے اور مزید تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات پاکستان سمیت دیگر ممالک میں بھی دیکھے جا رہے ہیں، ایسے میں قومی اتحاد اور استحکام کو برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت قرار دیا جا رہا ہے۔