امریکہ میں 11 ستمبر 2001 کے حملوں کو 25 برس مکمل ہو گئے ہیں۔ اس موقع پر ایک نئی تحقیقی رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی مسلمانوں کی نمائندگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے باوجود مسلمانوں کے خلاف منفی سوچ اب بھی قائم ہے۔
گیارہ ستمبر 2001 کو نیویارک کے جڑواں ٹاورز کو نشانہ بنایا۔ اس کے ساتھ پینٹاگون پر بھی حملہ کیا گیا۔ ان واقعات میں قریباً تین ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس سانحے نے دنیا بھر کو متاثر کیا۔
رپورٹ کے مطابق 43 فیصد امریکی مسلمانوں کو کم محب وطن سمجھتے ہیں۔ اس کے ساتھ 42 فیصد کا خیال ہے کہ مسلمانوں کا اثر منفی ہے۔
مزید برآں، 51 فیصد افراد اسلام کو پرتشدد مذہب سمجھتے ہیں۔ سال 2002 میں یہ شرح صرف 25 فیصد تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ منفی سوچ میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔
تحقیق کے مطابق ریپبلکن جماعت کے 76 فیصد حامی اسلام کو تشدد سے جوڑتے ہیں۔ اس کے برعکس، ڈیموکریٹ جماعت میں یہ شرح صرف 29 فیصد ہے۔
گزشتہ دس سالوں میں یہ تناسب مسلسل بلند رہا ہے۔ مجموعی طور پر تقریباً نصف آبادی اس منفی رائے کی حامی رہی ہے۔
نائن الیون کے فوراً بعد مسلمانوں کے خلاف جرائم بڑھے۔ سال 2001 میں مسلمانوں پر حملوں کے 481 واقعات درج ہوئے۔ بعد کے برسوں میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔
رپورٹ کے مطابق 52 فیصد مسلمانوں نے امتیازی سلوک کا سامنا کیا۔ اس کے علاوہ 68 فیصد نے میڈیا کوریج کو غیر منصفانہ قرار دیا۔
خلاصہ یہ ہے کہ پچیس سال بعد بھی اسلاموفوبیا ختم نہیں ہو سکا۔ مسلم کمیونٹی کو اب بھی معاشرتی تعصب کا سامنا ہے۔