انہوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی کی مدت بدھ کی صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہو جائے گی، جس کے باعث جنگ بندی ختم ہونے سے قبل ایران کا مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

April 21, 2026

مداحوں کی بڑی تعداد زین ملک کا دفاع کرتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ گلوکار نے ماضی میں بھی کئی بار اپنی پاکستانی شناخت اور ثقافت کا کھل کر اظہار کیا ہے، جو ان کی اپنی جڑوں سے محبت کا ثبوت ہے۔

April 21, 2026

رائلی روسو نے 62 اور شامل حسین نے 53 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی مگر اپنی ٹیم کو فتح دلانے میں ناکام رہے۔ لاہور قلندرز کے بولرز نے آخری اوورز میں نپی تلی بولنگ کی، جس میں حارث رؤف نے 2 جبکہ شاہین آفریدی، عبید شاہ، سکندر رضا اور اسامہ میر نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

April 21, 2026

اسحاق ڈار نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان براہ راست رابطوں کی ضرورت پر زور دیا تاکہ غلط فہمیوں کا خاتمہ اور کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔ اس موقع پر امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے خطے میں امن کے قیام اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں پاکستان کے کلیدی اور مثبت کردار کو سراہا۔

April 21, 2026

تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ اس پروپیگنڈے کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اسے مخصوص مذموم مقاصد کے تحت ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ عوام اور اداروں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کی جا سکیں

April 21, 2026

ان گرفتاریوں کا مقصد چین کو یہ یقین دہانی کروانا ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ گرفتار کیے گئے جنگجوؤں کو اس بار کابل کی پل چرخی جیل منتقل کرنے کے بجائے افغان انٹیلی جنس ادارے ’جی ڈی آئی‘ کے زیر انتظام خصوصی عمارتوں میں منتقل کیا گیا ہے

April 21, 2026

ایرانی صدر کا دورہ پاکستان: کیا خطے میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے؟

صدر پزشکیان کا یہ دورہ ایران پاکستان تعلقات میں ایک نئے موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر معاشی ترقی اور مشترکہ سیکیورٹی جیسے مفادات تاریخی کشیدگی اور جیوپولیٹیکل چیلنجز پر غالب آ رہے ہیں تو یہ خود ایک بڑی کامیابی ہے۔
پاک ایران تعلقات میں اہم پیش رفت

مشترکہ خوشحالی اور باہمی اعتماد کے ساتھ، ایران اور پاکستان نہ صرف اپنی دوستی مضبوط کر سکتے ہیں بلکہ مسلم دنیا کے لیے خود انحصاری کی مثال بھی بن سکتے ہیں

August 3, 2025

ایران اور پاکستان اقتصادی تعاون اور علاقائی استحکام کے ذریعے دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت دینا چاہتے ہیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا پاکستان کا دورہ، ان کے منصب سنبھالنے کے بعد پہلا غیرملکی دورہ اور ایک رسمی سفارتی روایت سے بڑھ کر ہے۔ یہ دورہ ایک مضبوط پیغام ہے کہ دونوں ممالک اب محض روایتی بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اور نتیجہ خیز شراکت کی طرف جانا چاہتے ہیں۔ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف مئی کے آخر میں تہران کا دورہ کر چکے ہیں۔ یہ اعلیٰ سطحی روابط اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ایران اور پاکستان اب صرف تاریخی رشتوں پر نہیں بلکہ سیکیورٹی، معیشت اور سفارت کاری میں حقیقی فوائد پر مبنی تعلق چاہتے ہیں جو پورے خطے کو بدل سکتے ہیں۔

برسوں سے، تاریخ اور ثقافت کی قربت کے باوجود دونوں ملکوں کے تعلقات باہمی عدم اعتماد، علاقائی مفادات اور بیرونی اثرات سے متاثر رہے ہیں۔ ایران اور پاکستان کے مختلف علاقائی اتحادیوں نے ایک نازک توازن قائم رکھا مگر حالیہ جغرافیائی تبدیلیوں، جیسے چین کی ثالثی میں ایران-سعودی مفاہمت، نے پاکستان کو تہران سے تعلقات مضبوط بنانے کا نیا سفارتی موقع دیا ہے۔

ماضی کی بنسبت بہتر مستقبل کی امید

ایران پاکستان تعلقات کی تاریخ کبھی تعاون، تو کبھی کشیدگی کی مثال بنی۔ حالیہ برسوں میں سرحد پار میزائل حملوں جیسے واقعات نے واضح کر دیا ہے کہ اب ایک باضابطہ اور مستقل تعاون کا ڈھانچہ ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دورے کو ایک اہم سفارتی اشارہ سمجھا جا رہا ہے جہاں دونوں فریق اس بات پر متفق ہیں کہ ایک ملک کی سیکیورٹی اور خوشحالی دوسرے ملک سے الگ نہیں ہو سکتی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس تعلق کو “مستقبل کی اسٹریٹجک سرمایہ کاری” قرار دے کر اس سوچ کی تصدیق کی۔

دونوں ممالک کے لیے مشترکہ خطرات کی شناخت اس حکمت عملی کی بنیاد ہے۔ دونوں ریاستیں سرحدی علاقوں میں شدت پسندانہ سرگرمیوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ دونوں قیادتوں نے دہشتگردی کے خلاف سخت مؤقف اپناتے ہوئے باہمی تعاون بڑھانے کا عزم ظاہر کیا۔ انسداد دہشتگردی میں تعاون سے نہ صرف سیکیورٹی بہتر ہوگی بلکہ تجارت کو بھی فروغ ملے گا۔

تجارتی راہداریوں اور بارڈر مارکیٹس کا معاشی وژن

اس دورے کی سب سے اہم کامیابی 8 ارب ڈالر سالانہ کے تجارتی ہدف کا تعین ہے۔ یہ محض خواہش نہیں بلکہ جغرافیائی قربت کو فائدے میں بدلنے کی سیاسی حکمت عملی کا مظہر ہے۔ دونوں ممالک کے وزرائے تجارت نے سرحدی منڈیوں کے قیام اور موجودہ راہداریوں کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے تاکہ قانونی تجارت کو فروغ دیا جائے اور اسمگلنگ کم ہو۔ جو اس وقت بڑے پیمانے پر جاری ہے۔

مشترکہ اقتصادی کمیشن کا آئندہ اجلاس بھی جلد بلانے پر اتفاق ہوا ہے تاکہ باقاعدہ فریم ورک طے کیا جا سکے۔ زراعت، مویشی، توانائی، خدمات اور لاجسٹکس جیسے شعبے خاص توجہ کا مرکز ہوں گے۔ پاکستان نے صوبائی و وفاقی چیمبرز پر مشتمل تجارتی مشن قائم کرنے کی پیشکش کی ہے تاکہ مارکیٹ تک رسائی اور ریگولیٹری مسائل پر ٹھوس پیش رفت کی جا سکے۔ اس کے ساتھ عوامی روابط اور ثقافتی قربت کو بھی اعتماد سازی کا ذریعہ قرار دیا گیا۔

مشکلات کے باوجود بہتر مستقبل کی راہیں ہموار

اگرچہ سمت درست ہے مگر راستہ آسان نہیں ہے۔ سب سے بڑی رکاوٹ امریکی پابندیاں ہیں، جو ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ پاکستان کو ایک نازک توازن برقرار رکھنا ہوگا۔ ایک طرف ایران سے بڑھتے تعلقات اور دوسری جانب خلیجی ممالک، خاص طور پر سعودی عرب سے دیرینہ روابط۔ دونوں ممالک کی قیادت پر یہ بھاری ذمہ داری ہے کہ معاہدوں پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنائیں تاکہ یہ سفارتی پیش رفت ضائع نہ ہو۔

صدر پزشکیان کا یہ دورہ ایران پاکستان تعلقات میں ایک نئے موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر معاشی ترقی اور مشترکہ سیکیورٹی جیسے مفادات تاریخی کشیدگی اور جیوپولیٹیکل چیلنجز پر غالب آ رہے ہیں تو یہ خود ایک بڑی کامیابی ہے۔ تجارتی اہداف، انسداد دہشتگردی میں ادارہ جاتی تعاون، اور علاقائی رابطے کو مضبوط کرنے کا وژن یہ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات استحکام کی سمت بڑھ رہے ہیں۔ مشترکہ خوشحالی اور باہمی اعتماد کے ساتھ، ایران اور پاکستان نہ صرف اپنی دوستی مضبوط کر سکتے ہیں بلکہ مسلم دنیا کے لیے خود انحصاری کی مثال بھی بن سکتے ہیں۔

دیکھیں: ایرانی صدر دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے

متعلقہ مضامین

انہوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی کی مدت بدھ کی صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہو جائے گی، جس کے باعث جنگ بندی ختم ہونے سے قبل ایران کا مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

April 21, 2026

مداحوں کی بڑی تعداد زین ملک کا دفاع کرتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ گلوکار نے ماضی میں بھی کئی بار اپنی پاکستانی شناخت اور ثقافت کا کھل کر اظہار کیا ہے، جو ان کی اپنی جڑوں سے محبت کا ثبوت ہے۔

April 21, 2026

رائلی روسو نے 62 اور شامل حسین نے 53 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی مگر اپنی ٹیم کو فتح دلانے میں ناکام رہے۔ لاہور قلندرز کے بولرز نے آخری اوورز میں نپی تلی بولنگ کی، جس میں حارث رؤف نے 2 جبکہ شاہین آفریدی، عبید شاہ، سکندر رضا اور اسامہ میر نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

April 21, 2026

اسحاق ڈار نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان براہ راست رابطوں کی ضرورت پر زور دیا تاکہ غلط فہمیوں کا خاتمہ اور کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔ اس موقع پر امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے خطے میں امن کے قیام اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں پاکستان کے کلیدی اور مثبت کردار کو سراہا۔

April 21, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *