سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں، جن کے دوران اب تک 62 خوارج ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ کارروائیوں کے دوران خوارج کے متعدد ٹھکانے تباہ کیے گئے، جبکہ بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
یہ کارروائیاں آپریشن 11 گرج کے تحت کی جا رہی ہیں، جن کا مقصد خوارج کے نیٹ ورک، آپریشنل ڈھانچے اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال ہونے والے ٹھکانوں کا مکمل خاتمہ ہے۔
کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے خوارج کی نقل و حرکت اور مشتبہ ٹھکانوں کی مسلسل نگرانی کی۔ جدید نگرانی کے لیے کواڈ کاپٹرز بھی استعمال کیے گئے، جن کی مدد سے درختوں کے نیچے چھپے خوارج کی نشاندہی کر کے انہیں نشانہ بنایا گیا۔
آپریشن کے دوران خوارج کے چار اہم کمانڈروں کو بھی ہلاک کیا گیا۔ ان کمانڈروں کے خاتمے سے تنظیم کی کمانڈ اور حملوں کی منصوبہ بندی کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچنے کی توقع ہے۔
شمالی وزیرستان کا دشوار گزار جغرافیہ دہشت گرد عناصر کو چھپنے اور نقل و حرکت کے مواقع فراہم کرتا ہے، تاہم سکیورٹی فورسز نے علاقے میں مسلسل انٹیلی جنس اور نگرانی پر مبنی کارروائیوں کے ذریعے دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔
سکیورٹی فورسز کے مطابق دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور آخری خارجی کے خاتمے تک کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔ فورسز خیبر پختونخوا کے عوام کے جان و مال کے تحفظ اور دہشت گرد تنظیموں کو دوبارہ منظم ہونے سے روکنے کے لیے پُرعزم ہیں۔
دیکھیے: باجوڑ میں فتنہ الخوارج کے خلاف بڑا آپریشن، افغان شہریوں سمیت متعدد دہشت گرد ہلاک