اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 38ویں مانیٹرنگ ٹیم کی جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ میں افغانستان کو علاقائی دہشت گردی کا بڑا مرکز قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان سے اٹھنے والی دہشت گردی سرحد پار کشیدگی کو ہوا دے رہی ہے اور طالبان حکومت کی مسلسل ناکامی سے دہشت گرد گروہوں کو آپریشنل سہولیات میسر آ رہی ہیں۔
سلامتی کونسل کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے ‘فتنة الخوارج’ کی مسلسل سرپرستی کی جا رہی ہے اور انہیں جدید ترین اسلحہ فراہم کیا گیا ہے۔ باجوڑ میں 16 فروری کو ہونے والے خودکش حملے کے تانے بانے بھی افغانستان میں موجود سیکیورٹی نیٹ ورک سے ملتے ہیں، جبکہ فتنة الخوارج نے آپریشن خیبر کے تحت حملوں میں شدت پیدا کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق القاعدہ نے فتنة الخوارج کو نظریاتی ہدایت، تربیت اور عملی معاونت فراہم کی ہے اور تاریخ میں پہلی بار طالبان حکومت کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف مہم کی علانیہ حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ القاعدہ کی اعلیٰ قیادت کابل میں موجود ہے جنہیں نقل و حرکت کے لیے شناختی دستاویزات تک جاری کی گئی ہیں۔
افغانستان دنیا بھر سے غیر ملکی جنگجوؤں کو اپنی جانب راغب کر رہا ہے، جہاں ای ٹی آئی ایم نے بدخشاں، قندوز اور نورستان میں نئے ٹھکانے قائم کر کے ڈرون صلاحیت حاصل کر لی ہے۔ شام اور صومالیہ کی الشباب سے تعلق رکھنے والے متعدد غیر ملکی جنگجو بھی افغان سرزمین پر منتقل ہو چکے ہیں۔
داعش کو بھی خطے کے لیے بڑا خطرناک عنصر قرار دیا گیا ہے، جس نے کابل، ہرات، اسلام آباد اور شیخ محمد ادریس کی شہادت جیسے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ داعش پروپیگنڈے اور آن لائن ذہن سازی کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کر رہی ہے۔
رپورٹ میں یہ خطرناک انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ القاعدہ اور داعش کی جانب سے کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیار تیار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ سلامتی کونسل نے متنبہ کیا ہے کہ ان نیٹ ورکس کا خاتمہ نہ ہونا نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے مسلسل اور سنگین خطرہ ہے۔
دیکھیے: بدخشاں: طالبان اور جمعہ خان کے جنگجوؤں میں خونریز جھڑپیں، دو طالبان ہلاک