کیا کسی کو گبریلا ریکو نام کی لڑکی یاد ہے؟ 21 سالہ اس لڑکی نے سب سے پہلے اس شیطانیت کو بے نقاب کرتے ہوئے احتجاج کیا تھا اور بتایا تھا کہ یہ لوگ بچوں سے جنسی جرائم ہی نہیں کرتے یہ بچوں کا گوشت بھی کھاتے ہیں۔ کہا گیا اس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ اس کے بعد اسے غائب کر دیا گیا۔

February 4, 2026

28 جنوری کے روز یاسین کا 18 سالہ بیٹا تابش گنائی اپنے بڑے بھائی دانش گنائی کے ہمراہ شالوں کی گٹھڑی لے کر شملہ کی قریبی ریاست اتراکھنڈ کے دارالحکومت دہرادُون اس اُمید کے ساتھ روانہ ہوئے کہ والد کے وہاں پہنچنے پر وہ اچھی کمائی کر چکے ہوں گے۔

February 4, 2026

لیبیا کے سابق رہنماء معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو زنتان میں ان کے گھر میں چار مسلح افراد نے قتل کر دیا

February 4, 2026

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے واضح کیا کہ یہ تاثر محض پروپیگنڈا ہے کہ ریکو ڈیک جیسے منصوبے بلوچستان کے وسائل پر قبضے یا استحصال کے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریکو ڈیک منصوبے میں بلوچستان حکومت کا 25 فیصد حصہ ہے اور صوبائی حکومت کو اس کے آپریشنز اور مینجمنٹ پر کنٹرول حاصل ہے۔

February 4, 2026

عالمی اشاریے پاکستان کو یہ نہیں بتاتے کہ کہاں، کیسے اور کن اداروں میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ آئی ٹیپ اس خلا کو پُر کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جو صوبائی، ادارہ جاتی اور حتیٰ کہ ذیلی سطح پر اصلاحات کے لیے قابلِ عمل سمت متعین کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے محض ایک رپورٹ نہیں بلکہ پالیسی اصلاحات کے لیے آئینہ سمجھا جانا چاہیے۔

February 4, 2026

خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب نے 43 جانیں لے لیں

اب تک 43 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہوے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 33 مرد، 2 خواتین اور 8 بچے شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں 11 مرد، 2 خواتین اور1 بچہ شامل ہے۔ پی ڈی ایم اے
اب تک 43 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہوے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 33 مرد، 2 خواتین اور 8 بچے شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں 11 مرد، 2 خواتین اور1 بچہ شامل ہے۔ پی ڈی ایم اے

موسمی صورتحال پر نظر رکھتے ہوئے پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سنٹر مکمل طور پر فعال ہے۔ عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔ ترجمان پی ڈی ایم اے

August 15, 2025

پشاور: پی ڈی ایم اے نے 24 گھنٹوں میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث خیبر پختونخوا میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کردی۔

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مختلف حادثات میں اب تک 43 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہوے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 33 مرد، 2 خواتین اور 8 بچے شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں 11 مرد، 2 خواتین اور1 بچہ شامل ہے۔ پی ڈی ایم اے

بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 30 گھر متاثر ہوئے، جن میں پانچ گھر مکمل طور پر منہدم ہوگئے۔

رپورٹ کے مطابق یہ حادثات خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں پیش آئے، جن میں سوات، بونیر ، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام شامل ہیں۔

سب سے زیادہ متاثرہ علاقے باجوڑ اور بٹگرام ہیں جہاں ہنگامی بنیادوں پر ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق ان بارشوں کا سلسلہ 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔

پی ڈی ایم اے نے قبل از وقت موسمی صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ کو اقدامات اٹھانے کے لئے ہدایات جاری کردی تھی۔

پی ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو متاثرہ شاہراوں کی بحالی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ نیز سیاحوں کو موسمی صورتحال کو مدّنظر رکھتے ہوئے سیر و سیاحت کے لیے نکلنے کی اپیل کی ہے۔

موسمی صورتحال پر نظر رکھتے ہوئے پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سنٹر مکمل طور پر فعال ہے۔ عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔ ترجمان پی ڈی ایم اے

دیکھیں: کولگام میں بھارتی فوج کا آپریشن دسویں روز بھی جاری، دو اہلکار ہلاک ہو گئے

متعلقہ مضامین

کیا کسی کو گبریلا ریکو نام کی لڑکی یاد ہے؟ 21 سالہ اس لڑکی نے سب سے پہلے اس شیطانیت کو بے نقاب کرتے ہوئے احتجاج کیا تھا اور بتایا تھا کہ یہ لوگ بچوں سے جنسی جرائم ہی نہیں کرتے یہ بچوں کا گوشت بھی کھاتے ہیں۔ کہا گیا اس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ اس کے بعد اسے غائب کر دیا گیا۔

February 4, 2026

28 جنوری کے روز یاسین کا 18 سالہ بیٹا تابش گنائی اپنے بڑے بھائی دانش گنائی کے ہمراہ شالوں کی گٹھڑی لے کر شملہ کی قریبی ریاست اتراکھنڈ کے دارالحکومت دہرادُون اس اُمید کے ساتھ روانہ ہوئے کہ والد کے وہاں پہنچنے پر وہ اچھی کمائی کر چکے ہوں گے۔

February 4, 2026

لیبیا کے سابق رہنماء معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو زنتان میں ان کے گھر میں چار مسلح افراد نے قتل کر دیا

February 4, 2026

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے واضح کیا کہ یہ تاثر محض پروپیگنڈا ہے کہ ریکو ڈیک جیسے منصوبے بلوچستان کے وسائل پر قبضے یا استحصال کے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریکو ڈیک منصوبے میں بلوچستان حکومت کا 25 فیصد حصہ ہے اور صوبائی حکومت کو اس کے آپریشنز اور مینجمنٹ پر کنٹرول حاصل ہے۔

February 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *