پاکستان کی سیکیورٹی فورسز پیشہ ورانہ مہارت، انٹیلی جنس، جدید ٹیکنالوجی اور درست کارروائیوں کے ذریعے خوارج دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کر رہی ہیں، جبکہ شہری جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ تِیراہ میں ہونے والی کارروائیاں قانونی، محدود اور مخصوص اہداف کے خلاف ہیں۔

January 29, 2026

الیکشن کمیشن حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں منتخب نمائندوں کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کے عمل میں تیزی لائی جا رہی ہے، تاکہ شفافیت اور احتساب کے عمل کو مؤثر بنایا جا سکے۔ اسی سلسلے میں ڈاکٹر امجد علی کے اثاثوں کا ریکارڈ بھی زیرِ جائزہ لایا جا رہا ہے۔

January 29, 2026

پولیس سربراہ نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خواہ وہ مدارس میں ہوں یا سرکاری ملازمتوں میں، سب کے لیے عمومی حکم یہی ہے کہ اگر کوئی نوجوان جنگ کے لیے جاتا پایا گیا تو اسے اس کی ملازمت سے برطرف کر دیا جائے گا، جیل میں ڈالا جائے گا اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

January 29, 2026

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان وزارتِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے غزہ میں امن اور تعمیر نو کے لیے قائم ‘بورڈ آف پیس’ میں شمولیت اختیار کر لی ہے، تاہم یہ ابراہیمی معاہدے یا بین الاقوامی استحکام فورس کا حصہ نہیں بنے گا۔

January 29, 2026

تعلیم کے شعبے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں غیر فعال تعلیمی اداروں، جنہیں “گھوسٹ اسکولز” کہا جاتا تھا، کو بحال کیا گیا ہے تاکہ بلوچستان کے بچوں کو تعلیم کی سہولت میسر آ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم انتہاپسندی کے خاتمے اور دیرپا سماجی استحکام کی بنیاد ہے۔

January 29, 2026

اپنے تعلیمی دورے کے دوران ارپنگا بریال کو ناسا کے جانسن اسپیس سینٹر کا دورہ کرنے کا موقع بھی ملا، جہاں انہوں نے خلائی تحقیق اور جدید سائنسی منصوبوں کے بارے میں براہِ راست معلومات حاصل کیں۔ یہ تجربہ ان کے لیے سائنسی دلچسپی اور مستقبل کے اہداف کے تعین میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

January 29, 2026

افغان وزیرِ خارجہ نے پاکستان پر افغانستان میں عدم استحکام پھیلانے کا الزام عائد کر دیا

انیس اگست کو کابل میں افغانستان کے یومِ آزادی کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیر خان متقی نے کہا افغان حکومت نے ایک بہترین اور مستحکم نظام قائم کر لیا ہے لہذا ہمسایہ ممالک افغانستان سے متعلق ناپاک عزاِئم دیکھنا بند کریں
انیس اگست کو کابل میں افغانستان کے یومِ آزادی کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیر خان متقی نے کہا افغان حکومت نے ایک بہترین اور مستحکم نظام قائم کر لیا ہے لہذا ہمسایہ ممالک افغانستان سے متعلق ناپاک عزاِئم دیکھنا بند کریں

پاکستان کی اہم شخصیات نے متعدد مرتبہ کابل کا دورہ کیا جن میں آئی ایس آئی کے سربراہ، کور کمانڈر، علما و مشائخ اور حکومتی نمائندے شامل رہے ہیں لیکن المیے کا عالم یہ ہے کہ افغان حکام نے دہشت گردوں کے خلاف کسی بھی کے اقدامات نہیں اُٹھائے انکے ٹھکانوں ختم کرنا تو درکنار

August 20, 2025

کابل: 19 اگست کو کابل میں افغانستان کے یومِ آزادی کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے کہا افغان حکومت نے ایک بہترین اور مستحکم نظام قائم کر لیا ہے لہذا ہمسایہ ممالک افغانستان سے متعلق ناپاک عزاِئم دیکھنا بند کریں۔

ان کا کہنا تھا اللہ کے فضل سے افغان ریاست تیزی سے ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ تمام ممالک کو واضح اور دوٹوک پیغام ہے کہ افغانستان کے لیے بُرے خواب دیکھنا بند کر دیں۔ متعدد تجربات کے بعد افغانستان میں ایک اچھا نظام قائم ہوگیا ہے۔ جو لوگ ہم پر پتھر برسا رہے ہیں، ان کے لیے رحمان بابا کا شعر کافی ہے کہ؛ جو تیر دوسروں پر پھینکو گے، وہ واپس تمہاری طرف ہی آئے گا۔

وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے پشتو کے مشہور شاعر رحمان بابا کا شعر پڑھ کر ہمسایہ ممالک کو واضح انداز میں پیغام دیا کیا کہ دشمنی پر مبنی اقدامات کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

سابق افغان رکن پارلیمان فوزیہ کوفی نے ڈان نیوز کو بتایا کہ خطے کے ممالک کے ساتھ روابط افغانستان کی صورتحال پر اثر انداز ہونے کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر خطے کے ممالک بشمول پاکستان اس طرح کے مکالمے کے لیے جگہ فراہم کرنے کو تیار ہیں، تو اسے ایک مثبت قدم سمجھا جانا چاہیے۔

افغان پالیسی پر ایک جائزہ

اگرچہ افغانستان ریاستِ پاکستان پر طالبان مخالف افراد کو پناہ دینے کا الزام لگاتا ہے، متعدد تحقیقات کے مطابق افغان طالبان بذاتِ خود ریاستی پاکستان پر حملوں کے لیے ٹی ٹی پی ودیگر دہشت گردوں کو پناہ اور مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔

بارہ فروری 2025 کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک رپورٹ جاری کی جس کے مطابق تحریکِ طالبان پاکستان سمیت بیس سے زائد شدت پسند گروہ سرگرم ہوچکے ہیں جن مین سرفہرست القاعدہ، داعش خراسان اور بلوچستان لبریشن آرمی کا نام ہے۔

رپورٹ میں بھی شامل ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کی مالی مدد بھی کی جا رہی ہے۔
ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کے خاندان کو ماہانہ 30 لاکھ افغانی کرنسی (\$43,000) دی جارہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کے نئے تربیتی مراکز کنڑ، ننگرہار، خوست اور پکتیکا میں قائم کیے گئے ہیں۔

پاکستان کی اہم شخصیات نے متعدد مرتبہ کابل کا دورہ کیا جن میں آئی ایس آئی کے سربراہ، کور کمانڈر، علما و مشائخ اور حکومتی نمائندے شامل رہے ہیں لیکن المیے کا عالم یہ ہے کہ افغان حکام نے دہشت گردوں کے خلاف کسی بھی کے اقدامات نہیں اُٹھائے انکے ٹھکانوں ختم کرنا تو درکنار۔ اس طرح کا طرز عمل پاک افغان تعلقات میں دوریوں کا سب بنتا جارہا ہے، لہذا افغٓن کو سنجیدگی سے سوچتے ہوٗے اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔ دیکھا جاٗے تو افغان معیشت کی کامیابی بھی پاکستان سے تعلقات استوار کرنے سے ہی جڑی ہوٗی ہے۔

افغان وزیر کے بیان پر پاکستانی کی جانب سے ابھی تک باقاعدہ بیان جاری نہیں ہوا لیکن اس موقع پر افغان حکام کے لیے واضح پیغام ہے کہ اپنی سابقہ پالیسیوں کو دوبارہ نہ دہراٗے کہیں افغانستان اپنے آپ کو پھر سے ماضی کی جانب کی جانب تو نہیں دھکیل رہے۔

افغان حکام کو چاہیے کہ اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرتے ہوٗے باقاعدہ پالیسی مرتب کریں نیز افغان وزرا کو اشعار کے بجاٗٗےپڑوسی ممالک کو اعتماد میں لیتے ہوٗے خطے کے امن و استحکام میں اپنا کردار ادا کرے

دیکھیں: افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کا دورہ پاکستان ملتوی

متعلقہ مضامین

پاکستان کی سیکیورٹی فورسز پیشہ ورانہ مہارت، انٹیلی جنس، جدید ٹیکنالوجی اور درست کارروائیوں کے ذریعے خوارج دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کر رہی ہیں، جبکہ شہری جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ تِیراہ میں ہونے والی کارروائیاں قانونی، محدود اور مخصوص اہداف کے خلاف ہیں۔

January 29, 2026

الیکشن کمیشن حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں منتخب نمائندوں کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کے عمل میں تیزی لائی جا رہی ہے، تاکہ شفافیت اور احتساب کے عمل کو مؤثر بنایا جا سکے۔ اسی سلسلے میں ڈاکٹر امجد علی کے اثاثوں کا ریکارڈ بھی زیرِ جائزہ لایا جا رہا ہے۔

January 29, 2026

پولیس سربراہ نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خواہ وہ مدارس میں ہوں یا سرکاری ملازمتوں میں، سب کے لیے عمومی حکم یہی ہے کہ اگر کوئی نوجوان جنگ کے لیے جاتا پایا گیا تو اسے اس کی ملازمت سے برطرف کر دیا جائے گا، جیل میں ڈالا جائے گا اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

January 29, 2026

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان وزارتِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے غزہ میں امن اور تعمیر نو کے لیے قائم ‘بورڈ آف پیس’ میں شمولیت اختیار کر لی ہے، تاہم یہ ابراہیمی معاہدے یا بین الاقوامی استحکام فورس کا حصہ نہیں بنے گا۔

January 29, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *