پی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات کی ناکامی نے سیاسی کشیدگی اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر نئے سوالات اٹھا دیے۔

October 4, 2026

ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے تین اہم سرغنہ سمیت آٹھ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

October 4, 2026

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کو بچانے کے لیے ایمرجنسی لگانا پڑی تو ضرور لگائیں گے، اور اس صورت میں پی ٹی آئی کے لیے وہ اکیلے ہی کافی ہیں۔

October 4, 2026

حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں بنیادی تعطل خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی پر تحریری تعاون نہ ملنے کی وجہ سے پیدا ہوا، جبکہ سویلین عمل سے متعلق الزامات کو مسترد کر دیا گیا۔

October 4, 2026

طویل مذاکرات میں حکومت کے بڑے پن کے باوجود پی ٹی آئی نے انسدادِ دہشت گردی اور نیشنل ایکشن پلان پر تعاون سے انکار کر کے انتشار کی راہ چن لی۔

October 4, 2026

سعودی عرب اور یمن نے بحیرہ احمر کی بحالی کیلئے حوثیوں کیخلاف مشترکہ فوجی کارروائی کا حتمی خاکہ تیار کر لیا۔

October 4, 2026

ماہرین نے برطانیہ کی غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت پالیسی کو پاکستان سے مماثلت دے دی

پاکستان گزشتہ چار دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے، جس سے ملکی معیشت اور سماج پر بھاری بوجھ پڑا ہے۔
ماہین نے برطانیہ کی غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت پالیسی کو پاکستان سے مماثلت دے دی

برطانیہ کو حالیہ برسوں میں ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن کا سامنا رہا ہے، جو زیادہ تر چھوٹی کشتیوں کے ذریعے پہنچے۔

August 27, 2025

برطانیہ نے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت اصلاحات متعارف کرائی ہیں، جنہیں ماہرین پاکستان کی افغان مہاجرین کی واپسی پالیسی سے مشابہ قرار دے رہے ہیں۔

برطانیہ کی نئی پالیسی

برطانوی حکام کے مطابق اب ہر وہ شخص جو بغیر اجازت ملک میں داخل ہوگا، گرفتار کیا جائے گا، اپنے ملک واپس بھیجا جائے گا اور ہمیشہ کے لیے برطانیہ میں داخلے پر پابندی عائد ہوگی۔ حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی آمد نے ملکی وسائل، بارڈر مینجمنٹ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دباؤ ڈالا ہے، جس کے باعث سخت اقدامات ضروری ہیں۔

پاکستان کی افغان مہاجرین سے متعلق پالیسی

پاکستان نے بھی غیر قانونی افغان مہاجرین کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی مقیم افغان شہری نہ صرف قانون و نظم کے لیے خطرہ ہیں بلکہ قومی سلامتی پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔ حکومت نے غیر قانونی رہائش کو اسمگلنگ، دہشت گردی اور معیشت پر بوجھ سے جوڑا ہے۔

تاہم برطانیہ کی مجوزہ پالیسی کے برعکس پاکستان نے مرحلہ وار واپسی کا منصوبہ بنایا، متعدد بار رضاکارانہ واپسی کی ڈیڈ لائنز دیں اور قانونی راستے فراہم کیے۔ اس کے باوجود ہزاروں افغان شہری ملک بدر کیے گئے ہیں اور مزید واپسی کے عمل میں ہیں۔

اعداد و شمار کا فرق

برطانیہ کو حالیہ برسوں میں ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن کا سامنا رہا ہے، جو زیادہ تر چھوٹی کشتیوں کے ذریعے پہنچے۔ دوسری جانب پاکستان چار ملین سے زائد افغان شہریوں کی میزبانی کر رہا ہے، جن میں سے دس لاکھ سے زیادہ کو غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے بوجھ کے باوجود پاکستان کی پالیسی مغربی ممالک کے مقابلے میں زیادہ نرم ہے۔

عالمی ردعمل اور دوہرا معیار

برطانیہ کی پالیسی کو سکیورٹی اقدامات کے طور پر وسیع پیمانے پر درست قرار دیا گیا ہے، لیکن پاکستان کے اقدامات پر بعض بین الاقوامی اداروں اور حقوق گروپوں نے تنقید کی ہے۔ اسلام آباد کے حکام کا مؤقف ہے کہ یہ ایک کھلا ہوا دوہرا معیار ہے۔ اگر برطانیہ کے لیے گرفتاری اور ملک بدری قابل قبول ہے تو پاکستان کے اقدامات بھی درست سمجھے جانے چاہئیں، خاص طور پر اتنی بڑی افغان آبادی کے تناظر میں۔

پاکستان گزشتہ چار دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے، جس سے ملکی معیشت اور سماج پر بھاری بوجھ پڑا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی پالیسی اب بھی مغربی ممالک کی نسبت نرم ہے، لیکن عالمی تنقید کا زیادہ تر نشانہ پاکستان ہی بنتا ہے۔

دیکھیں: وزارت داخلہ کا افغان مہاجرین کی واپسی سے متعلق نوٹیفیکیشن جاری

متعلقہ مضامین

پی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات کی ناکامی نے سیاسی کشیدگی اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر نئے سوالات اٹھا دیے۔

October 4, 2026

ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے تین اہم سرغنہ سمیت آٹھ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

October 4, 2026

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کو بچانے کے لیے ایمرجنسی لگانا پڑی تو ضرور لگائیں گے، اور اس صورت میں پی ٹی آئی کے لیے وہ اکیلے ہی کافی ہیں۔

October 4, 2026

حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں بنیادی تعطل خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی پر تحریری تعاون نہ ملنے کی وجہ سے پیدا ہوا، جبکہ سویلین عمل سے متعلق الزامات کو مسترد کر دیا گیا۔

October 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *