اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ احتجاج صرف ایک عارضی تحریک ہیں یا مستقل سیاسی تبدیلی کی راہ ہموار کریں گے؟ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ جبر ہمیشہ رد عمل کو جنم دیتا ہے، اور جب معیشت تباہ ہو، روزگار ختم ہو، اور انصاف کھو جائے، تو لوگ اپنے نظام کو بدلے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اس اعتبار سے ایران میں جو صورتحال ابھر رہی ہے، وہ محض حکومت کے خلاف جذبات کا اظہار نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی کا مطالبہ ہے ایک رجیم چینج جو شاید دیر یا جلد حقیقت بنے۔

January 12, 2026

ذرائع کے مطابق باغِ بالا وہ تاریخی مقام ہے جہاں افغان شاہ کا محل واقع ہے، جسے اشرف غنی کے دورِ حکومت میں امریکی فنڈز سے دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ مقام تاریخی ورثہ ہونے کے باعث عوامی اور تجارتی تعمیرات کے لیے ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ تاہم الزام ہے کہ مولوی عبدالحکیم حقانی نے چیف جسٹس کی حیثیت سے خصوصی اجازت دے کر یہاں کاروباری سرگرمیوں کی اجازت دی۔

January 12, 2026

وکٹوریا میں ایک امام اور ان کی اہلیہ پر سفید فام برتری کی بنیاد پر حملے نے اسلاموفوبیا کے بڑھتے بحران کو ظاہر کیا ہے

January 12, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر تصویر شیئر کرتے ہوئے خود کو وینزویلا کا “عبوری صدر” قرار دیا

January 12, 2026

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان واپس آنے والے صرف 11 فیصد مہاجرین روزگار حاصل کر پائے ہیں، جبکہ 89 فیصد بے روزگار یا کم آمدنی والے کاموں پر مجبور ہیں

January 12, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف مختلف اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں فوجی کارروائی، سائبر آپریشن اور نئی معاشی پابندیاں شامل ہیں

January 12, 2026

پاکستان کے خدشات درست ثابت، سابق افغان جنگجو ٹی ٹی پی میں شامل ہونے لگے

تجزیہ کاروں کے مطابق مسئلے کا حل صرف بامقصد مذاکرات اور مؤثر علاقائی تعاون میں ہے تاکہ دہشتگردی کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
پاکستان کے خدشات درست ثابت، سابق افغان جنگجو ٹی ٹی پی میں شامل ہونے لگے

اسلام آباد کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال افغانستان کی شدت پسندانہ پالیسیوں کو بے نقاب کرتی ہے۔

September 2, 2025

افغانستان کی سرزمین پر سرگرم شدت پسند نیٹ ورکس کے حوالے سے نئے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے انکشاف ہوا ہے کہ تحریک طالبان افغانستان (ٹی ٹی اے) کے سابق جنگجو بڑی تعداد میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) میں شامل ہو رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق 7 اگست 2025 کو کابل کے علاقے شاہ شہید میں افغان عبوری حکومت کی جانب سے تقریباً 500 سے 600 سابق جنگجوؤں کو طلب کیا گیا جو ماضی میں امریکہ اور نیٹو افواج کے خلاف ٹی ٹی اے کے ساتھ لڑتے رہے تھے۔ اس ملاقات کی نگرانی مبینہ طور پر افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے کی۔

ذرائع کے مطابق جنگجوؤں کو معمولی وظیفے کی پیشکش کی گئی مگر مستقل روزگار نہ دینے پر انہیں دو آپشن دیے گئے: یا تو پاکستان واپس چلے جائیں یا ٹی ٹی پی سمیت دیگر شدت پسند تنظیموں میں شمولیت اختیار کریں۔ ان کے ہتھیار ضبط کر لیے گئے اور متعدد جنگجو اب ٹی ٹی پی کی صفوں میں شامل ہو چکے ہیں۔

اسلام آباد کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال افغانستان کی شدت پسندانہ پالیسیوں کو بے نقاب کرتی ہے۔ جو جنگجو کبھی ’’مجاہدین‘‘ کے طور پر پیش کیے گئے، آج انہیں بطور وقتی اثاثہ استعمال کر کے نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

افغان سرزمین بطور لانچ پیڈ

پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ یہ پیشرفت اُن خدشات کی تصدیق کرتی ہے کہ افغان سرزمین اب بھی سرحد پار دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ حالیہ فوجی آپریشنز میں متعدد افغان جنگجو ٹی ٹی پی کے ساتھ برآمد ہوئے جبکہ بھارتی اسلحہ بھی ان کے قبضے سے ملا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بیرونی قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے افغان گروپس کے ساتھ گٹھ جوڑ کر رہی ہیں۔

دہشتگردی کا ’’فرنچائز ماڈل‘‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی اے ایک ’’فرنچائز ماڈل‘‘ کے تحت شدت پسندوں کو ٹی ٹی پی اور دیگر گروپوں کے حوالے کر رہی ہے تاکہ دہشتگردی کا سلسلہ قائم رہے۔

پاکستانی اداروں کے مطابق رواں سال 2025 میں دہشتگرد حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جن میں سب سے زیادہ حملوں کی ذمہ داری کالعدم ٹی ٹی پی نے قبول کی۔

سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورت حال نے خطے میں استحکام کے بجائے عدم اعتماد اور بے یقینی کو بڑھا دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مسئلے کا حل صرف بامقصد مذاکرات اور مؤثر علاقائی تعاون میں ہے تاکہ دہشتگردی کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

دیکھیں: بلوچستان میں سیکیورٹی آپریشن میں ہلاک ہونے والے 50 سے زائد ٹی ٹی پی عسکریت پسندوں کی لاشیں افغانستان منتقل

متعلقہ مضامین

اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ احتجاج صرف ایک عارضی تحریک ہیں یا مستقل سیاسی تبدیلی کی راہ ہموار کریں گے؟ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ جبر ہمیشہ رد عمل کو جنم دیتا ہے، اور جب معیشت تباہ ہو، روزگار ختم ہو، اور انصاف کھو جائے، تو لوگ اپنے نظام کو بدلے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اس اعتبار سے ایران میں جو صورتحال ابھر رہی ہے، وہ محض حکومت کے خلاف جذبات کا اظہار نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی کا مطالبہ ہے ایک رجیم چینج جو شاید دیر یا جلد حقیقت بنے۔

January 12, 2026

ذرائع کے مطابق باغِ بالا وہ تاریخی مقام ہے جہاں افغان شاہ کا محل واقع ہے، جسے اشرف غنی کے دورِ حکومت میں امریکی فنڈز سے دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ مقام تاریخی ورثہ ہونے کے باعث عوامی اور تجارتی تعمیرات کے لیے ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ تاہم الزام ہے کہ مولوی عبدالحکیم حقانی نے چیف جسٹس کی حیثیت سے خصوصی اجازت دے کر یہاں کاروباری سرگرمیوں کی اجازت دی۔

January 12, 2026

وکٹوریا میں ایک امام اور ان کی اہلیہ پر سفید فام برتری کی بنیاد پر حملے نے اسلاموفوبیا کے بڑھتے بحران کو ظاہر کیا ہے

January 12, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر تصویر شیئر کرتے ہوئے خود کو وینزویلا کا “عبوری صدر” قرار دیا

January 12, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *