پاکستان نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کی، جس میں 3 پاکستانی شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔ حملے کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

August 12, 2026

شمالی وزیرستان میں آپریشن 11 گرج کے تحت سکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں میں 62 خوارج ہلاک، چار اہم کمانڈر بھی مارے گئے، بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد۔

August 12, 2026

بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت سکیورٹی فورسز نے قلات، خضدار اور سوراب میں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں کرتے ہوئے مزید 22 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

August 12, 2026

بدخشاں میں جمعہ خان فتح کی طالبان کے خلاف کھلی جنگ کی کال کے بعد کشیدگی میں شدت آ گئی، درواز میں جھڑپوں میں طالبان کے دو اہلکار ہلاک اور گورنر ہاؤس پر راکٹ حملہ بھی کیا گیا۔

August 12, 2026

طالبان کی جنرل انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ نے 70 ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے ایغور جنگجوؤں کو ہتھیاروں سمیت بدخشاں منتقل کر کے ان کی موجودگی کو خفیہ رکھنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

August 12, 2026

مشعل پاکستان نے ملک کی پہلی اسٹیٹ آف ٹرانسپیرنسی رپورٹ 2026 جاری کر دی، جس میں مسلح افواج پر 82 فیصد اور ڈیجیٹل گورننس پر 54 فیصد شہریوں نے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

August 12, 2026

پاکستان کے خدشات درست ثابت، سابق افغان جنگجو ٹی ٹی پی میں شامل ہونے لگے

تجزیہ کاروں کے مطابق مسئلے کا حل صرف بامقصد مذاکرات اور مؤثر علاقائی تعاون میں ہے تاکہ دہشتگردی کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
پاکستان کے خدشات درست ثابت، سابق افغان جنگجو ٹی ٹی پی میں شامل ہونے لگے

اسلام آباد کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال افغانستان کی شدت پسندانہ پالیسیوں کو بے نقاب کرتی ہے۔

September 2, 2025

افغانستان کی سرزمین پر سرگرم شدت پسند نیٹ ورکس کے حوالے سے نئے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے انکشاف ہوا ہے کہ تحریک طالبان افغانستان (ٹی ٹی اے) کے سابق جنگجو بڑی تعداد میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) میں شامل ہو رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق 7 اگست 2025 کو کابل کے علاقے شاہ شہید میں افغان عبوری حکومت کی جانب سے تقریباً 500 سے 600 سابق جنگجوؤں کو طلب کیا گیا جو ماضی میں امریکہ اور نیٹو افواج کے خلاف ٹی ٹی اے کے ساتھ لڑتے رہے تھے۔ اس ملاقات کی نگرانی مبینہ طور پر افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے کی۔

ذرائع کے مطابق جنگجوؤں کو معمولی وظیفے کی پیشکش کی گئی مگر مستقل روزگار نہ دینے پر انہیں دو آپشن دیے گئے: یا تو پاکستان واپس چلے جائیں یا ٹی ٹی پی سمیت دیگر شدت پسند تنظیموں میں شمولیت اختیار کریں۔ ان کے ہتھیار ضبط کر لیے گئے اور متعدد جنگجو اب ٹی ٹی پی کی صفوں میں شامل ہو چکے ہیں۔

اسلام آباد کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال افغانستان کی شدت پسندانہ پالیسیوں کو بے نقاب کرتی ہے۔ جو جنگجو کبھی ’’مجاہدین‘‘ کے طور پر پیش کیے گئے، آج انہیں بطور وقتی اثاثہ استعمال کر کے نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

افغان سرزمین بطور لانچ پیڈ

پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ یہ پیشرفت اُن خدشات کی تصدیق کرتی ہے کہ افغان سرزمین اب بھی سرحد پار دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ حالیہ فوجی آپریشنز میں متعدد افغان جنگجو ٹی ٹی پی کے ساتھ برآمد ہوئے جبکہ بھارتی اسلحہ بھی ان کے قبضے سے ملا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بیرونی قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے افغان گروپس کے ساتھ گٹھ جوڑ کر رہی ہیں۔

دہشتگردی کا ’’فرنچائز ماڈل‘‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی اے ایک ’’فرنچائز ماڈل‘‘ کے تحت شدت پسندوں کو ٹی ٹی پی اور دیگر گروپوں کے حوالے کر رہی ہے تاکہ دہشتگردی کا سلسلہ قائم رہے۔

پاکستانی اداروں کے مطابق رواں سال 2025 میں دہشتگرد حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جن میں سب سے زیادہ حملوں کی ذمہ داری کالعدم ٹی ٹی پی نے قبول کی۔

سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورت حال نے خطے میں استحکام کے بجائے عدم اعتماد اور بے یقینی کو بڑھا دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مسئلے کا حل صرف بامقصد مذاکرات اور مؤثر علاقائی تعاون میں ہے تاکہ دہشتگردی کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

دیکھیں: بلوچستان میں سیکیورٹی آپریشن میں ہلاک ہونے والے 50 سے زائد ٹی ٹی پی عسکریت پسندوں کی لاشیں افغانستان منتقل

متعلقہ مضامین

پاکستان نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کی، جس میں 3 پاکستانی شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔ حملے کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

August 12, 2026

شمالی وزیرستان میں آپریشن 11 گرج کے تحت سکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں میں 62 خوارج ہلاک، چار اہم کمانڈر بھی مارے گئے، بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد۔

August 12, 2026

بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت سکیورٹی فورسز نے قلات، خضدار اور سوراب میں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں کرتے ہوئے مزید 22 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

August 12, 2026

بدخشاں میں جمعہ خان فتح کی طالبان کے خلاف کھلی جنگ کی کال کے بعد کشیدگی میں شدت آ گئی، درواز میں جھڑپوں میں طالبان کے دو اہلکار ہلاک اور گورنر ہاؤس پر راکٹ حملہ بھی کیا گیا۔

August 12, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *