اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے امریکہ میں اسرائیل کی گرتی ہوئی مقبولیت کا ذمہ دار پاکستان اور دیگر ممالک کے بوٹ فارمز کو قرار دے دیا؛ ماہرین نے اسے زمینی حقائق سے توجہ ہٹانے کا حربہ قرار دیا ہے۔

May 11, 2026

بنوں حملے کے تانے بانے افغانستان سے ملنے پر افغان ناظم الامور کی دفترِ خارجہ طلبی؛ پاکستان نے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خلاف فیصلہ کن جواب دینے کی وارننگ دے دی۔

May 11, 2026

انہوں نے مزید کہا کہ آر ایس ایس سے متاثرہ بھارت عالمی امن کے لیے خطرہ بنتا جارہا ہے۔ ڈیٹرنس کبھی جامد نہیں رہتی بلکہ اس کے لیے صلاحیت اور عزم دونوں ضروری ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق ایٹمی ہتھیار تنازعات کی نوعیت کو تبدیل کردیتے ہیں اور یہ کتاب اسی حقیقت کو سمجھنے کی دعوت دیتی ہے۔

May 11, 2026

کتاب کے مختلف ابواب معروف ماہرین، سفارتکاروں اور سابق عسکری حکام نے تحریر کیے ہیں جن میں ڈاکٹر رضوانہ، ڈاکٹر جسپال، لیفٹیننٹ جنرل مظہر جمیل، سفیر ضمیر اکرم، ڈاکٹر ظہیر کاظمی، ڈاکٹر اختر، ڈاکٹر نعیم صادق، ڈاکٹر خالد، لیفٹیننٹ جنرل سرفراز اور لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض شامل ہیں۔

May 11, 2026

اسلام آباد میں خودکش حملے کا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے ایک خاتون حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا؛ وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی کے مطابق خاتون کو والد کے قتل کی دھمکی دے کر حملے پر مجبور کیا گیا تھا۔

May 11, 2026

قلات اور خضدار میں سکیورٹی فورسز کی کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ کاروائیوں کے دوران 7 سے زائد دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔

May 11, 2026

برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرلیا

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے قریبی اتحادیوں نے اس فیصلے پر سخت ردعمل دیا ہے اور آسٹریلیا سمیت دیگر ممالک کو ’سزائی اقدامات‘ کی دھمکیاں دی ہیں۔
برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ آزاد ریاست تسلیم کرلیا

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے آسٹریلوی فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور البانیز کو ’کمزور‘ لیڈر قرار دیا۔ انہوں نے اس اقدام کو ’’رعایت‘‘ قرار دیتے ہوئے ہٹلر کے 1938 میں چیکوسلواکیہ پر حملے سے تشبیہ دی۔

September 21, 2025

برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا نے فلسطین کو ایک خودمختار اور آزاد ریاست کے طور پر باضابطہ تسلیم کر لیا ہے۔

آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے یہ اعلان نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل سے متعلق اہم کانفرنس کے موقع پر کیا، یہ اقدام برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ سامنے آیا۔

انتھونی البانیز نے کہا کہ آسٹریلیا فلسطینی عوام کی ’اپنی ریاست کے قیام کی جائز اور دیرینہ خواہشات‘ کو تسلیم کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فلسطینی اتھارٹی کو سفارتخانہ قائم کرنے اور فعال تعلقات کے لیے بین الاقوامی برادری کی شرائط پوری کرنا ہوں گی، جن میں اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنا، جمہوری انتخابات کرانا اور مالیات و گورننس میں اصلاحات شامل ہیں۔

https://twitter.com/AlboMP/status/1969748666937459069?t=xk0g21VEXsgNeSk_jpqgTQ&s=19

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے قریبی اتحادیوں نے اس فیصلے پر سخت ردعمل دیا ہے اور آسٹریلیا سمیت دیگر ممالک کو ’سزائی اقدامات‘ کی دھمکیاں دی ہیں۔

اس کے برعکس انتھونی البانیز اور وزیر خارجہ پینی وونگ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی قیادت مشرق وسطیٰ میں ’قابل اعتبار امن منصوبے‘ کے لیے اہم ہے اور امریکا و عرب لیگ غزہ کی تعمیر نو اور اسرائیل کی سلامتی کی ضمانت دے سکتے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے آسٹریلوی فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور البانیز کو ’کمزور‘ لیڈر قرار دیا۔ انہوں نے اس اقدام کو ’’رعایت‘‘ قرار دیتے ہوئے ہٹلر کے 1938 میں چیکوسلواکیہ پر حملے سے تشبیہ دی۔

دوسری جانب عالمی سطح پر اسرائیل تنہا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن نے گزشتہ ہفتے غزہ میں نسل کشی کے واقعات کی نشاندہی کی اور نیتن یاہو سمیت سینئر اسرائیلی رہنماؤں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا، تاہم اسرائیل نے اس رپورٹ کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

آسٹریلیا کے اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت کے اس فیصلے کو قبل از وقت قرار دیا اور کہا کہ جب تک حماس غزہ پر قابض ہے اور اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہیں کرتا، فلسطینی عوام کو جمہوری خود حکمرانی کی کوئی امید نہیں مل سکتی۔

دیکھیں: پاکستان اور فلسطین کے درمیان اہم معاہدے طے پا گئے

متعلقہ مضامین

اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے امریکہ میں اسرائیل کی گرتی ہوئی مقبولیت کا ذمہ دار پاکستان اور دیگر ممالک کے بوٹ فارمز کو قرار دے دیا؛ ماہرین نے اسے زمینی حقائق سے توجہ ہٹانے کا حربہ قرار دیا ہے۔

May 11, 2026

بنوں حملے کے تانے بانے افغانستان سے ملنے پر افغان ناظم الامور کی دفترِ خارجہ طلبی؛ پاکستان نے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خلاف فیصلہ کن جواب دینے کی وارننگ دے دی۔

May 11, 2026

انہوں نے مزید کہا کہ آر ایس ایس سے متاثرہ بھارت عالمی امن کے لیے خطرہ بنتا جارہا ہے۔ ڈیٹرنس کبھی جامد نہیں رہتی بلکہ اس کے لیے صلاحیت اور عزم دونوں ضروری ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق ایٹمی ہتھیار تنازعات کی نوعیت کو تبدیل کردیتے ہیں اور یہ کتاب اسی حقیقت کو سمجھنے کی دعوت دیتی ہے۔

May 11, 2026

کتاب کے مختلف ابواب معروف ماہرین، سفارتکاروں اور سابق عسکری حکام نے تحریر کیے ہیں جن میں ڈاکٹر رضوانہ، ڈاکٹر جسپال، لیفٹیننٹ جنرل مظہر جمیل، سفیر ضمیر اکرم، ڈاکٹر ظہیر کاظمی، ڈاکٹر اختر، ڈاکٹر نعیم صادق، ڈاکٹر خالد، لیفٹیننٹ جنرل سرفراز اور لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض شامل ہیں۔

May 11, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *