اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکہ میں اسرائیل کے لیے عوامی حمایت میں ہونے والی تاریخی کمی کا ذمہ دار سوشل میڈیا اور غیر ملکی “بوٹ فارمز” کو قرار دے دیا ہے۔ امریکی پروگرام “سی بی ایس 60” کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ پاکستان سمیت دیگر ممالک سے منسلک منظم آن لائن نیٹ ورکس اور جعلی اکاؤنٹس امریکی نوجوانوں کے ذہنوں کو مسموم کر رہے ہیں تاکہ امریکہ اور اسرائیل کے سٹریٹجک تعلقات کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
حقائق بمقابلہ الزامات
ماہرین اور بین الاقوامی مبصرین نے نیتن یاہو کے ان الزامات کو حقیقت کے برعکس اور زمینی صورتحال سے توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش قرار دیا ہے۔ اگرچہ نیتن یاہو نے درست تشخیص کی ہے کہ سوشل میڈیا اسرائیل کے بیانیے کو نقصان پہنچا رہا ہے، مگر اس کی وجہ “بوٹ فارمز” نہیں بلکہ وہ انسانی المیے ہیں جو دنیا بھر کے اربوں لوگ اپنی موبائل اسکرینوں پر براہِ راست دیکھ رہے ہیں۔
Netanyahu says social media is responsible for declining support for Israel among young Americans, claiming foreign countries use “bot farms” to undermine “American sympathy for Israel.” pic.twitter.com/vkUjhDTShZ
— Clash Report (@clashreport) May 10, 2026
ماضی میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی اقدامات کو ایسے میڈیا فلٹرز کے ذریعے پیش کیا جاتا تھا جو اسرائیل نواز حلقوں کے زیرِ اثر تھے، لیکن ڈیجیٹل میڈیا نے ان تمام رکاوٹوں کو توڑ کر غزہ کی صورتحال کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔
پاکستان کا مؤقف اور علاقائی صورتحال
نیتن یاہو کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے الزامات کے حوالے سے یہ واضح ہے کہ ریاستِ پاکستان نہ تو اس نوعیت کی منظم مہمات پر یقین رکھتی ہے اور نہ ہی اس نے اس مقصد کے لیے کوئی صلاحیت تیار کی ہے۔ پاکستان کا فلسطین کے مسئلے پر سفارتی موقف ہمیشہ سے واضح اور بین الاقوامی قوانین پر مبنی رہا ہے، اس لیے اسے کسی خفیہ آن لائن مہم کی ضرورت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نیتن یاہو اپنی سیاسی بقا اور بدعنوانی کے مقدمات سے بچنے کے لیے مسلسل جنگی ماحول برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور اپنی پالیسیوں کے نتائج کا ملبہ پاکستان جیسے ممالک پر ڈال رہے ہیں۔
پراپیگنڈا اور عالمی رائے عامہ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر نیتن یاہو منظم پروپیگنڈے کی حقیقت جاننا چاہتے ہیں، تو انہیں اپنے قریبی اتحادی بھارت سے رجوع کرنا چاہیے، جسے “یورپی ڈس انفارمیشن لیب” نے پاکستان کے خلاف سینکڑوں جعلی اکاؤنٹس اور اداروں پر مشتمل مہم چلانے پر بے نقاب کیا تھا۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر اسرائیل کو دنیا کے مؤثر ترین پروپیگنڈا نیٹ ورکس میں شمار کیا جاتا ہے، تو وہ اپنی حمایت میں آنے والی کمی کو روکنے میں کیوں ناکام رہا؟
واضح رہے کہ عالمی رائے عامہ اس لیے تبدیل ہوئی ہے کیونکہ دنیا بھر کے لوگ شہری ہلاکتوں، تباہ شدہ بستیوں اور غیر متناسب طاقت کے استعمال کو براہِ راست دیکھ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا نے یہ بحران پیدا نہیں کیا بلکہ اسے بے نقاب کیا ہے۔ نیتن یاہو کے لیے اب یہ حقیقت قبول کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ اسرائیل کے قیام کے بعد پہلی بار مغربی دنیا، خصوصاً امریکی نوجوانوں کی رائے واضح طور پر ان کی پالیسیوں کے خلاف ہو چکی ہے۔