ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا ہفتے کے روز اس وقت ہوا جب ایک گاڑی صوبہ نورستان کے ایک پہاڑی علاقے میں سفر کر رہی تھی۔ گاڑی کے قریب نصب دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار چار افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

February 8, 2026

جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی کے مہتمم اور ممتاز دینی رہنما مفتی نعمان نعیم نے اسلام آباد حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا بدترین دہشت گردی ہے اور ایسے جرائم کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

February 8, 2026

خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں صورتحال مکمل طور پر معمول کے مطابق رہی۔ ہری پور، ایبٹ آباد، باڑہ بازار، مردان، صوابی، کوہاٹ، لنڈی کوتل، ڈیرہ اسماعیل خان اور حتیٰ کہ پشاور میں بھی کاروباری سرگرمیاں جاری رہیں۔ بازار کھلے رہے، ٹرانسپورٹ رواں دواں رہی اور کسی بڑے احتجاج یا شٹر ڈاؤن کا کوئی اثر نظر نہیں آیا۔

February 8, 2026

سیکیورٹی ماہرین واضح کرتے ہیں کہ انٹیلیجنس کا مطلب ہر شہری پر نگرانی مسلط کرنا نہیں ہوتا، بلکہ ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی اور ان کے سدِباب کے لیے اقدامات کرنا ہوتا ہے۔ اس ضمن میں پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیاں مسلسل اور مؤثر انداز میں کام کر رہی ہیں، جس کا ثبوت حالیہ مہینوں میں کراچی سمیت مختلف شہروں سے سینکڑوں دہشت گردوں اور سہولت کاروں کی گرفتاریاں ہیں۔

February 8, 2026

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ایک طرف پارٹی قیادت غریب اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کو کاروبار بند کر کے سڑکوں پر آنے کی ترغیب دے رہی ہے، جس کے نتیجے میں ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ سکتے ہیں، جبکہ دوسری طرف قیادت کے اپنے اہلِ خانہ معمول کے مطابق تقریبات اور تفریح میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔

February 8, 2026

وفاق المدارس کے قائدین نے اس بات پر زور دیا کہ اس خونریز اور ظالمانہ کارروائی میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے مکمل نیٹ ورک کا سراغ لگا کر انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور نشانِ عبرت بنایا جائے، تاکہ آئندہ ایسے بزدلانہ واقعات کی حوصلہ شکنی ہو۔

February 8, 2026

خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، مزید 34 خوارج ہلاک

ترجمان کے مطابق، کارروائیوں کے بعد علاقوں کی کلیئرنس کے لیے سرچ اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی بھارتی حمایت یافتہ خارجی کو چھپنے کا موقع نہ مل سکے۔
خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، مزید 34 خوارج ہلاک

آئی ایس پی آر کے مطابق، دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی اور ملک کے ہر حصے سے بیرونی سرپرستی یافتہ خوارج کا صفایا کیا جائے گا۔

October 16, 2025

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق 13 سے 15 اکتوبر 2025 کے دوران خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں میں بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 34 خوارج ہلاک کر دیے گئے۔ ان کارروائیوں کا مقصد ملک میں غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشت گردی کے نیٹ ورکس کا خاتمہ تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق، شمالی وزیرستان کے علاقے اسپین وام میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کیا گیا۔ کارروائی کے دوران فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 18 خوارج واصلِ جہنم کر دیے گئے۔

اسی نوعیت کی ایک اور کارروائی جنوبی وزیرستان میں کی گئی جہاں انٹیلی جنس معلومات پر مبنی آپریشن میں 8 خوارج مارے گئے۔ جبکہ بنوں میں ہونے والے ایک تیسرے تصادم میں سیکیورٹی فورسز نے مزید 8 خوارج کو ٹھکانے لگا دیا۔

ترجمان کے مطابق، کارروائیوں کے بعد علاقوں کی کلیئرنس کے لیے سرچ اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی بھارتی حمایت یافتہ خارجی کو چھپنے کا موقع نہ مل سکے۔

بیان میں کہا گیا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے وفاقی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ قومی ایکشن پلان کے تحت “عزمِ استحکام” کے ویژن کے مطابق اپنی انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق، دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی اور ملک کے ہر حصے سے بیرونی سرپرستی یافتہ خوارج کا صفایا کیا جائے گا۔

دیکھیں: طالبان حکومت کا پروپیگنڈا بے نقاب؛ اسپن بولدک میں جھڑپوں کی اصل حقیقت

متعلقہ مضامین

ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا ہفتے کے روز اس وقت ہوا جب ایک گاڑی صوبہ نورستان کے ایک پہاڑی علاقے میں سفر کر رہی تھی۔ گاڑی کے قریب نصب دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار چار افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

February 8, 2026

جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی کے مہتمم اور ممتاز دینی رہنما مفتی نعمان نعیم نے اسلام آباد حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا بدترین دہشت گردی ہے اور ایسے جرائم کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

February 8, 2026

خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں صورتحال مکمل طور پر معمول کے مطابق رہی۔ ہری پور، ایبٹ آباد، باڑہ بازار، مردان، صوابی، کوہاٹ، لنڈی کوتل، ڈیرہ اسماعیل خان اور حتیٰ کہ پشاور میں بھی کاروباری سرگرمیاں جاری رہیں۔ بازار کھلے رہے، ٹرانسپورٹ رواں دواں رہی اور کسی بڑے احتجاج یا شٹر ڈاؤن کا کوئی اثر نظر نہیں آیا۔

February 8, 2026

سیکیورٹی ماہرین واضح کرتے ہیں کہ انٹیلیجنس کا مطلب ہر شہری پر نگرانی مسلط کرنا نہیں ہوتا، بلکہ ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی اور ان کے سدِباب کے لیے اقدامات کرنا ہوتا ہے۔ اس ضمن میں پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیاں مسلسل اور مؤثر انداز میں کام کر رہی ہیں، جس کا ثبوت حالیہ مہینوں میں کراچی سمیت مختلف شہروں سے سینکڑوں دہشت گردوں اور سہولت کاروں کی گرفتاریاں ہیں۔

February 8, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *