دنیا جس قدر معاشی دباؤ اور توانائی کے بحران کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھی، اس میں اچانک ٹھہراؤ اور سکون محض اتفاق نہیں بلکہ پاکستان کی انتھک محنت اور سفارت کاری کا نتیجہ ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی، آبنائے ہرمز کا کھلنا اور امریکہ۔ایران کشیدگی میں کمی دراصل ایک بڑے سفارتی عمل کے ثمرات ہیں۔

April 17, 2026

امریکی ناکہ بندی کے باوجود پاکستانی بحری جہاز ‘شالامار’ خام تیل لے کر آبنائے ہرمز سے نکلنے میں کامیاب؛ کراچی کے لیے روانہ۔

April 17, 2026

ملا عمر کے قریبی ساتھی اور سینئر طالبان رہنما ملا معتصم آغاجان کی گرفتاری نے طالبان قیادت میں اندرونی اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے اور امن کوششوں کے لیے رابطے بڑھانے کے الزام میں قندھار میں حراست میں لیا گیا۔

April 17, 2026

بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد کا فیصل مسجد میں اہم خطاب؛ خطے میں امن کے قیام اور فتنوں کے خاتمے کے لیے وزیراعظم اور عاصم منیر کی کوششوں کو زبردست خراجِ تحسین۔

April 17, 2026

تہران میں تقریب، چینی سفیر کا ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی اور علاقائی امن کے لیے تعاون جاری رکھنے کا عزم۔

April 17, 2026

ہری پور کے حطار انڈسٹریل اسٹیٹ میں گیس پائپ لائن پھٹنے سے فیکٹری اور قریبی گھروں میں خوفناک آتشزدگی؛ خواتین و بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق، متعدد زخمی۔

April 17, 2026

کابل میں یومِ سیاہ کی تقریب؛ پاکستانی سفیر کا کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کا اعلان

پاکستانی سفارت خانے کے زیرِ اہتمام یوم سیاہ کی تقریب میں پاکستانی سفیر عبدالرحمان نظامی کی شرکت اور خطاب
کابل میں موجود پاکستانی سفارت خانے کے زیرِ اہتمام یوم سیاہ کی تقریب مِن پاکستانی سفیر عبدالرحمان نظامی کی شرکت

پاکستانی سفیر نے اپنے خطاب میں بھارت کے یکطرفہ اقدامات کو مسئلہ کشمیر کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا

October 27, 2025

افغانستان میں پاکستانی سفارت خانے کے زیرِ اہتمام یوم سیاہ کی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستانی سفیر عبید الرحمن نظامانی نے تقریب سے خطاب کیا۔ دورانِ خطاب پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیری عوام کی حق خودارادیت کی جدوجہد میں ہمیشہ ان کے شانہ بشانہ رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا جموں و کشمیر پر تسلط انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے، جسے بین الاقوامی سطح پر بیان کرنا پاکستان کی اخلاقی اور سفارتی ذمہ داری ہے۔

یومِ سیاہ کی تقریب میں سفارتی نمائندگان، افغان شخصیات اور میڈیا سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ پاکستانی سفیر نظامانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت کی مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ مسئلۂ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

پاکستانی سفیر نے مزید کہا کہ پاکستانی قوم ہر محاذ پر کشمیری بھائیوں کے مطالبات کی حامی ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق عوامی رائے کے حق کو دہرایا اور بھارت کے یکطرفہ اقدامات کو مسئلہ کشمیر کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔

تقریب کے دوران یومِ سیاہ کے حوالے سے ایک دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی، جبکہ شرکا نے کشمیری عوام کی آزادی کی جدوجہد کے ساتھ اپنی مکمل ہم آہنگی کا اعادہ کیا۔

دیکھیں: یومِ سیاہ: 27 اکتوبر 1947 سے کشمیریوں کی ناقابلِ تسخیر جدوجہد

متعلقہ مضامین

دنیا جس قدر معاشی دباؤ اور توانائی کے بحران کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھی، اس میں اچانک ٹھہراؤ اور سکون محض اتفاق نہیں بلکہ پاکستان کی انتھک محنت اور سفارت کاری کا نتیجہ ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی، آبنائے ہرمز کا کھلنا اور امریکہ۔ایران کشیدگی میں کمی دراصل ایک بڑے سفارتی عمل کے ثمرات ہیں۔

April 17, 2026

امریکی ناکہ بندی کے باوجود پاکستانی بحری جہاز ‘شالامار’ خام تیل لے کر آبنائے ہرمز سے نکلنے میں کامیاب؛ کراچی کے لیے روانہ۔

April 17, 2026

ملا عمر کے قریبی ساتھی اور سینئر طالبان رہنما ملا معتصم آغاجان کی گرفتاری نے طالبان قیادت میں اندرونی اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے اور امن کوششوں کے لیے رابطے بڑھانے کے الزام میں قندھار میں حراست میں لیا گیا۔

April 17, 2026

بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد کا فیصل مسجد میں اہم خطاب؛ خطے میں امن کے قیام اور فتنوں کے خاتمے کے لیے وزیراعظم اور عاصم منیر کی کوششوں کو زبردست خراجِ تحسین۔

April 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *