"> رواں سال خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے 1500 سے زائد واقعات، 233 شہری شہید - HTN Urdu
پشاور میں تجاوزات کے خلاف بڑا آپریشن

تیرہ سال کے نعروں سے عملی تبدیلی تک

پشاور میں نئی انتظامیہ کے تحت تجاوزات کے خلاف چھٹے روز بھی بلاامتیاز آپریشن جاری، 400 سے زائد غیر قانونی دکانیں اور مارکیٹیں مسمار کر دی گئیں۔

رواں سال خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے 1500 سے زائد واقعات، 233 شہری شہید

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 2025 کے دوران پاکستان میں ہونے والے متعدد دہشت گرد حملوں میں افغان شہریوں کی شناخت بھی سامنے آئی ہے، جن میں بعض براہِ راست حملوں میں ملوث پائے گئے جبکہ کچھ افراد سہولت کاری، لاجسٹک سپورٹ اور منصوبہ بندی میں شامل تھے۔
رواں سال خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے ا500 سے زائد واقعات، 233 شہری شہید

ماہرین کے مطابق جب تک ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے گروہوں کے خلاف سرحد پار مؤثر کارروائی، علاقائی تعاون اور اعتماد سازی نہیں ہوتی، تب تک 2025 میں نظر آنے والی عسکریت پسندی کی یہ لہر مستقبل میں مزید پیچیدہ صورت اختیار کر سکتی ہے۔

December 15, 2025

سال 2025 کے دوران خیبر پختونخوا ایک بار پھر دہشت گردی کی شدید لہر کی زد میں رہا، جہاں مجموعی طور پر ایک ہزار 588 دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ سیکیورٹی اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان حملوں میں 223 عام شہری شہید اور 570 زخمی ہوئے، جبکہ پولیس کے 137 اہلکار شہید اور 236 زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 18 اہلکار جان سے گئے، جب کہ فیڈرل کانسٹیبلری کے 124 جوان شہید اور 244 زخمی ہوئے۔ ریاستی کارروائیوں کے دوران 348 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔

یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ 2025 میں پاکستان خصوصاً خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندی ایک نئے اور زیادہ منظم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ حملوں کی نوعیت، اہداف کے انتخاب اور شدت سے ظاہر ہوتا ہے کہ کالعدم تنظیمیں نہ صرف اپنی سرگرمیاں برقرار رکھے ہوئے ہیں بلکہ سرحد پار محفوظ ٹھکانوں اور نیٹ ورکس کے ذریعے اپنی کارروائیوں میں وسعت بھی لا رہی ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 2025 کے دوران پاکستان میں ہونے والے متعدد دہشت گرد حملوں میں افغان شہریوں کی شناخت بھی سامنے آئی ہے، جن میں بعض براہِ راست حملوں میں ملوث پائے گئے جبکہ کچھ افراد سہولت کاری، لاجسٹک سپورٹ اور منصوبہ بندی میں شامل تھے۔ اگرچہ تمام کیسز کی تفصیلات عوامی نہیں کی گئیں، تاہم یہ پہلو پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیکیورٹی تناؤ کو مزید گہرا کر رہا ہے۔

عسکریت پسندی کی موجودہ لہر میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا کردار نمایاں رہا ہے۔ ٹی ٹی پی کے حوالے سے پاکستانی حکام مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ تنظیم کی قیادت اور جنگجوؤں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں، جہاں سے وہ پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ اسی طرح بی ایل اے اور اس سے منسلک نیٹ ورکس کی افغانستان میں موجودگی نے پاک-افغان تعلقات میں ایک نیا بحران پیدا کر دیا ہے۔

2025 میں دہشت گردی کا مجموعی رجحان یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ محض داخلی سیکیورٹی کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ براہِ راست علاقائی جیوپولیٹکس اور سرحد پار عوامل سے جڑ چکا ہے۔ پاکستان ایک طرف عسکری اور انٹیلی جنس بنیادوں پر انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں تیز کر رہا ہے، تو دوسری جانب افغانستان کے ساتھ سفارتی سطح پر یہ مطالبہ بھی دہرا رہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔

ماہرین کے مطابق جب تک ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے گروہوں کے خلاف سرحد پار مؤثر کارروائی، علاقائی تعاون اور اعتماد سازی نہیں ہوتی، تب تک 2025 میں نظر آنے والی عسکریت پسندی کی یہ لہر مستقبل میں مزید پیچیدہ صورت اختیار کر سکتی ہے۔

دیکھیں: تہران میں افغانستان سے متعلق علاقائی اجلاس: پاکستان کی شرکت، طالبان کی عدم حاضری پر علاقائی تشویش

متعلقہ مضامین

پشاور میں نئی انتظامیہ کے تحت تجاوزات کے خلاف چھٹے روز بھی بلاامتیاز آپریشن جاری، 400 سے زائد غیر قانونی دکانیں اور مارکیٹیں مسمار کر دی گئیں۔

October 25, 2026

پاکستان نے افغان طالبان سے ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور ان سے وابستہ گروہوں کی معاونت ختم کرنے اور افغان سرزمین سے پاکستان مخالف دہشت گردی روکنے کے لیے قابلِ تصدیق اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

October 25, 2026

نائیجیریا کی ریاست ترابا کے بناری گاؤں پر مسلح حملے میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہو گئے۔ حملہ آوروں نے فائرنگ کے ساتھ دکانوں سے خوراک بھی لوٹ لی۔

October 25, 2026

کوٹھیان کے قریب غیر ذمہ دارانہ فائرنگ سے نوجوان زخمی ہو گیا، جس کا ملبہ ایکشن کمیٹی نے سیکیورٹی اداروں پر ڈالنے کی ناکام کوشش کی

October 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *