سندھ طاس معاہدے کی بھارتی معطلی اور دریائے چناب پر زیرِ تعمیر رَٹل پن بجلی منصوبے کے ڈیزائن پر پاکستان کی آبی سلامتی سے متعلق سنگین خدشات پیدا ہوگئے۔

August 13, 2026

بنوں کے علاقے بخمالی پمپ کے قریب موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے چھٹی پر گھر آئے ایف سی اہلکار برہان کو فائرنگ کرکے شہید کردیا۔ واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن شروع کردیا۔

August 13, 2026

اقوام متحدہ کی 38ویں مانیٹرنگ رپورٹ میں افغانستان کو دہشت گرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ قرار دیا گیا۔ رپورٹ میں بی ایل اے کے داعش خراسان اور القاعدہ سے لاجسٹک و تربیتی روابط کا انکشاف بھی کیا گیا ہے۔

August 13, 2026

پی ٹی ایم ڈنمارک کی جانب سے غیر مصدقہ نوٹیفکیشن کی بنیاد پر نسلی پراپیگنڈا پھیلانے اور ریاستی اداروں کے خلاف خوف کی فضا قائم کرنے کی کوششیں بے نقاب ہو گئی ہیں۔

August 13, 2026

فتنہ الخوارج نے 2007 سے اب تک ہزاروں شہریوں، فوجیوں اور علما کو نشانہ بنایا۔ اقوام متحدہ اور پاکستانی قانون کے تحت کالعدم اس تنظیم کے خلاف ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے آپریشنز آئینی اختیار کے تحت کیے گئے۔

August 13, 2026

بھارتی میڈیا نے مغربی بنگال میں 14 سال سے سرگرم مبینہ آئی ایس آئی ایجنٹ کی گرفتاری کا بالی ووڈ طرز ڈرامائی دعویٰ کر دیا۔

August 13, 2026

ذبیح اللہ مجاہد کے “خوشگوار تعلقات” کے دعوے پر اسلام آباد کا ردِعمل – زمینی حقائق کچھ اور بتاتے ہیںَ؟

ذبیح اللہ مجاہد نے 31 اکتوبر کو خیبر ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے طورخم اور چمن جیسے اہم تجارتی راستوں کی عارضی بندش نے دونوں ممالک کے تاجروں کو نقصان پہنچایا ہے، اور “تجارت کو سیاست کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔”
ذبیح اللہ مجاہد کے "خوشگوار تعلقات" کے دعوے پر اسلام آباد کا ردِعمل - زمینی حقائق کچھ اور بتاتے ہیںَ؟

ایک سینئر پاکستانی عہدیدار کے بقول، "امن صرف تب ممکن ہے جب الفاظ نہیں، بلکہ قابلِ تصدیق اقدامات کیے جائیں۔"

November 3, 2025

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے اس بیان نے پاکستان میں ہلچل مچا دی ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے بعض عسکری عناصر دونوں ممالک کے تعلقات خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسلام آباد نے اس الزام کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی پالیسی افغانستان کے حوالے سے پوری ریاستی اتفاقِ رائے پر مبنی ہے، اور کسی قسم کی “سویلین و عسکری تقسیم” موجود نہیں۔

پاکستانی حکام کے مطابق، حکومت اور فوج دونوں کی مشترکہ پالیسی کا ہدف علاقائی امن ہے، جو اس شرط سے مشروط ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کو تحریکِ طالبان پاکستان، بلوچ لبریشن آرمی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے استعمال سے روکے۔

تجارتی تعلقات اور بارڈر بندش

ذبیح اللہ مجاہد نے 31 اکتوبر کو خیبر ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے طورخم اور چمن جیسے اہم تجارتی راستوں کی عارضی بندش نے دونوں ممالک کے تاجروں کو نقصان پہنچایا ہے، اور “تجارت کو سیاست کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔”

تاہم حکومتی ذرائع نے ہندوکش ٹریبیون نیٹ ورک کو بتایا کہ سرحدی بندشیں سیکورٹی وجوہات کی بنا پر کی گئیں، نہ کہ سیاسی مقاصد کے لیے۔ ذرائع کے مطابق، طورخم، غلام خان اور چمن پر سیکیورٹی الرٹس کے بعد آمد و رفت کو محدود کیا گیا تاکہ اسمگلنگ، غیر قانونی نقل و حرکت اور دہشت گردوں کی دراندازی کو روکا جا سکے۔

بڑھتے ہوئے حملے اور سرحدی خطرات

اعداد و شمار کے مطابق، 2021 کے بعد سے افغانستان کی سرزمین سے 1000 سے زائد سرحد پار حملے کیے گئے، جب کہ پاکستانی فورسز نے متعدد ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کے حملے ناکام بنائے۔ حال ہی میں، باجوڑ کے سرحدی علاقے ماموند میں دراندازی کی کوشش کے دوران کمانڈر قاری امجد تین ساتھیوں سمیت ہلاک ہوا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب استنبول میں پاکستان اور طالبان کے درمیان مذاکرات جاری تھے۔

تجارت اور پانی کا تنازع

سلامتی چیلنجز کے باوجود، پاکستان اب بھی افغانستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ مالی سال 2024–25 میں دوطرفہ تجارت 1.6 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ منظم بارڈر مینجمنٹ سے قانونی تجارت ممکن ہوتی ہے اور غیر قانونی سرگرمیوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب، کنڑ دریا ڈیم کے معاملے پر اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغانستان کو اپنے قدرتی وسائل کے استعمال کا خودمختار حق حاصل ہے، تاہم پاکستان کا مؤقف ہے کہ کابل کو اس حوالے سے شفافیت اور بین الاقوامی آبی معاہدوں کی پاسداری یقینی بنانی چاہیے، کیونکہ کنڑ دریا پاکستان کی زراعت اور آبی ضروریات کے لیے نہایت اہم ہے۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے طالبان کو متنبہ کیا ہے کہ “کابل پاکستان کے پانی کے حقوق کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔” انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے پاس “دباؤ ڈالنے کے متعدد ذرائع موجود ہیں،” اور طالبان “اپنی سوچ کا محض 100 فیصد حصہ بھی عملی جامہ نہیں پہنا سکیں گے۔”

“عمران خان کے دور کے خوشگوار تعلقات” – ایک متنازع دعویٰ

ذبیح اللہ مجاہد نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے دور کو “خوشگوار اور تعمیری” قرار دیا۔ تاہم پاکستانی حکام کے مطابق یہ تجزیہ انتہائی یک طرفہ ہے، کیونکہ 2021–22 کے دوران طالبان حکومت نے اسلام آباد کی نرمی کا فائدہ اٹھا کر کو افغانستان میں مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔

اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان پر ٹی ٹی پی کے حملے 2021 میں 573 سے بڑھ کر 2023 میں 1203 تک پہنچ گئے اور یہ رجحان 2024 میں بھی جاری ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ طالبان کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس نے ٹی ٹی پی رہنماؤں کو محفوظ ٹھکانے، سفری اجازت نامے اور اسلحہ لائسنس فراہم کیے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ جسے مجاہد “تعاون” قرار دے رہے ہیں، وہ دراصل اسلام آباد کا سفارتی ضبط و تحمل تھا، جس کا طالبان نے کوئی عملی جواب نہیں دیا۔ پاکستان اب بھی اس بات پر اصرار کر رہا ہے کہ کابل تحریری اور قابلِ تصدیق ضمانتیں دے کہ اس کی سرزمین پاکستان مخالف گروہوں کو پناہ نہیں دے گی۔

مذاکرات اور مستقبل کا لائحہ عمل

ترکی اور قطر کی ثالثی میں جاری پاکستان–افغانستان مذاکرات میں اسلام آباد کا مؤقف واضح ہے کہ پائیدار امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب وعدوں کو عملی اقدامات سے ثابت کیا جائے۔


ایک سینئر پاکستانی عہدیدار کے بقول، “امن صرف تب ممکن ہے جب الفاظ نہیں، بلکہ قابلِ تصدیق اقدامات کیے جائیں۔”

دیکھیں: افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاهد کے دعوے نے ترکی مذاکرات کے نتائج پر سوالات اٹھادیے

متعلقہ مضامین

سندھ طاس معاہدے کی بھارتی معطلی اور دریائے چناب پر زیرِ تعمیر رَٹل پن بجلی منصوبے کے ڈیزائن پر پاکستان کی آبی سلامتی سے متعلق سنگین خدشات پیدا ہوگئے۔

August 13, 2026

بنوں کے علاقے بخمالی پمپ کے قریب موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے چھٹی پر گھر آئے ایف سی اہلکار برہان کو فائرنگ کرکے شہید کردیا۔ واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن شروع کردیا۔

August 13, 2026

اقوام متحدہ کی 38ویں مانیٹرنگ رپورٹ میں افغانستان کو دہشت گرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ قرار دیا گیا۔ رپورٹ میں بی ایل اے کے داعش خراسان اور القاعدہ سے لاجسٹک و تربیتی روابط کا انکشاف بھی کیا گیا ہے۔

August 13, 2026

پی ٹی ایم ڈنمارک کی جانب سے غیر مصدقہ نوٹیفکیشن کی بنیاد پر نسلی پراپیگنڈا پھیلانے اور ریاستی اداروں کے خلاف خوف کی فضا قائم کرنے کی کوششیں بے نقاب ہو گئی ہیں۔

August 13, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *