امریکی ناکہ بندی کے باوجود پاکستانی بحری جہاز ‘شالامار’ خام تیل لے کر آبنائے ہرمز سے نکلنے میں کامیاب؛ کراچی کے لیے روانہ۔

April 17, 2026

ملا عمر کے قریبی ساتھی اور سینئر طالبان رہنما ملا معتصم آغاجان کی گرفتاری نے طالبان قیادت میں اندرونی اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے اور امن کوششوں کے لیے رابطے بڑھانے کے الزام میں قندھار میں حراست میں لیا گیا۔

April 17, 2026

بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد کا فیصل مسجد میں اہم خطاب؛ خطے میں امن کے قیام اور فتنوں کے خاتمے کے لیے وزیراعظم اور عاصم منیر کی کوششوں کو زبردست خراجِ تحسین۔

April 17, 2026

تہران میں تقریب، چینی سفیر کا ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی اور علاقائی امن کے لیے تعاون جاری رکھنے کا عزم۔

April 17, 2026

ہری پور کے حطار انڈسٹریل اسٹیٹ میں گیس پائپ لائن پھٹنے سے فیکٹری اور قریبی گھروں میں خوفناک آتشزدگی؛ خواتین و بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق، متعدد زخمی۔

April 17, 2026

امریکی جریدے ‘واشنگٹن ٹائمز’ نے آپریشن غضب للحق کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف انتہائی درست اور جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

April 17, 2026

افغان انٹیلی جنس کا کالعدم ٹی ٹی پی کو پاکستان میں داخلے کی اجازت دینے کا انکشاف

امارت اسلامی افغانستان کی مبینہ سہولت کاری کے ناقابل تردید شواہد سامنے آگئے۔
افغان انٹیلی جنس کا کالعدم ٹی ٹی پی کو پاکستان میں داخلے کی اجازت دینے کا انکشاف

پاکستانی ماہرین نے ایک مرتبہ پھر افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی دہشتگرد گروہ کے استعمال سے باز رکھے اور دوطرفہ سلامتی معاہدوں پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائے۔

November 4, 2025

امارتِ اسلامی افغانستان کی جانب سے پاکستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سہولت کاری کے ناقابل تردید شواہد سامنے آگئے ہیں۔ معتبر ذرائع کے مطابق افغان انٹیلی جنس کے ایک مبینہ خط نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ افغانستان کے بعض حکام نے ٹی ٹی پی کے ایک اہم رکن ابوبکر عرف عمر آفریدی اور اس کے 25 ساتھیوں کو پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں داخلے کے لیے ہدایات جاری کیں۔

ترک خبر رساں ادارے “ترکیہ اردو” نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ خط امارتِ اسلامی کے انٹیلی جنس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کیا گیا، جس میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو پاکستانی حدود میں داخل ہونے اور وہاں مخصوص کارروائیاں انجام دینے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ ایچ ٹی این کو ذرائع کے ذریعے موصول ہونے والے اسی خط نے اس دعوے کی مزید تصدیق کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ خط افغانستان کے شمالی صوبے کنڑ سے جاری ہوا، جس میں طالبان کمانڈرز کو ہدایت کی گئی کہ ابوبکر آفریدی اور اس کے ساتھیوں کو تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ بغیر کسی مزاحمت کے پاکستان کے قبائلی علاقوں تک پہنچ سکیں۔

پاکستانی سیکیورٹی ماہرین نے اس پیشرفت کو “انتہائی تشویشناک” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام افغانستان کی سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کے وعدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ ہفتوں میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے، خاص طور پر سرحد پار دہشتگردی، مہاجرین کی واپسی، اور باہمی اعتماد کے فقدان کے حوالے سے۔ اس کے بعد دوحہ اور استنبول میں ہونے والے مذاکرات کے باعث اس وقت جنگ بندی چل رہی ہے تاہم ایسے واقعات اس جنگ بندی اور آئندہ مذاکرات کیلئے انتہائی پریشان کن ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امارتِ اسلامی کے اندر ایسے عناصر واقعی کالعدم ٹی ٹی پی کی مدد کر رہے ہیں تو یہ نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ خود افغانستان کی سلامتی کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے خطے میں دہشتگردی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔

پاکستانی ماہرین نے ایک مرتبہ پھر افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی دہشتگرد گروہ کے استعمال سے باز رکھے اور دوطرفہ سلامتی معاہدوں پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائے۔

امارتِ اسلامی کی جانب سے اس خط کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

دیکھیں: افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاهد کے دعوے نے ترکی مذاکرات کے نتائج پر سوالات اٹھادیے

متعلقہ مضامین

امریکی ناکہ بندی کے باوجود پاکستانی بحری جہاز ‘شالامار’ خام تیل لے کر آبنائے ہرمز سے نکلنے میں کامیاب؛ کراچی کے لیے روانہ۔

April 17, 2026

ملا عمر کے قریبی ساتھی اور سینئر طالبان رہنما ملا معتصم آغاجان کی گرفتاری نے طالبان قیادت میں اندرونی اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے اور امن کوششوں کے لیے رابطے بڑھانے کے الزام میں قندھار میں حراست میں لیا گیا۔

April 17, 2026

بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد کا فیصل مسجد میں اہم خطاب؛ خطے میں امن کے قیام اور فتنوں کے خاتمے کے لیے وزیراعظم اور عاصم منیر کی کوششوں کو زبردست خراجِ تحسین۔

April 17, 2026

تہران میں تقریب، چینی سفیر کا ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی اور علاقائی امن کے لیے تعاون جاری رکھنے کا عزم۔

April 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *