حکام کے مطابق 7 ارب ڈالر کے توسیع شدہ فنڈ سہولت پروگرام کے تحت جون 2026 کیلئے زرمبادلہ ذخائر کا ہدف پہلے ہی 17.8 ارب ڈالر سے کم کر کے 17.5 ارب ڈالر کر دیا گیا تھا۔

April 5, 2026

گزشتہ چند برسوں میں افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان تعاون میں پیشرفت ہوئی ہے اور اب دونوں اطراف ایک “تعاون اور مواقع” پر مبنی بیانیہ تشکیل پا رہا ہے۔

April 5, 2026

حکام کے مطابق 2 اور 3 اپریل کی درمیانی شب غلام خان سیکٹر میں سرحدی چوکی پر حملے کی کوشش کو بھی ناکام بنا دیا گیا، جس میں 37 تک دہشتگرد ہلاک اور 80 سے زائد زخمی ہوئے۔

April 5, 2026

امریکی صدر نے کہا کہ منگل کا دن ایران کیلئے “پاور پلانٹ ڈے اور برج ڈے” ہوگا، جس کے دوران پاور پلانٹس اور پلوں کو بیک وقت نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

April 5, 2026

وہ ایک پوش علاقے میں رہتی ہیں لیکن اس کے باوجود گیس اور پانی جیسی بنیادی سہولیات میسر نہیں۔ ان کے مطابق بارش کے بعد سے گیس دستیاب نہیں جبکہ پانی ٹینکر کے ذریعے حاصل کرنا پڑتا ہے۔

April 5, 2026

یہ مہم تقریباً 300 کلومیٹر طویل تھی، جو شدید سردی اور برفانی طوفانی حالات میں ڈاگ سلیج کے ذریعے مکمل کی گئی۔ چیلنج کا آغاز سویڈن سے ہوا اور اختتام ناروے میں ہوا۔

April 5, 2026

ذبیح اللہ مجاہد کے دعوے گمراہ کن قرار، پاکستان نے مذاکرات کے حوالے سے اپنا مؤقف واضح کر دیا

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا حالیہ بیان، جس میں پاکستان کے مؤقف کو مسخ شدہ انداز میں پیش کیا گیا، دراصل ایک پرانا اور گمراہ کن پروپیگنڈا ہے جو بھارت کے تیار کردہ بیانیے سے مماثلت رکھتا ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد کے دعوے گمراہ کن قرار، پاکستان نے مذاکرات کے حوالے سے اپنا مؤقف واضح کر دیا

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانی دینے والا پاکستان اب صرف بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات چاہتا ہے۔

November 8, 2025

استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات ایک بار پھر ڈیڈلاک کا شکار ہوگئے، جس سے خطے میں امن و استحکام کی مشترکہ کوششوں کو شدید دھچکا پہنچا۔ ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات میں پاکستان نے سنجیدگی سے شرکت کی اور اپنا دوٹوک اور واضح مؤقف پیش کیا کہ اب زبانی یقین دہانیوں کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ پاکستان نے واضح کر دیا کہ تعاون صرف اسی وقت ممکن ہے جب تمام وعدے دوطرفہ، قابلِ پیمائش اور قابلِ نفاذ ہوں تاکہ دہشت گردی کے خاتمے کی کوششیں حقیقی نتائج دے سکیں۔

پاکستان کا بنیادی اور قانونی مطالبہ یہ تھا کہ افغان سرزمین سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کا خاتمہ کیا جائے، ان کے رہنماؤں کو پاکستان کے حوالے کیا جائے اور اس حوالے سے تحریری ضمانت فراہم کی جائے۔ یہ مطالبہ کسی ملک کی خودمختاری کے خلاف نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی اصولوں کے عین مطابق ہے۔ تاہم، افغان وفد نے حسبِ روایت آخری مرحلے پر ٹھوس اقدامات اٹھانے سے گریز کیا، جس کے باعث مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا حالیہ بیان، جس میں پاکستان کے مؤقف کو مسخ شدہ انداز میں پیش کیا گیا، دراصل ایک پرانا اور گمراہ کن پروپیگنڈا ہے جو بھارت کے تیار کردہ بیانیے سے مماثلت رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹی ٹی پی کی قیادت، تربیت اور مالیاتی نیٹ ورک اب بھی افغان سرزمین پر کھلے عام سرگرم ہیں، اور کابل انتظامیہ ان کے خلاف کسی عملی کارروائی سے گریزاں ہے۔

اگر افغان حکومت واقعی سمجھتی ہے کہ اس کی سرزمین دہشت گردوں سے پاک ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ ترکیہ، قطر یا کسی غیرجانبدار بین الاقوامی مبصر کے ساتھ مشترکہ مانیٹرنگ میکنزم پر رضامندی ظاہر کرے تاکہ زمینی حقائق سب کے سامنے آ سکیں۔ پاکستان کا مؤقف یہی ہے کہ شفافیت، تصدیق اور عمل ہی اعتماد سازی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

پاکستان نے ہمیشہ امن، بات چیت اور علاقائی تعاون کو ترجیح دی ہے۔ اس نے افغان عوام کے خلاف کبھی کوئی جارحانہ اقدام نہیں اٹھایا بلکہ گزشتہ چار دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دے کر برادرانہ تعلقات کو نبھایا۔ تاہم، پاکستان اپنے عوام کی سلامتی اور خودمختاری پر کسی قسم کے سمجھوتے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانی دینے والا پاکستان اب صرف بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات چاہتا ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف واضح ہے کہ امن صرف وعدوں سے نہیں بلکہ ان پر عمل درآمد سے ممکن ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ کابل اپنے وعدوں کو تحریری، قابلِ تصدیق اور عملی شکل دے۔

دیکھیں: پاک افغان مذاکرات کا اگلا دور کل استنبول میں ہوگا، دونوں ممالک کے انٹیلیجنس چیفس سربراہی کریں گے

متعلقہ مضامین

حکام کے مطابق 7 ارب ڈالر کے توسیع شدہ فنڈ سہولت پروگرام کے تحت جون 2026 کیلئے زرمبادلہ ذخائر کا ہدف پہلے ہی 17.8 ارب ڈالر سے کم کر کے 17.5 ارب ڈالر کر دیا گیا تھا۔

April 5, 2026

گزشتہ چند برسوں میں افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان تعاون میں پیشرفت ہوئی ہے اور اب دونوں اطراف ایک “تعاون اور مواقع” پر مبنی بیانیہ تشکیل پا رہا ہے۔

April 5, 2026

حکام کے مطابق 2 اور 3 اپریل کی درمیانی شب غلام خان سیکٹر میں سرحدی چوکی پر حملے کی کوشش کو بھی ناکام بنا دیا گیا، جس میں 37 تک دہشتگرد ہلاک اور 80 سے زائد زخمی ہوئے۔

April 5, 2026

امریکی صدر نے کہا کہ منگل کا دن ایران کیلئے “پاور پلانٹ ڈے اور برج ڈے” ہوگا، جس کے دوران پاور پلانٹس اور پلوں کو بیک وقت نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

April 5, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *