فتنہ الخوارج کے سربراہ نور ولی محسود کی کرم میں موجودگی کا دعویٰ جعلی ثابت، ویڈیو کا مقصد ناکامیوں پر پردہ ڈالنا ہے۔

August 5, 2026

لکی مروت کے علاقے کٹا خیل میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن 11 گرج میں افغان شہری سمیت 3 خوارج ہلاک ہو گئے۔

August 5, 2026

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کل سعودی عرب کا دو روزہ دورہ کریں گے، جہاں ولی عہد محمد بن سلمان سے اہم ملاقات متوقع ہے۔

August 5, 2026

امریکہ، ایران اور عمان 60 روز کے لیے آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری آمدورفت بحال کرنے کے عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

August 5, 2026

بھارت نے حسینہ واجد کے ورچوئل خطاب کو نجی تقریب قرار دے کر لاتعلقی کا اظہار کر دیا، جس پر طالبان اور بھارتی بیانیے کی مماثؒت پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

August 5, 2026

پاکستان مخالف بیانیے کے پیچھے بیرونی فنڈنگ، جنیوا اجلاس سے متعلق مبینہ خطوط اور پراکسی نظام کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

August 5, 2026

مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم: تمام افواج کو ایک متحد کمانڈ کے تحت لانے کا فیصلہ

مجوزہ ترمیم کا بنیادی مقصد پاکستان میں ایک مربوط، کثیرالجہتی اور ہم آہنگ دفاعی حکمت عملی قائم کرنا ہے جو زمینی، فضائی، بحری، سائبر اور خلائی جہات کو بیک وقت کور کرے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم پاکستان کے دفاعی ڈھانچے میں تاریخی تبدیلی ثابت ہوگی اور ایک متحد اور ہم آہنگ قومی کمانڈ کے قیام کی طرف اہم قدم ہے۔

November 8, 2025

ستائیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے پاکستان کی فوجی قیادت کے ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں لانے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ حکومت نے آئین کے آرٹیکل 243 میں ترامیم کے ذریعے چیف آف ڈیفنس فورسز یا کمانڈر آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ قائم کرنے کی تجویز دی ہے جو بری، بحری اور فضائی افواج کو ایک متحد کمانڈ کے تحت لائے گا۔ موجودہ آرمی چیف اس عہدے کے ساتھ خدمات انجام دے گا جبکہ فیلڈ مارشل کا رینک اور مراعات تاحیات برقرار رہیں گی اور انہیں صرف صدارتی مواخذے کے ذریعے ہٹایا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ آرٹیکل 243 میں اسٹریٹجک فورسز کے کمانڈر کی تقرری کا طریقہ کار بھی واضح کیا جائے گا۔

وفاقی کابینہ نے27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دےدی،27ویں ترمیم کا مسودہ سینیٹ میں پیش کیاجائےگا۔

ستائیسویں آئینی ترمیم کےمسودے پرغور کےلیے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا،دورہ آذربائیجان پر موجود وزیراعظم شہباز شریف نے باکو سے ویڈیو لنک پر اجلاس کی صدارت کی۔

وفاقی کابینہ کےاجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف، مصدق ملک، رانا ثنا اللّٰہ، ریاض حسین پیرزادہ، عون چوہدری، شزرہ منصب اور قیصر احمد شیخ شریک تھے۔ اس کے علاوہ وزیر قانون اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شریک ہوئے۔

مجوزہ ترمیم کا بنیادی مقصد پاکستان میں ایک مربوط، کثیرالجہتی اور ہم آہنگ دفاعی حکمت عملی قائم کرنا ہے جو زمینی، فضائی، بحری، سائبر اور خلائی جہات کو بیک وقت کور کرے۔ پاکستان میں زمینی حکمت عملی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے کیونکہ مشرقی سرحد پر بھارت کی ہندو توا پر مبنی انتہا پسندی اور اکھنڈ بھارت کے عزائم مسلسل خطرہ ہیں جبکہ مغربی سرحد پر خوارج اور بھارتی سرپرستی یافتہ نیٹ ورکس کے ذریعے پیدا ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ دو دہائیوں سے جاری ہے۔ جدید جنگ کے تقاضوں کے مطابق سائبر، انفارمیشن، اسپیس اور الیکٹرانک جہات کو بھی یکجا کرنا ضروری ہو گیا ہے تاکہ تمام افواج مؤثر طریقے سے کام کر سکیں۔

موجودہ نظام میں ہر فورس کی علیحدہ حکمت عملی کی وجہ سے ہم آہنگی میں مشکلات ہیں اور غیر ضروری متوازی ڈھانچے، لاجسٹک اور انفراسٹرکچر کے اضافی نظام بھی فوجی استعداد کو کمزور کرتے ہیں۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کے قیام سے یہ خلا ختم ہوگا اور قومی سطح پر دفاعی فیصلوں اور جنگی منصوبہ بندی میں ایک واضح سلسلہ اختیار قائم ہو گا۔ یہ اقدام افواج پاکستان کی داخلی کارکردگی اور مؤثریت میں اضافہ کرے گا اور غیر ضروری متوازی ڈھانچوں میں کمی کے ذریعے فوجی وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے گا۔

اسٹریٹجک فورسز کے علیحدہ کمانڈر کی تقرری کا مقصد پاکستان کے نیوکلیئر کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو مزید مضبوط اور مربوط بنانا ہے۔ یہ اقدام دنیا کی دیگر ایٹمی قوتوں کے ماڈل کے مطابق ہوگا اور عوامی یا سیاسی بحث کا حصہ نہیں ہونا چاہیے۔ فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر یا ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدے صرف فوجی رینکس ہیں جو عمومی طور پر تاحیات رہتے ہیں جب تک قانونی یا انتظامی طریقہ کار کے تحت واپس نہ لیے جائیں۔ مجوزہ ترمیم میں محض اس قانونی طریقہ کار کی وضاحت شامل کی گئی ہے تاکہ آئندہ کوئی ابہام باقی نہ رہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم پاکستان کے دفاعی ڈھانچے میں تاریخی تبدیلی ثابت ہوگی اور ایک متحد اور ہم آہنگ قومی کمانڈ کے قیام کی طرف اہم قدم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات میں شفافیت، پارلیمانی اتفاق رائے اور سول ملٹری ہم آہنگی ضروری ہے تاکہ اصلاحات ملکی سلامتی کے ساتھ جمہوری توازن کو بھی برقرار رکھ سکیں۔

دیکھیں: افغان میڈیا کے دعوے بے بنیاد، پاکستان ”دراندازی نامنظور” کے یک نکاتی ایجنڈے پر قائم

متعلقہ مضامین

فتنہ الخوارج کے سربراہ نور ولی محسود کی کرم میں موجودگی کا دعویٰ جعلی ثابت، ویڈیو کا مقصد ناکامیوں پر پردہ ڈالنا ہے۔

August 5, 2026

لکی مروت کے علاقے کٹا خیل میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن 11 گرج میں افغان شہری سمیت 3 خوارج ہلاک ہو گئے۔

August 5, 2026

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کل سعودی عرب کا دو روزہ دورہ کریں گے، جہاں ولی عہد محمد بن سلمان سے اہم ملاقات متوقع ہے۔

August 5, 2026

امریکہ، ایران اور عمان 60 روز کے لیے آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری آمدورفت بحال کرنے کے عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

August 5, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *