ریاض میں جاری اسلامی یکجہتی کھیل 2025 میں پاکستان نے ایتھلیٹکس کے میدان میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ جیوویلن تھرو کے فائنل میں قومی ہیرو اور اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم نے 83.05 میٹر کے بہترین تھرو کے ساتھ سونے کا تمغہ جیت کر ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ عالمی معیار کے صفِ اول کے ایتھلیٹ ہیں۔
دوسری جانب نوجوان تھروئر یاسر سلطان نے اپنے ڈیبیو ایونٹ میں 76.04 میٹر کی شاندار کوشش کے ساتھ چاندی کا تمغہ جیت کر سب کو حیران کر دیا۔ پاکستان کی یہ تاریخی فتح نہ صرف میڈل ٹیبل میں اضافہ ہے بلکہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ ملک میں جیوویلن کی نئی نسل بھرپور انداز میں ابھر رہی ہے۔
پرنس فیصل بن فہد اسٹیڈیم میں ہونے والے فائنل میں دونوں پاکستانی ایتھلیٹس نے سات مضبوط حریفوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پوڈیم پر سبز ہلالی پرچم بلند کیا۔ ارشد کا جیت کا تھرو ان کی دوسری کوشش میں آیا، جو دباؤ میں ان کے اعتماد اور تجربے کو نمایاں کرتا ہے۔ یاسر نے اپنی چھٹی کوشش میں نائجیریا کے سیموئیل ایڈمز کیوری کو صرف 3 سینٹی میٹر سے پیچھے چھوڑ کر تاریخ رقم کی۔
پاکستان ایتھلیٹکس فیڈریشن اور پاکستان اولمپک کمیٹی نے اس کارنامے کو قوم کے لیے “بڑی فتح” قرار دیا، جبکہ مختلف قومی شخصیات نے ارشد اور یاسر کی اس کامیابی کو پاکستان کھیلوں کے لیے ایک روشن سنگِ میل قرار دیا۔ یہ شاندار کارکردگی نہ صرف آج کا فخر ہے بلکہ مستقبلِ قریب میں عالمی مقابلوں کے لیے امید کا نیا دروازہ بھی کھولتی ہے۔
دیکھیں: اسلام آباد: خودکش حملے میں 12 افراد شہید، وزیرِ داخلہ کا سخت انتباہ