افغانستان میں حالیہ ہفتوں کے دوران ایک اہم اور غیر معمولی پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے طالبان کے مذہبی اختیار، سیاسی حکمتِ عملی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق قندھار میں طالبان کے اعلیٰ ترین رہنماؤں نے امیرِ طالبان ملا ہبتاللہ اخوندزادہ کی سربراہی میں ایک اہم نشست میں پاکستان میں جاری جنگ اور تحریک طالبان پاکستان کی کارروائیوں کے حوالے سے ’’فتویٰ‘‘ جاری کرنے کے امکان پر غور کیا۔ افغان اور علاقائی ذرائع کے مطابق اس فتویٰ کو پاکستان کی جانب سے طالبان حکومت کی باضابطہ تسلیم شدگی سے مشروط کیا گیا ہے۔
یہ دعویٰ سب سے پہلے افغان نژاد محقق نعمتالله ابراهیمی نے افغانستان انٹرنیشنل کے ساتھ اپنی ایک گفتگو میں کیا، جو یونیورسٹی آف میلبورن میں سینئر ریسرچر ہیں۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت طالبان کے اندرونی ڈھانچے میں جاری سیاسی و مذہبی رسہ کشی کی عکاسی کرتی ہے، جہاں مذہب کو بطور سیاسی آلہ استعمال کرنے کی روایت مزید مضبوط ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
مقامات ارشد طالبان در یک نشست مشترک با ملا هبتالله در قندهار درباره صدور فتوا علیه جنگ در پاکستان گفتوگو کردند. در این نشست مطرح شده که صدور فتوا به شرط بهرسمیت شناسی رژیم طالبان از سوی اسلامآباد صورت گیرد.
— افغانستان اینترنشنال (@AFIntlBrk) November 20, 2025
گفتوگو با نعمتالله ابراهیمی، پژوهشگر ارشد در دانشگاه ملبورن pic.twitter.com/1R29tNlnKS
اس انکشاف نے پورے خطے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا طالبان مذہبی احکامات کو اپنی خارجہ پالیسی کے اوزار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں؟
فتویٰ-شرط یا سودے بازی؟
طالبان کی حکومت اور پاکستانی حکام کے تعلقات گزشتہ دو برس سے کشیدگی کا شکار ہیں۔ پاکستان متعدد مرتبہ کابل پر الزام عائد کر چکا ہے کہ افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی کے حملے منظم کیے جاتے ہیں۔ دوسری طرف طالبان قیادت بارہا کہہ چکی ہے کہ وہ پاکستانی جنگ کو ’’اندرونی مسئلہ‘‘ سمجھتی ہے۔
تاہم قندھار کی حالیہ ملاقات میں پہلی مرتبہ یہ امکان زیرِ بحث آیا کہ افغانستان کی مذہبی قیادت پاکستان میں جنگ کو ’’غیر شرعی‘‘ قرار دینے پر آمادہ ہو سکتی ہے مگر اس شرط پر کہ پاکستان طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے۔
اس سے قبل افغان نائب وزیر خارجہ رحمت اللہ نجیب یہ دعوی کر چکے ہیں کہ پاکستان نے استنبول مذاکرات کے دوران افغانستان سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ ٹی ٹی پی کی پاکستان کے خلاف لڑائی کو غیر شرعی اور حرام قرار دینے کا فتویٰ جاری کرے۔
کابل میں ایک پریس بریفنگ کے دوران افغان طالبان کے نائب وزیر داخلہ رحمت اللہ نجیب نے کہا کہ حالیہ مذاکرات میں طالبان حکام نے پاکستان کو پیشکش کی کہ اگر پاکستان ٹی ٹی پی کو "اچھا اور سیاسی" مانتا ہے تو انہیں افغانستان واپس لایا جا سکتا ہے، لیکن اگر انہیں دہشت گرد سمجھا جاتا ہے تو… pic.twitter.com/eC76fhXhGL
— HTN Urdu (@htnurdu) November 12, 2025
یہ شرط اس بحث کو مزید حساس بنا دیتی ہے کہ کیا طالبان مذہبی فتاویٰ کو خارجہ پالیسی کے سودے بازی کے آلات کے طور پر استعمال کر رہے ہیں؟
مذہبی احکامات یا سیاسی مصلحت؟
طالبان کی ’’فتویٰ پالیسی‘‘ مذہب کے تقدس کو براہِ راست سیاسی مفادات سے جوڑتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر کوئی جنگ شرعی ہے یا نہیں، یہ فیصلہ کسی ریاست کی جانب سے تسلیم کیے جانے سے مشروط نہیں ہونا چاہیے۔ ناقدین کے مطابق اگر طالبان پاکستان کی جانب سے اعترافِ ریاستی حیثیت کے بدلے ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کو غیر شرعی قرار دینے پر آمادہ ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مذہب ان کے لیے محض ایک سیاسی ہتھیار ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان پر یہ الزام کوئی نیا نہیں۔ ماضی میں بھی مختلف افغان دھڑوں نے مذہبی تشریحات کو اپنے عسکری، سیاسی اور اقتصادی مفادات کے مطابق ڈھالا۔ ناقدین کے مطابق طالبان نے کئی بار مذہب کو اپنی پالیسیوں کیلئے ڈھال بنایا خواہ وہ جہاد کی تعریف ہو، مخالفین کا قتل ہو، خواتین کی تعلیم کا مسئلہ ہو یا بین الاقوامی قوانین کی تعبیر۔
اسی پس منظر میں تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہی طالبان، جو خودکش حملوں، سرقلمی، زبردستی شادیاں، اسمگلنگ اور بھتہ خوری جیسے امور کے لیے مذہبی جواز فراہم کرتے رہے، اب پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے ’’فتویٰ‘‘ کو سودے بازی کے طور پر استعمال کرنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔
پاک-افغان تعلقات پر ممکنہ اثرات
ماہرین کے مطابق اگر طالبان واقعی پاکستان کے دباؤ یا تسلیم شدگی کے بدلے ’’فتویٰ‘‘ جاری کرتے ہیں، تو یہ نہ صرف ٹی ٹی پی کے مستقبل بلکہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بھی بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک سفارتی کامیابی ہو سکتی ہے، مگر طالبان کی داخلی سیاست میں اس کے شدید اثرات مرتب ہوں گے، جہاں بعض دھڑے پہلے ہی پاکستان کے خلاف سخت مؤقف رکھتے ہیں۔
فی الحال دونوں ممالک میں اس پیش رفت پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، مگر خطے کے مبصرین اسے مستقبل کے ممکنہ بدلتے ہوئے سیاسی و مذہبی توازن کا اہم اشارہ قرار دے رہے ہیں۔
دیکھیں: طالبان کا بھارت کی جانب رُخ: وقتی فائدہ اور دیرپا نقصانات