پشاور: پاکستان نے افغان کرکٹ بلکہ بیس بال کی قومی ٹیم کی میزبانی اور تربیت کے لیے ہوم گراؤنڈ کا کردار ادا کیا ہے، جہاں محدود وسائل کے باوجود کھلاڑی بین الاقوامی مقابلوں کی تیاری کر رہے ہیں۔
افغان بیس بال ٹیم کی تشکیل کا سفر 2023 میں سری لنکا میں ہونے والے ویسٹ ایشیا کپ سے شروع ہوا، جب سید امین آفریدی کو معلوم ہوا کہ افغانستان کی ٹیم بین الاقوامی فیڈریشن میں صرف نام کی حد تک رجسٹرڈ ہے۔ اس کے بعد سید امین نے ضلع خیبر اور پشاور میں افغان پناہ گزینوں کے ٹرائلز منعقد کر کے افغان ٹیم بنانے کا فیصلہ کیا اور جمرود بیس بال اکیڈمی میں ٹرائلز کے ذریعے 18 رکنی قومی ٹیم تشکیل دے دی گئی۔
پاکستان میں افغان بیس بال ٹیم کا کیمپ قائم ہونے کی بنیادی وجہ یہاں دستیاب سہولیات کا ہونا ہے۔ خیبر پختونخوا کے کھلے میدانوں میں پاکستان کی قومی بیس بال ٹیم کے تقریباً 60 فیصد کھلاڑی بھی اسی اکیڈمی میں پریکٹس کرتے ہیں۔ افغان کھلاڑی معاشی مسائل کے باوجود لنڈا بازار سے سامان خرید کر کھیلتے ہیں اور اس ٹیم نے 2025 میں دبئی اور ایران میں منعقدہ بین الاقوامی مقابلوں میں افغانستان کی نمائندگی بھی کی ہے۔
تاہم، پاکستان سے افغان پناہ گزینوں کے انخلا کا سلسلہ اس ٹیم کے مستقبل کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ کوچ سید امین کے مطابق، اگر ان کھلاڑیوں کو یہاں سے واپس جانا پڑا تو انہیں افغانستان میں ایسی تربیتی سہولیات اور میدان میسر نہیں ہوں گے۔ افغان ٹیم کے کپتان عبدالغفور شنواری کے مطابق، وہ پچھلے چھ سات سال سے بغیر کسی معاوضے اور تنخواہ کے ملک کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ کھلاڑیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح کرکٹ ٹیم کو سہولیات دی گئیں، اسی طرح بیس بال ٹیم کی بھی مالی اور تکنیکی معاونت کی جائے۔
دیکھئیے:قوم کی بقا خطرے میں ہے: عبدالرشید دوستم کی تاجک، ہزارہ اور ازبک قوموں سے بیدار ہونے کی اپیل