ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی، جو اس وقت چین کے اہم سرکاری دورے پر بیجنگ میں موجود ہیں، نے وہاں سے سعودی عرب کے اپنے ہم منصب کے ساتھ ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔ اس اہم کال کے دوران دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی ہوئی جیوپولیٹیکل صورتحال اور علاقائی امن و استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
علاقائی استحکام کی کوششیں
سفارتی ماہرین کے مطابق بیجنگ کی موجودگی میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان یہ حالیہ رابطہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک کلیدی قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ اور ایسے میں تہران اور ریاض کے درمیان براہِ راست مشاورت امن کی راہ ہموار کرنے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
Iran's Foreign Minister Araghchi, who is currently in China, held a phone call with Foreign Minister of Saudi Arabia to discuss the regional situation. https://t.co/7WS5BcCXKc pic.twitter.com/Si4msP3rYV
— Iftikhar Firdous (@IftikharFirdous) May 6, 2026
جیوپولیٹیکل تناظر
یہ رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطہ مختلف چیلنجز سے نبرد آزما ہے اور عالمی طاقتیں مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کے لیے کوشاں ہیں۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ علاقائی مسائل کا حل مسلسل مکالمے اور سفارتی ذرائع سے ہی ممکن ہے۔ ماہرین اس رابطے کو ایران اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی تعاون اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔