افغانستان کے سرحدی علاقوں میں گزشتہ رات ایک بار پھر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق برمل، مغلائی (پکتیکا) اور اسد آباد (کنڑ) میں زوردار دھماکے ہوئے جن میں ایک گاڑی اور قریبی حجرہ بھی متاثر ہوا، جبکہ ہلاکتوں کی غیر مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ افغان حکام نے ابتدائی بیان میں ان دھماکوں کا الزام پاکستان پر لگایا ہے، تاہم اس کی آزاد ذرائع سے کوئی تصدیق نہیں ہو سکی اور اسلام آباد کی جانب سے بھی کوئی سرکاری موقف سامنے نہیں آیا۔
برمل کا خطہ عرصۂ دراز سے جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیوں کے باعث حساس سمجھا جاتا ہے۔ 2022 میں اسی علاقے میں جماعت الاحرار کا امیر عمر خالد خراسانی ایک بم دھماکے میں مارا گیا تھا۔ گزشتہ روز پشاور میں ایف سی اہلکاروں پر حملے کی ذمہ داری بھی جماعت الاحرار نے قبول کی تھی، جس نے سرحدی سکیورٹی خدشات ایک بار پھر بڑھا دیے۔
سرحدی بیلٹ خصوصاً خوست، برمل، پکتیکا اور کنڑ کو اقوامِ متحدہ کی 2023–24 کی مانیٹرنگ ٹیم نے اپنی سلسلہ وار رپورٹس میں ٹی ٹی پی کے ”ٹرانزٹ اور فیسلیٹیشن زون“ کے طور پر ظاہر کیا ہے، جہاں محفوظ ٹھکانوں، اسلحہ نقل و حمل اور تربیتی سرگرمیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ افغان حکومت اگرچہ ان رپورٹس کو مسترد کرتی ہے، لیکن اب تک کوئی متبادل شواہد بھی فراہم نہیں کر سکی۔
گزشتہ تین برسوں میں پاکستان کے سرحدی اضلاع جن میں خیبر، شمالی وزیرستان، لکی مروت اور بنوں شامل ہیں، کو افغان سرزمین سے ہونے والی 1000 سے زائد حملوں کا سامنا رہا ہے۔ ہر بار پاکستان نے کابل سے مشترکہ بارڈر میکانزم، معلومات کے تبادلے اور آزادانہ تصدیقی ٹیموں کی تجویز دی، مگر یہ عملی مرحلے تک نہ پہنچ سکی۔ مشاہدہ یہ بھی رہا ہے کہ جب بھی سرحدی علاقوں میں کسی مشتبہ ہدف پر دھماکا ہوتا ہے، کابل یک دم ”شہری ہلاکتوں“ کے بیانیے کو نمایاں کر دیتا ہے، جب کہ زمینی حقائق اس بیانیے کی تصدیق نہیں کرتے۔
عینی شاہدین کے مطابق گزشتہ رات کے دھماکوں کے بعد فوری طور پر عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت بھی دیکھی گئی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ متاثرہ علاقے میں پہلے سے موجود گروہوں نے ہنگامی سرگرمیاں کیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار اپنے مراکز ایسے دیہی گھروں یا مہمان خانوں کے اندر قائم کرتے ہیں جہاں عام شہری بھی موجود ہوتے ہیں، جس سے کسی بھی واقعے کے بعد بیانیہ فوری طور پر ”سویلین“ کے گرد گھومنے لگتا ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد کے تازہ الزام کے برعکس فی الحال کسی فریق نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ سکیورٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ سرحد پار موجود دہشت گرد گروہ افغانستان کے امن کے لیے بھی اتنے ہی خطرناک ہیں جتنے پاکستان کے لیے، اور ان کی مسلسل موجودگی خطے میں کسی دیرپا استحکام کی راہ میں بنیادی رکاوٹ ہے۔
مزید تفصیلات موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔
دیکھیں: عالمی سمپوزیم رپورٹ میں افغانستان میں صحافتی آزادی کی 550 سے زائد خلاف ورزیوں کی نشاندہی