افغان طالبان کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ خیبر پختونخوا کے علاقہ جبار میلہ میں نامعلوم ڈرونز نے داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے اور ساتھ ہی متعدد داعش کمانڈروں کی موجودگی کا بھی ذکر کیا ہے۔ تاہم مقامی رہائشیوں اور سیکیورٹی حکام نے ان تمام دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے۔
مقامی افراد کی تردید
تفصیلات کے مطابق ضلع خیبر کے مقامی لوگوں نے ایچ ٹی این کو بتایا کہ افغان سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مذکورہ اطلاعات پر بے بنیاد اور گمراہ کُن ہیں۔ نہ تو علاقے میں کسی ڈرون حملہ کیا گیا ہے اور نہ ہی عبدالحکیم توحیدی، گل نظام، صادق یار سمیت دیگر داعش کمانڈروں کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔
فیکٹ چیک|
— HTN Urdu (@htnurdu) November 27, 2025
خیبر ڈسٹرکٹ کے مقامی رہائشیوں نے ایچ ٹی این کو بتایا کہ افغان سوشل میڈیا پر علاقے میں دا ع ش کے کیمپ پر ڈرون حملے کی اطلاعات بالکل غلط ہیں۔ مزید یہ کہ اہم د ا عش کمانڈر عبدالحکیم توحیدی، گل نظام، صادق یار اور دیگر کے خیبر میں موجود ہونے کی خبریں بھی درست نہیں؛ جبکہ… pic.twitter.com/5HysR8uJmR
دیکھا جائے تو اقوامِ متحدہ نے بھی داعش کے کیمپوں کی افغانستان میں موجودگی کا بتایا ہے، پاکستان میں نہیں جبکہ دعوے اسکے برعکس کیے جارہے ہیں۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق افغان طالبان حلقوں کی جانب سے پھیلائی جانے والی مذکورہ اطلاعات ایک منظم مہم کا حصہ ہیں جو پہلے بلوچستان اور اب خیبر تک پھیل رہی ہے۔ ان کا واضح مقصد افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان کے گروہوں اور ٹھکانوں سے توجہ ہٹانا اور علاقائی صورتِ حال کو مزید گھمبیر کرنا ہے۔
وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی ایرانی سیکریٹری علی لاریجانی سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق