اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے جدید کاروباری ماڈل اور عالمی منڈیوں میں شراکت انتہائی ضروری ہیں۔ پاکستان بزنس کونسل کے زیر اہتمام ڈائیلاگ آن دی اکانومی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی معیشت کے کنارے کھڑے ہو کر ترقی نہیں کر سکتا بلکہ اسے اپنے معاشی انتظام میں بنیادی تبدیلیاں لانی ہوں گی۔
مہنگائی میں کمی اور استحکام
گورنر آف اسٹیٹ بینک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی میں کمی انکے اندازے کے مطابق رہی ہے اور امید ہے کہ آئندہ یہ 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے دائرے میں رہے گی۔ انہوں نے زیرِ نظر چیزوں کی جانب اشارہ کیا ہے جن میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر 2.9 ارب ڈالر سے بڑھ کر 14.5 ارب ڈالر تک جا پہنچے ہیں، بیرونی قرضے اور جی ڈی پی کا تناسب 31% سے گر کر 26% پر آ گیا ہے، 2022 کے بعد سے سرکاری شعبے کا بیرونی قرض تقریباً کنٹرول میں ہے جو مالی نظم و ضبط کی عکاسی کرتا ہے۔
کاروباری حلقوں کے نام پیغام
گورنر اسٹیٹ بینک نے کاروباری حلقوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر نجی شعبے صرف فوری منافع کے حصول تک محدود رہے تو پاکستان طویل مدتی ترقی سے محروم رہ جائے گا۔
انہوں نے تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری اداروں کو نئی عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنی ہوگی مصنوعات کو بین الاقوامی معیار پر پہنچانا ہوگا، جدید ٹیکنالوجی اور اختراع میں سرمایہ کاری بڑھانی ہوگی، عارضی فوائد کے بجائے پائیدار مسابقت پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔
حکومتی کارکردگی
جمیل احمد کے مطابق مشکلات کے باوجود گزشتہ تین سالوں میں حکومت نے مالی نظم و ضبط کے اہداف نہ صرف حاصل کیے بلکہ متعدد شعبوں میں ہدف سے بڑھ کر کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے بہتر نتائج دکھائے۔