مستحکم معیشت اور جدید کاروباری حکمت عملی اپنانا ضروری ہے، گورنر اسٹیٹ بینک

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی پائیدار ترقی کے لیے طویل مدتی اصلاحات، جدید کاروباری ماڈل اور عالمی منڈیوں تک رسائی ناگزیر ہے
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی پائیدار ترقی کے لیے طویل مدتی اصلاحات، جدید کاروباری ماڈل اور عالمی منڈیوں تک رسائی ناگزیر ہے

انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری اداروں کو فوری منافع کے بجائے عالمی معیار کی طرف توجہ دینی چاہیے

November 27, 2025

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے جدید کاروباری ماڈل اور عالمی منڈیوں میں شراکت انتہائی ضروری ہیں۔ پاکستان بزنس کونسل کے زیر اہتمام ڈائیلاگ آن دی اکانومی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی معیشت کے کنارے کھڑے ہو کر ترقی نہیں کر سکتا بلکہ اسے اپنے معاشی انتظام میں بنیادی تبدیلیاں لانی ہوں گی۔

مہنگائی میں کمی اور استحکام

گورنر آف اسٹیٹ بینک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی میں کمی انکے اندازے کے مطابق رہی ہے اور امید ہے کہ آئندہ یہ 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے دائرے میں رہے گی۔ انہوں نے زیرِ نظر چیزوں کی جانب اشارہ کیا ہے جن میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر 2.9 ارب ڈالر سے بڑھ کر 14.5 ارب ڈالر تک جا پہنچے ہیں، بیرونی قرضے اور جی ڈی پی کا تناسب 31% سے گر کر 26% پر آ گیا ہے، 2022 کے بعد سے سرکاری شعبے کا بیرونی قرض تقریباً کنٹرول میں ہے جو مالی نظم و ضبط کی عکاسی کرتا ہے۔

کاروباری حلقوں کے نام پیغام

گورنر اسٹیٹ بینک نے کاروباری حلقوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر نجی شعبے صرف فوری منافع کے حصول تک محدود رہے تو پاکستان طویل مدتی ترقی سے محروم رہ جائے گا۔
انہوں نے تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری اداروں کو نئی عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنی ہوگی مصنوعات کو بین الاقوامی معیار پر پہنچانا ہوگا، جدید ٹیکنالوجی اور اختراع میں سرمایہ کاری بڑھانی ہوگی، عارضی فوائد کے بجائے پائیدار مسابقت پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔

حکومتی کارکردگی
جمیل احمد کے مطابق مشکلات کے باوجود گزشتہ تین سالوں میں حکومت نے مالی نظم و ضبط کے اہداف نہ صرف حاصل کیے بلکہ متعدد شعبوں میں ہدف سے بڑھ کر کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے بہتر نتائج دکھائے۔

متعلقہ مضامین

محسن نقوی نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا قبضہ ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے 5 اسٹار ہوٹل میں تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا۔

November 4, 2026

افغانستان میں شدید غذائی قلت اور صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ پر اوچا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت کی ترجیحات اور امدادی فنڈز کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

November 4, 2026

مکہ مکرمہ میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی، جبکہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے ملزمان کے حق میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن افواہوں کو رد کر دیا گیا۔

November 4, 2026

طلبہ سیاست سے عسکریت پسندی تک کا سفر طے کرنے والے بشیر زیب کون ہیں، جنہیں کالعدم بی ایل اے نے سربراہی کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *