اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے تازہ ترین رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکام کی جانب سے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تصدیق کرتے ہوئے ریاستی جبر، اظہارِ رائے پر پابندیوں اور جبری حراستوں کے واقعات کو دستاویزی شکل میں پیش کیے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق جموں کشمیر میں مسلمانوں سمیت اقلیتی گروہوں کے خلاف جاری بھارتی اقدامات بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں حالیہ مہینوں کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کے روز گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ دستاویز بھارت کی جانب سے کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ کشمیری عوام پر عائد ناجائز پابندیوں کے خاتمے اور تمام قیدیوں کی فوری رہائی کے لیے دباؤ ڈالے۔
جبکہ دوسر جانب بھارت کی وزارتِ خارجہ نے مذکورہ رپورٹ کو غیر معتبر قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ بھارتی ترجمان کے مطابق یہ رپورٹ حقیقی صورتحال کی عکاسی نہیں کرتی اور کشمیر میں امن و ترقی کے لیے بھارتی حکومت کی کوششوں کو نظرانداز کرتی ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ کشمیر میں صورت حال عالمی امن کے لیے ایک مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہم دونوں ممالک سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔